جمعرات _8 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1129
عقیقہ میں جانور ذبح کرنے کے بجائے اس رقم کو کسی ضرورت مند کو دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
عقیقہ میں اصل جانور ذبح مقصود ہے اسی وجہ سے عقیقہ میں جانور کو ذبح کرنا سنت اور افضل عمل ہے. ہاں اگر کوئی شخص جانور ذبح کرنے کے بجائے کسی سخت ضرورت کی بنا پر وہ رقم کسی فقیر یا مسکین کو بطور صدقہ دینا چاہیے تو دے سکتا ہے. لیکن اس طرح قیمت صدقہ کرنے سے عقیقہ کی سنت ادا نہیں ہوگی
وقال الامام النووي رحمة الله عليه : فِعْلُ العَقِيقَةِ أفْضَلُ مِن التَّصَدُّقِ بِثَمَنِها عِنْدَنا (المجموع: ٨/٤٣٣)
النجم الوهاج:٥٢٧/٩ تحفة المحتاج :٣٦٩/٩ حاشية الجمل: ٥/٢٦٤ نهاية المحتاج :٨/١٤٥
بدھ _7 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
بدھ _7 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1128
اگر کوئی نماز پڑھتے ہوئے گر جائے تو اس نماز کا کیا مسئلہ ہے؟کیا نماز ہوجائے گی یا دوبارہ پڑھنا ہوگا؟
نماز میں قبلہ رخ ہونا شرط ہے، اگر کوئی نماز کے دوران گرجائے یا سواری پر نماز کے دوران سواری کے حرکت سے سینہ قبلہ سے ہٹ جائے پھر گرنے والا فورا اٹھ جائے اور سینہ قبلہ رخ کرے تو نماز پر کوئی فرق نہیں پڑھے گا یعنی نماز درست ہوجائے گی البتہ اخیر میں سجدہ سہو کرنا ہوگا۔ ہاں اگر گرنے سے سینہ قبلہ سے ہٹ جائے اور فورا اٹھنا ممکن نہ ہو یا سواری پر نماز ادا کرنے والا اپنا رخ قبلہ کی طرف نہ کرے تو پھر نماز فاسد ہوجائے گی.
إذا انْحَرَفَ ناسِيًا أوْ جاهِلًا، أوْ لِغَلَبَةِ الدّابَّةِ فَلا بُطْلانَ إنْ عادَ عَنْ قُرْبٍ (تحفة المحتاج: ١/٤٩١)
ولو انحرف عن صوب طريقه لا إلى القبلة.. بطلت صلاته إن علم وتعمد واختار، وإلاَّ بأن انحرف جاهلًا أو ناسيًا أو لغلبة دابته.. فلا إن عاد عن قرب، ويسجد للسهو إلا في النسيان عند (حج)، فهو مستثنا من قاعدة: (ما أبطل عمده يسجد لسهوه) (شرح المقدمة الحضرمية :١/٢٦٧)
روضة الطالبين:٢/٦٠ *حاشية الشبراملسي مع نهاية ١/٤٤٨
منگل _6 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
منگل _6 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1127
قرآن کی تلاوت میں مصروف شخص کے لئے اپنی تلاوت کو روک کر سلام کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
تلاوت میں مصروف شخص تلاوت کے دوران پاس سے گزرنے والے کو اپنی تلاوت روک کر سلام کرسکتا ہے البتہ جب دوبارہ تلاوت شروع کرے تو بہتر یہ ہے کہ تعوذ پڑھ کر شروع کرے۔
اذا مَرَّ القارِئُ عَلى قَوْمٍ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ وعادَ إلى القِراءَةِ فَإنْ أعادَ التَّعَوُّذَ كانَ حَسَنًا ويُسْتَحَبُّ لِمَن مَرَّ عَلى القارِئِ أنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ (المجموع: ٢/١٦٧)
ويَلْزَمُ القارِئَ رَدُّ السَّلامِ بِاللَّفْظِ (روضة الطالبين :١٠/٢٣٢)
الغرر البهية: ٥/١٣١ تحرير الفتاوى:٣/٢٨٩ أسنى المطالب :٤/١٨٣
منگل _6 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1126
میت کو قبر میں اتارنے کا صحیح طریقہ کیا ہے اور کونسی دعا پڑھنا چاہیے؟
میت کو سر کی جانب سے اٹھاتے ہوئے پہلے پاوں قبر میں اتارنا چاہیے اور اتارتے وقت یہ دعا پڑھنا سنت ہے۔ "بسم الله وبالله وعلى ملَّة رسول الله”
(ويُسَلُّ) المَيِّتُ (مِن قِبَلِ رَأْسِهِ) سَلًّا (بِرِفْقٍ) لا بِعُنْفٍ لِما رَواهُ أبُو داوُد بِإسْنادٍ صَحِيحٍ أنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الخِطْمِيَّ الصَّحابِيَّ – رَضِيَ اللَّهُ تَعالى عَنْهُ – «صَلّى عَلى جِنازَةِ الحَرْبِ، ثُمَّ أدْخَلَهُ القَبْرَ مِن قِبَلِ رِجْلِ القَبْرِ، وقالَ هَذا مِن السُّنَّةِ»، وقَوْلُ الصَّحابِيِّ مِن السُّنَّةِ كَذا، حُكْمُهُ حُكْمُ المَرْفُوعِ، ولِما رَواهُ الشّافِعِيُّ – ﵀ تَعالى – بِإسْنادٍ صَحِيحٍ «أنَّ النَّبِيَّ – ﷺ – سُلَّ مِن قِبَلِ رَأْسِهِ سَلًّا». (مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج :٤٤/٢)
(و)يُنْدَبُ (أنْ يَقُولَ) الَّذِي يُدْخِلُهُ القَبْرَ (بِسْمِ اللَّهِ وعَلى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ – ﷺ -) لِلِاتِّباعِ كَما رَواهُ التِّرْمِذِيُّ وصَحَّحَهُ ابْنُ حِبّانَ والحاكِمُ، وفِي رِوايَةٍ سُنَّةِ بَدَلَ مِلَّةِ، ويُسَنُّ أنْ يَزِيدَ مِن الدُّعاءِ ما يُناسِبُ الحالَ
(٥) :ثم يسلُّ من قبل رأسه إذا أمكن؛ لما روي عن ابن عباس؛ قال: سُلَّ رسول الله- ﷺ- من قبل رأسه. وأول ما يدخل القبر رأسه. وقال أبو حنيفة: توضع الجنازة على عُرض القبر مما يلي القِبلة ويقول من يدخله القبر؛ ما رُوي عن ابن عمر؛ أن النبي-ﷺ- كان إذا أدخل الميت القبر قال: «بسم الله وبالله وعلى ملَّة رسول الله»، وفي رواية: «على سُنَّة رسول الله (التهذيب في فقه الإمام الشافعي:٢/٤٤٣)
المجموع شرح المهذب:٢٩٢/٥ المهذب في فقة الإمام الشافعي للشيرازي: ١/٢٥٥
منگل _6 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1125
شادی یا کسی پروگرام کے دعوت نامہ پر قرآن کی آیت یا صرف بسم اللہ لکھا ہوا ہو تو اسے غیر مسلم کو دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
قرآن مجید ایک مقدس کتاب ہے جس کا احترام کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے جس طرح مکمل کتاب کا احترام ضروری ہے ایسے ہی اس کے ہر جزو اور حصہ کا احترام کرنا بھی ضروری ہے اگر قرآنی آیت دعوت نامہ وغیرہ پر لکھا ہو اور کسی غیر مسلم کو دینے سے بےحرمتی کا اندیشہ ہو تو نہیں دینا چاہیے، اگر بے حرمتی کا اندیشہ نہ ہو تو دے سکتے ہیں غیر مسلم کو مکمل مصحف دینے کے سلسلہ میں جو ممانعت آئی ہے وہ بےحرمتی کے خدشہ کی بناء پر ہے ورنہ عام حالات میں دعوت نامہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
علامہ دمیری رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وكذلك الحكم في كتب الفقه، والثوب المطرز بآيات من القرآن، والحيطان المنقوشة به؛ لأنه لا يصدق عليها اسم المصحف.(۱)
علامہ عملی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: لِأنَّهُ لا يُقْصَدُ بِإثْباتِ القُرْآنِ فِيها قِراءَةٌ فَلا تَجْرِي عَلَيْها أحْكامُ القُرْآنِ ولِهَذا يَجُوزُ هَدْمُ جِدارٍ وأكْلُ طَعامٍ نُقِشَ عَلَيْها ذَلِكَ والثّانِي يَحْرُمُ لِإخْلالِهِ بِالتَّعْظِيمِ (۲)
والرَّسائِل الَّتِي فِيها قُرْآنٌ. فَأجازَ المالِكِيَّةُ والشّافِعِيَّةُ والحَنابِلَةُ وبَعْضُ فُقَهاءِ الحَنَفِيَّةِ وهُوَ الأْصَحُّ عِنْدَ أبِي حَنِيفَةَ لِغَيْرِ المُتَطَهِّرِ أنْ يَمَسَّها ويَحْمِلَها ولَوْ كانَ فِيها آياتٌ مِنَ القُرْآنِ، بِدَلِيل: أنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَتَبَ إلى هِرَقْل كِتابًا وفِيهِ آيَةٌ ولأِنَّهُ لاَ يَقَعُ عَلى مِثْل ذَلِكَ اسْمُ مُصْحَفٍ ولاَ تَثْبُتُ لَها حُرْمَتُهُ.(۳)
علامہ خطیب شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:ان النبيّ ﷺ كتب إلى هرقل كتابًا فيه قرآن، وهرقل محدث يمسه هو وأصحابه،(٤) (١) النجم الوهاج : ١/٢٨٠ (٢)نهاية المحتاج : ١/١٢٦ (٣)الموسوعة الفقهية: ٣٤/١٨٣ (٤) السراج المنير: ٤/١٩٦
پیر _5 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
پیر _5 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1124
تجارت کے غرض سے مسافت قصر سے دور جانے پر قصر کرنا کیسا ہے، اور تجارت کی جگہ پر زیادہ دن رہنے کے بعد اس جگہ سے سفر کرنے پر قصر کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
قصر کے لیے مسافت تقریباً ٨٠ کلو میٹر سے زائد کا سفر ہونا ضروری ہے. اگر کوئی تجارت کی غرض سے کسی جگہ کا سفر کرے، اور وہاں پہنچنے کے بعد سے نکلنے کے دن کے علاوہ چار دن سے زائد مقیم ہونے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کے لیے قصر نہیں بلکہ اتمام کرنا ضروری ہے. لہٰذا کسی جگہ تجارت کے غرض سے مقیم ہوجائے، اور ایک مدت تک وہاں رہے تو وہ مقیم کے حکم میں ہوگا اور وہ إتمام کرے گا۔ اگر وہ وہاں سے مزید کسی جگہ مسافت قصر سے کم سفر کرتا ہے تو اس کے لئے قصر کی گنجائش نہیں ہوگی، ہاں اگر مسافت قصر کے بقدر سفر ہو تو قصر و اتمام کی گنجائش ہوگی اس لئے کہ اسے ایک مستقل سفر مانا جائے گا۔ البتہ سفر کا مباح ہونا ضروری ہے
ولَوْ نَوى) المُسافِرُ المُسْتَقِلُّ ولَوْ مُحارِبًا (إقامَةَ أرْبَعَةِ أيّامٍ) تامَّةٍ بِلَيالِيِها أوْ نَوى الإقامَةَ وأطْلَقَ (بِمَوْضِعٍ) عَيَّنَهُ صالِحٌ لِلْإقامَةِ، وكَذا غَيْرُ صالِحٍ كَمَفازَةٍ عَلى الأصَحِّ (انْقَطَعَ سَفَرُهُ بِوُصُولِهِ) أيْ بِوُصُولِ ذَلِكَ المَوْضِعِ، سَواءٌ أكانَ مَقْصُودُهُ أمْ فِي طَرِيقِهِ أوْ نَوى بِمَوْضِعٍ وصَلَ إلَيْهِ إقامَةَ أرْبَعَةِ أيّامٍ انْقَطَعَ سَفَرُهُ بِالنِّيَّةِ مَعَ مُكْثِهِ إنْ كانَ مُسْتَقِلًّا. (مغني المحتاج : ٤٥٣/١)
المهذب في فقة الإمام الشافعي :١/١٩٥ التهذيب في فقه الإمام الشافعي:٢/٣٠٤ بداية المحتاج في شرح المنهاج :١/٣٥٩ عجالة المحتاج إلى توجيه المنهاج:١/٣٤٥
پیر _5 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
پیر _5 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
اتوار _4 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _4 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
اتوار _4 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
اتوار _4 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی