درس حدیث نمبر 0532
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزيز بليلة
فقہ شافعی سوال نمبر / 1167
رمی کے لئے استعمال ہونے والی کنکریوں کو دھونے کا کیا مسئلہ ہے؟
رمی کے لیے استعمال کرنے والی کنکریوں کو دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں اگر کوئی رمی جمرات میں استعمال کرنے والی کنکریوں کو دھونا چاہیے تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ بعض فقہائے کرام نے رمی کے لیے استعمال ہونے والی کنکریوں کو دھونا بہتر لکھا ہے.
قال الشافعي رحمة الله عليه ولا اكره غسل حصى الجمار بل لم ازل اعمله واحبه. (كتاب الايضاح في مناسك الحج والعمره / ٣٠٣)
قد ذکرنا ان مذھبنا انہ یستحب غسل حصی الجمار.(المجموع:9/134)
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1166
حرم کے حدود میں اگنے والے یا لگائے ہوئے تکلیف دہ درخت کاٹنے یا اکھاڑنے کا کیا مسئلہ ہے؟
حرم شریف کے اندر خود سے اگنے والے درخت یا جھاڑیاں جن کے اندر ابھی جان ہو ان کو کاٹنا یا جڑ سے اکھاڑنا حرام ہے چاہیے احرام کی حالت میں ہو یہ نہ ہو، البتہ بےجان سوکھے ہوئے خشک درخت یا جھاڑیوں کو کاٹنا جائز ہے اسی طرح سبزی کے درخت یا مسواک کا درخت اور تکلیف دہ درخت اور جھاڑیوں کو جڑ سے اکھاڑنا جائز ہے.
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: هَلْ يَعُمُّ التَّحْرِيمُ والضَّمانُ مِنَ الأشْجارِ، ما يَنْبُتُ بِنَفْسِهِ، وما يَسْتَنْبِتُ، أمْ يَخْتَصُّ بِالضَّرْبِ الأوَّلِ؟ فِيهِ طَرِيقانِ. أصَحُّهُما: عَلى قَوْلَيْنِ. أظْهَرُهُما عِنْدَ العِراقِيِّينَ والأكْثَرِينَ مِن غَيْرِهِمْ: التَّعْمِيمُ. والثّانِي: التَّخْصِيصُ، وبِهِ قَطَعَ الإمامُ، والغَزالِيُّ. والطَّرِيقُ الثّانِي: القَطْعُ بِالتَّعْمِيمِ. فَإذا قُلْنا: بِالتَّخْصِيصِ زادَ قَيْدٌ آخَرُ، وهُوَ كَوْنُ الشَّجَرِ مِمّا يَنْبُتُ بِنَفْسِهِ. وعَلى هَذا، يَحْرُمُ الأراكُ والطَّرْفاءُ وغَيْرُهُما مِن أشْجارِ البَوادِي. وأدْرَجَ الإمامُ فِيهِ العَوْسَجَ، لَكِنَّهُ ذُو شَوْكٍ، وقَدْ سَبَقَ بَيانُهُ. ولا تَحْرُمُ المُسْتَنْبَتاتُ مُثْمِرَةً كانَتْ، كالنَّخْلِ والعِنَبِ، أوْ غَيْرَ مُثْمِرَةٍ، كالخِلافِ. وعَلى هَذا القَوْلِ، لَوْ نَبَتَ ما يُسْتَنْبَتُ أوْ عَكْسُهُ، فالصَّحِيحُ الَّذِي قالَهُ الجُمْهُورُ: أنَّ الِاعْتِبارَ بِالجِنْسِ، فَيَجِبُ الضَّمانُ فِي الثّانِي دُونَ الأوَّلِ. وقِيلَ: الِاعْتِبارُ بِالقَصْدِ، فَيَنْعَكِسُ. أمّا غَيْرُ الأشْجارِ، فَكَلَأُ الحَرَمِ يَحْرُمُ قَطْعُهُ. فَإنْ قَلَعَهُ، لَزِمَهُ القِيمَةُ، إنْ لَمْ يُخْلِفْ. فَإنْ أخْلَفَ، فَلا قِيمَةَ قَطْعًا؛ لِأنَّ الغالِبَ هُنا الإخْلافُ كَسِنِّ الصَّبِيِّ. فَلَوْ كانَ يابِسًا، فَلا شَيْءَ فِي قَطْعِهِ كَما سَبَقَ فِي الشَّجَرِ. فَلَوْ قَلَعَهُ، لَزِمَهُ الضَّمانُ؛ لِأنَّهُ لَوْ لَمْ يُقْلَعْ، لَنَبَتَ ثانِيًا، ذَكَرَهُ فِي التَّهْذِيبِ. يَجُوزُ تَسْرِيحُ البَهائِمِ فِي حَشِيشِهِ لِتَرْعى. ولَوْ أُخِذَ الحَشِيشُ لِعَلْفِ البَهائِمِ، جازَ عَلى الأصَحِّ. ويُسْتَثْنى مِنَ المَنعِ، الإذْخِرُ، فَإنَّهُ يَجُوزُ لِحاجَةِ السُّقُوفِ وغَيْرِها، لِلْحَدِيثِ الصَّحِيحِ. ولَوِ احْتِيجَ إلى شَيْءٍ مِن نَباتِ الحَرَمِ لِلدَّواءِ، جازَ قَطْعُهُ عَلى الأصَحِّ. (روضة الطالبين وعمدة المفتين:٣/١٦٧)
قالَ أصْحابُنا قالَ الشّافِعِيُّ فِي القَدِيمِ يَجُوزُ أخْذُ الوَرِقِ مِن شَجَرِ الحَرَمِ وقَطْعُ الأغْصانِ الصِّغارِ لِلسِّواكِ المجموع شرح المهذب: ٧/٤٤٩)
مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج: ٢/٣٠٦
بداية المحتاج في شرح المنهاج:١/٧١٨
حاشيتا قليوبي وعميرة: ٢/١٧٨
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1165
طواف کے بعد اگر فرض نماز کی جماعت کھڑی ہوجائے اور طواف کرنے والا فرض نماز ادا کرے تو کیا طواف کے بعد کی دو رکعت پڑھی جانے والی نماز اس میں شامل ہوگی یا الگ سے دو رکعت پڑھنا ہوگا؟
اگر طواف کے سات چکر مکمل ہوجائے اور اس کے فورا بعد فرض نماز کے لیے جماعت کھڑی ہوجائے تو یہ فرض نماز طواف کے بعد پڑھی جانے والی نماز کے لیے کافی ہوجائے گی الگ سے پھر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں
واذا قلنا انھما سنة فصلی فریضة بعد الطواف اجزاء عنھما کتحیة المسجد نص علیہ الشافعی رحمه الله عليه. (الایضاح فی المناسک: 291)