آخرت کی تیاری – 06-01-2023
حضرت مولانا سید بلال عبد الحی حسنی صاحب ندوی
حضرت مولانا سید بلال عبد الحی حسنی صاحب ندوی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا فقیہ العصر خالد سیف اللہ صاحب رحمانی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1137
عورت کے کفن میں ریشمی اور رنگین کپڑا استعمال کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
عورت کے کفن میں ریشمی اور زعفرانی اور زردرنگ کے کپڑے استعمال کرنا کراہت کے ساتھ جائز ہے.
وأمّا المَرْأةُ فالمَشْهُورُ القَطْعُ بِجَوازِ تَكْفِينِها فِيهِ لِأنَّهُ يَجُوزُ لَها لُبْسُهُ فِي الحَياةِ لَكِنْ يُكْرَهُ تَكْفِينُها فِيهِ لِأنَّ فِيهِ سَرَفًا ويُشْبِهُ إضاعَةَ المالِ بِخِلافِ اللُّبْسِ فِي الحَياةِ فَإنَّهُ تَجَمُّلٌ لِلزَّوْجِ وحَكى صاحِبِ البَيانِ فِي زِياداتِ المُهَذَّبِ وجْهًا أنَّهُ لا يَجُوزُ وأمّا المُعَصْفَرُ والمُزَعْفَرُ فَلا يَحْرُمُ تَكْفِينُها فِيهِ بِلا خِلافٍ ولَكِنْ يُكْرَهُ عَلى المَذْهَبِ وبِهِ قَطَعَ الأكْثَرُونَ. (المجموع شرح المهذب: ١٥٣/٥)
عمدة السالك :٨٤ فتح الوهاب :١٦٣/١ حاشية البحيرمي على شرح منهج الطلاب:٤٦٣/١ حاشية الجمل :١٥٧/٣
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1136
کیا گوہ کھانا جائز ہے؟
گوہ کا کھانا جائز ہے
امام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ويحل الضب (العزيز: ١٢/ ١٢٩)
امام رافعي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ولا يحرم الضَّبُّ (الفقه المنهجي: ٣/ ٦٩)
الحاوي الكبير: ١٥/ ١٣٨
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1135
کیا کفن کے لیے استعمال شدہ کپڑا استعمال کرنا ضروری ہے یا کپڑا نیا ہونا ضروری ہے؟
کفن کے لیے نیا کپڑا ہونا ضروری نہیں ہے. استعمال شدہ کپڑا اگر پاک اور صاف ہو تو نئے کپڑے سے اولی اور بہتر ہے. البتہ کفن کے لیے سفید کپڑا استعمال کرنامسنون ہے.
و المَلْبُوسُ (المَغْسُولُ) بِأنْ يُكَفَّنَ فِيهِ المَيِّتُ (أوْلى مِن الجَدِيدِ)؛ لِأنَّهُ لِلصَّدِيدِ والحَيُّ أحَقُّ بِالجَدِيدِ.
ويسن الأبيض
لقول النبي ﷺ: البسوا من ثيابكم البياض، فإنها خير ثيابكم، وكفنوا فيها موتاكم (النجم الوهاج:٣/ ٣٣) (نهاية المحتاج:٣/٢١) (بداية المحتاج: ١/٤٦٧)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1134
کسی شخص کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونے کا کیا مسئلہ ہے؟
ایسا کوئی شخص جو اپنے لیے لوگوں کے کھڑے ہونے کو پسند کرتا ہو خواہ وہ دینی یا دنیاوی مقام و مرتبہ رکھتا ہو اس کے لیے کھڑا ہونا حرام ہے۔ البتہ جن لوگوں کے پاس دینی و علمی ، تقوی و طہارت کے لحاظ سے ظاہری فضیلت ہو اور وہ اپنے لئے لوگوں کے کھڑے ہونے کے خواہش مند نہ ہوں ایسے حضرات کے لیے کھڑا ہونا مستحب ہے
ويُسَنُّ القِيامُ لِمَن فِيهِ فَضِيلَةٌ ظاهِرَةٌ مِن نَحْوِ صَلاحٍ أوْ عِلْمٍ أوْ وِلادَةٍ أوْ نَسَبٍ أوْ وِلايَةٍ مَصْحُوبَةٍ بِصِيانَةٍ…. ويَحْرُمُ عَلى الدّاخِلِ أنْ يُحِبَّ قِيامَهُمْ لَهُ؛ لِلْحَدِيثِ الحَسَنِ: «مَن أحَبَّ أنْ يَتَمَثَّلَ النّاسُ لَهُ قِيامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِن النّارِ. (تحفة المحتاج :٩/٢٢٩)
إعانة الطالبين: ٤/٢١٩ فتح المعين : ١/٥٩٨ أسنى المطالب: ٤/١٨٦ العزيز :١١/٣٧٨
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا عبد النور فکردے صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی