بدھ _25 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1218
میت کو غسل دینے کے بعد اگر اگلی یا پچھلی شرمگاہ سے نجاست نکلے تو کفن کے ساتھ پیمپر پہنانے کا کیا مسئلہ ہے؟
میت کو غسل دینے کے بعد اس کی اگلی یا پچھلی شرم گاہ سے نجاست نکل رہی ہو تو اس جگہ کو روئی سے بند کرنا چاہیے اگر ممکن نہ ہو تو اس صورت میں میت کو کفن کے اندر نجاست کو روکنے کے لیے پیمپر پہنانا درست ہے.
فَإِنْ كَانَ يَخَافُ مِنْ مَيْتَتِهِ أَوْ مَيِّتِهِ أَنْ يَأْتِيَ عِنْدَ التَّحْرِيكِ إذَا حُمِلَا شَيْئًا لِعِلَّةٍ مِنْ الْعِلَلِ اسْتَحْبَبْت أَنْ يَشُدَّ عَلَى سُفْلِيّهمَا مَعًا بِقَدْرِ مَا يَرَاهُ يُمْسِكُ شَيْئًا إنْ أَتَى مِنْ ثَوْبٍ صَفِيقٍ فَإِنْ خَفَّ فَلِبْدٌ صَفِيقٌ۔. الأم للشافعي- ط الفكر ١/٣٠٣
قال الشافعي رحمة الله عليه: (ويشد عليه خرقة مشقوقة الطرفين بإحدى أليتيه وعانته، ثم تشد عليه كما يشد التبان الواسع) .قال الشيخ أبو حامد: وهذا الشد لا يحتاج إليه في الميت إلا إن كان به علة قيام، أو خشي عليه أن يخرج منه، فيؤخذ لبد، فيشد عليه من فوق أليتيه، فإن لم يكن لبد، فخرقة. (البيان: ٣ / ٤٤)
پیر _23 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1217
حمل کے دوران عورتوں کو بعض مرتبہ خاص طبی چانچ کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا عورت ڈاکٹر کے ہوتے ہوئے کسی مرد ڈاکٹر سے چانچ کرانے کا کیا مسئلہ ہے؟
دوران حمل عورت کو بہت سی تکالیف و دشواریوں پیش آتی ہیں اور رحم میں موجود بچہ اور ماں کی صحت کے لیے مختلف طریقوں سے علاج و معالجہ اور جانچ کی ضرورت پڑتی ہے تو ایسے وقت میں ماہر مرد ڈاکٹر سے علاج کی یا خاص طبی جانچ کی checkup ضرورت پیش آئے تو اسکی اجازت ہے۔ البتہ ماہر عورت ڈاکٹر کی موجودگی میں مرد ڈاکٹر سے علاج کروانا جائز نہیں ہے.
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وإذا كان بعورة المرأة علة يجوز للطبيب الأمين أن ينظر إليها؛ للمعالجة؛ كما يجوز للختان أن ينظر إلى فرج المختون؛ لأنه موضع ضرورة. التهذيب: ٢٣٦/٥
علامة زكريا الأنصاري فرماتے ہیں:قَالَ الْأَذْرَعِيُّ فِي الْغُنْيَةِ رَأَيْت فِي الْكَافِي لَوْ كَانَ بِعَوْرَةِ الرَّجُلِ أَوْ الْمَرْأَةِ عِلَّةٌ جَازَ لِلطَّبِيبِ الْأَمِينِ أَنْ يَنْظُرَ إلَيْهِمَا لِلْمُعَالَجَةِ كَمَا فِي الْخِتَانِ۔ أسنی المطالب:٤٧٤/٤
علامہ ابن الملقن رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ويبَاحَانِ، يعنى النظرُ والْمَسُّ، لِفَصَدٍ وَحِجَامَةٍ وَعِلاَج، للحاجة الملجِئَة إلى ذلك… ونظر القابلة إلى فرج التي تولدها۔ عجالة المحتاج: ١١٨٠/٣
علامه أبوبکر الدمياطي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وهو أنه لا يباح النظر لأجل المعالجة عند وجود امرأة أو محرم۔ إعانة الطالبين :٤١٩/٣
پیر _23 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
پیر _23 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
پیر _23 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
اتوار _22 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1215
صلاۃ التسبیح کی کتنی رکعتیں ہیں؟ اسے کس طرح یعنی دو دو رکعت کرکے یا پھر 4 رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا چاہیے؟
صلاۃ التسبیح کی چار رکعتیں ہیں۔انہیں ایک سلام کے ساتھ یا پھر دو دو رکعت کرکے پڑھنا درست ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص تسبیح کی نماز رات میں پڑھ رہا ہو تو چار رکعت دو تشھد اور ایک سلام کے ساتھ جیسے ظہر، عصر کی نماز پڑھتے ہیں اس طرح پڑھنا افضل ہے۔ اگر دن میں پڑھ رہا ہو تو پھر ایک سلام سے پڑھنا افضل ہے۔ دو دو رکعت پڑھنا بھی درست ہے ۔اور جب دو دو رکعت پڑھی جائے تو دونوں کے درمیان زیادہ فصل (دیر) نہ ہو
والمجموع من الروايتين ثلاثمائة تسبيحة، فإن صلاها نهارا فبتسليمة واحدة، وإن صلاها ليلا فبتسليمتين أحسن، إذ ورد أن صلاة الليل مثنى مثنى. وقوله: أربع ركعات بتسليمة أو تسليمتين قد تقدم في كلام الغزالي أنه إن صلاها نهارا فبتسليمة واحدة، وإن صلاها ليلا فبتسليمتين. وقال النووي في الأذكار، عن ابن المبارك: فإن صلاها ليلا فأحب إلي أن يسلم من كل ركعتين، وإن صلاها نهارا فإن شاء سلم وإن شاء لم يسلم.اه.وعلى أنها بتسليمة واحدة له أن يفعلها بتشهد واحد، وله أن يفعلها بتشهدين كصلاة الظهر. إعانة الطالبين:١/٣٠٠
وصلاة التسبيح أربع ركعات إما بتسليمة واحدة وهي نهارا أفضل، أو بتسليمتين وهو أفضل بليل۔. حاشيةالقليوبي:١/٢٤٧
ويحتمل أن شرط حصول سنتها أن يفعلها متوالية حتى تعد صلاة واحدة وهو الأقرب۔. حاشية الجمل:١/٤٧٩
جمعہ _20 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _20 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _20 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _20 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی