درس حدیث نمبر 0659
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1120
اگر کسی حاملہ عورت کے پیٹ میں جُڑواں بچے ہوں ایک بچہ چھ ماہ بعد رحم سے ساقط ہوگیا اور ایک باقی رہا اب اس عورت کو ایک بچہ رحم کے گرنے سے خون جاری ہوجائے تو وہ خون کونسا خون کہلائے گا؟حیض کا یا نفاس کا؟
اگر حاملہ عورت کے رحم میں جڑواں بچے ہوں اور ایک بچہ چھ ماہ کے بعد گر جائے اور دوسرا بچہ ماں کے پیٹ میں جب تک رہے گا اس وقت تک جو خون نکلے گا تب دیکھا جائے گا کہ اگر وہ حیض کی اقل مدت (ایک دن ایک رات )اور اکثر مدت (پندرہ دن کے اندر) میں نکلے تو وہ حیض ہوگا ورنہ وہ فاسد خون ہوگا البتہ دو بچوں کے درمیان جاری خون نفاس کا خون نہیں ہوگا۔خون فاسد (بیماری کا خون) کے نکلنے کے ایام میں چھوڑی ہوئی نمازیں اور روزوں کی قضاء لازم ہے
قال الشيخ البجيرمي رحمة الله عليه: فَما بَيْنَ التَّوْأمَيْنِ حَيْضٌ فِي وقْتِهِ ودَمٌ فَسادٌ فِي غَيْرِهِ حاشیة البجيرمي على شرح المنهج ١٣١/١
وقال الشيخ عميرة رحمة الله عليه: ولَوْ خَرَجَ بَيْنَ تَوْأمَيْنِ فَهُوَ حَيْضٌ لا نِفاسٌ. (حاشية قليوبي وعميرة: ١\١٢٤)
*روضه الطالبين :١\١٧٦ *تحفة المحتاج مع حواشي الشرواني وابن القاسم ١\٤١١ *نهاية المحتاج ١\٣٥٦
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1119
فاقد الطہورین شخص اذان ہوتے ہی(اول وقت میں) نماز ادا کرے گا یا آخر وقت تک پانی ملنے یا تیمم کے لیے مٹی دستیاب ہونے کا انتظار کرے گا؟
فاقد الطہورين شخص پانی یا مٹی کو تلاش کرے گا اگر دونوں (پانی یا مٹی) ملنے کی امید ختم ہوچکی ہو تو اول وقت میں نماز پڑھ سکتا ہے اگر نماز قضا ہونے سے پہلے پانی یا مٹی ملنے کا یقین ہو تو آخیر وقت تک انتظار کرے گا ہاں اگر شروع ہی میں پانی نہ ملنے کا یقین ہو تو اول وقت میں نماز پڑھ سکتا ہے
قال الشيخ سليمان الجمل رحمة الله عليه: ولا يُشْتَرَطُ لِصِحَّةِ صَلاتِهِ ضِيقُ الوَقْتِ بَلْ إنّما يَمْتَنِعُ عَلَيْهِ الصَّلاةُ ما دامَ يَرْجُو أحَدَ الطَّهُورَيْنِ (حاشية الجمل:١\٢٢٩)
لا يَخْفى أنَّهُ لا بُدَّ مِن طَلَبِهِما… فَإذا طَلَبَ ولَمْ يَجِدْ واحِدًا مِنهُما فَإنْ وصَلَ إلى حَدِّ اليَأْسِ عادَةً مِن أحَدِهِما صَلّى ولَوْ أوَّلَ الوَقْتِ وإلّا لَمْ يُصَلِّ إلّا بَعْدَ ضِيقِ الوَقْتِ (حاشية الشرواني مع تحفة المحتاج: ١\٣٧٨)
حاشية البجيرمي على شرح المنهج :١\١٢٨ نهاية المحتاج: ١\٣١٨