جمعرات _28 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1063
*ختم سحرى كا وقت معلوم ہوتے ہوئے فجر کی اذان تک کھانے پینے کا کیا مسئلہ ہے ؟ نیز اگر وقت معلوم نہ ہو آذان تک کھاتا پیتا رہے تو اس روزے کا کیا حکم ہے؟*
*اگر ختم سحری کا صحیح وقت معلوم ہو تو اس کے بعد کھانے کی اجازت نہیں ہے چاہے آذان ہو یا نہ ہو، آذان کا ختم سحری سے کوئی تعلق نہیں ہے اصل اعتبار وقت کا ہے ہاں اگر وقت کا علم نہ ہو اور کھاتا پیتا رہے پھر بعد میں معلوم ہوجائے کہ وقت ہوچکا تھا تو پھر ایسے شخص کا روزہ شمار نہیں ہوگا اس لیے کہ اصل اعتبار وقت کا ہے*
*فلو نوى بعد طلوع الفجر لا يصح صومه، أو أكل معتقداً أنه ليل، وكان قد طلع الفجر، فيلزمه القضاء، وكذا لو أكل معتقداً أنه قد دخل الليل، ثم بان خلافه، لزمه القضاء.* (الفقه الميسر : ٣٥٣/١)
*كفاية الاخيار :١٩٩/١
*المعتمد :١٥٥/١
*كفاية النبيه :٣٢٥/٦
*المجموع :٣٦٥/٦
منگل _26 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1048
*نفاس والی عورت کو پچاس دن بعد خون رک جائے پھر وہ رمضان کے روزے رکھے پھر چار دن بعد دوبارہ سے خون نکلنا شروع ہوجائے تو خون رکنے پر جو روزے رکھے تھے ان روزوں کا کیا حکم ہے نیز بعد میں جو خون آیا تھا وہ نفاس کا ہوگا یا استحاضہ کا ہوگا؟*
*عورت کے لئے نفاس کا خون بند ہونے کے بعد نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور دیگر عبادتوں کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے لہذا جو عورت نفاس کا خون بند ہونے کے بعد روزہ رکھے اور پھر چار دن بعد دوبارہ خون نکلنا شروع ہوجائے تو اس پاکی کی مدت میں رکھے ہوئے روزہ درست نہیں ہونگے اس لیے کہ وہ نفاس کے ہی دن ہیں اور جو خون دوبارہ شروع ہوا ہے وہ نفاس کا خون ہوگا چونکہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت ساٹھ دن ہے۔اگر ساٹھ دن کے بعد بھی خون جاری رہا تو وہ استحاضہ کا خون ہوگا،ساٹھ دن کے بعد روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔*
*إذا انقطع دم النفاس فيما دون انقضاء ستين يومًا ثم عاودها الدم، ينظر فيه، فإن عاودها الدم قبل مضى خمسة عشر يومًا من وقت انقطاع الدم، فذاك دم نفاسفينبني على قولي التلفيق.إن قلنا: إن الدماء لا تلفق، فيجعل الكل دم نفاس، ويلزمها قضاء صيامات صامتها في أيام النقاء.* (التعليقة للقاضى حسين:٦٠٥/١)
*المجموع (٥٢٨/٢)
*فتح العزيز: ٥٩٩/٢
*روضة الطالبين: ١٧٩/١
*النجم الوهاج :٥١٣/١
منگل _26 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
پیر _25 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
پیر _25 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
پیر _25 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
ہفتہ _23 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
ہفتہ _23 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
جمعہ _22 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
جمعہ _22 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _22 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _22 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _22 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _22 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
جمعرات _21 _اپریل _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1066
کیا انویسٹ شدہ روپیہ پر زکات واجب ہوگی یا انویسٹ شدہ رقم پر ماہانہ یا سالانہ جو فائدہ ملتا ہے اس رقم پر زکات واجب ہوگی؟
اگر کسی نے تجارت میں رقم انویسٹ کیا ہے تو انویسٹ شدہ رقم اور سال بھر فائدہ حاصل ہونے والی رقم دونوں کو ملا کر سال کے آخیر میں زکات نکالی جائے گی صرف منافع کو جمع کرکے اس پر زکوۃ نکالنا درست نہیں ہے ہاں اگر منافع باقی نہ ہو تو صرف انویسٹ شدہ رقم کے اوپر زکات واجب ہوگی
يدخل في الأموال التي يجب تقويمها كل من رأس المال والربح معاً، فيضمان إلى بعضهما، وتؤدي الزكاة عن الجميع، فلو بدأ تجارته بما قيمته ألفا ليرة سورية، وفي آخر العام بلغت خمسة آلاف ليرة سورية، وجبت الزكاة عن الكل. (الفقہ المھجی :٢/٤٥)
(ﻭاﻟﺜﺎﻟﺚ) اﻧﻬﺎ ﺗﺤﺴﺐ ﻣﻦ ﺭﺃﺱ اﻟﻤﺎﻝ ﻭاﻟﺮﺑﺢ ﺟﻤﻴﻌﺎ ﻻﻥ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﺗﺠﺐ ﻓﻲ ﺭﺃﺱ اﻟﻤﺎﻝ ﻭاﻟﺮﺑﺢ ﻓﻲ ﺣﺴﺐ اﻟﻤﺨﺮﺝ ﻣﻨﻬﻤﺎ (المجموع: ٦/٧٠)