بھٹكل مدینہ مسجد عربی خطبہ – 30-07-2021
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا ظفرالدین صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0984
کسی جگہ سیلاب کی وجہ سے پانی ناقابل استعمال ہوجائے اور وضو کے لیے پانی اور تیمم کے لیے مٹی بھی میسر نہ ہو تو اب نماز ادا کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر کسی جگہ ایسی صورتحال ہو کہ پانی اور مٹی بھی نہ ہو تو ایسے شخص کو فاقدالطھورین کہتے ہیں، لہذا ایسے شخص کے لیے نماز کا وقت ہونے پر بغیر وضو کے ہی نماز پڑھنا ضروری ہے اور پانی ملنے کے بعد وضو کرکےان نمازوں کو دوبارہ پڑھنا بھی ضروری ہے۔
فَإذا لَمْ يَجِدْ المُكَلَّفُ ماءً ولا تُرابًا بِأنْ حُبِسَ فِي مَوْضِعٍ نَجِسٍ أوْ كانَ فِي أرْضٍ ذاتِ وحْلٍ ولم يجد ماء يخففه بِهِ أوْ ما أشْبَهَ ذَلِكَ فَفِيهِ أرْبَعَةُ أقْوالٍ حَكاها أصْحابُنا الخُراسانِيُّونَ (أحَدُها) يَجِبُ عَلَيْهِ أنْ يُصَلِّيَ فِي الحالِ عَلى حَسَبِ حالِهِ ويَجِبُ عَلَيْهِ الإعادَةُ إذا وجَدَ ماءً أوْ ترابا في موضع يسقط الفرض بِالتَّيَمُّمِ وهَذا القَوْلُ هُوَ الصَّحِيحُ الَّذِي قَطَعَ بِهِ كَثِيرُونَ مِن الأصْحابِ أوْ أكْثَرُهُمْ وصَحَّحَهُ الباقُونَ وهُوَ المَنصُوصُ فِي الكُتُبِ الجَدِيدَةِ۔ (المجموع:٣٠٣/٢)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0988
سیلاب زدہ علاقوں میں قربانی کے کچھ جانور پانی میں بہہ گیے اور کچھ جانور اب بھی باقی ہیں تو اب ان جانوروں کا کیا مسئلہ ہے؟
قربانی کے لیے خریدے ہوئے جانور اگربہہ کر گئے ہیں تو جانور خرید کر قربانی نہ کرنے والوں پر کچھ تاوان نہیں۔ البتہ جو جانور اب باقی ہیں چونکہ قربانی کا وقت ختم ہوگیا ہے اب اس کی مرضی ہے چاہیے تو اس جانور کو صدقہ کرے یا خود ذبح کرکے کھائے کوئی حرج نہیں۔
قال الإمام الرافعي رحمه الله: إذا ضَلَّ هدْيُهُ أو أضحيتهُ المتطَوَّعُ بها لم يلزمْهُ شَيْءٌ قال النووي: لكن يستحب ذبحها إذا وجدها، والتصدق بها. ممن نص عليه القاضي أبو حامد. فإن ذبحها بعد أيام التشريق، كانت شاة لحم يتصدق بها. (الشرح الكبير:١٠٣/١٢)
قال شيخ الأسلام زكريا الأنصاري رحمه الله: فإن ذبح المتطوع بالأضحية بعد فوات الوقت فهي صدقة إن تصدق بها فيثاب ثواب الصدقة لا الأضحية وإن ضحي بها في سنة أخري وقعت عنها لا عن الأولي۔ (أسنى المطالب:٤٥٩/٢)
فقہ شافعی سوال نمبر 0987
زمینی و آسمانی یا سمندری آفات کی وجہ سے غیر مسلم بھائیوں کا بھی بہت نقصان ہوتا ہے توانھیں زکوٰۃ کی رقم سے مدد کر سکتے ہیں؟
اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ غیر مسلم کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے البتہ نفلی صدقات دے سکتے ہیں لہذا نفلی صدقات وغیرہ سے ان کی مدد کرنا بہتر ہے۔
قال الإمام النووي الشافعي رحمه الله: ولا يجوز دفعها إلى كافر لقوله صلي الله عليه وسلم «أمرت أن آخذ الصدقة من اغنيائكم وأردها علي فقرائكم») (الشرح) هذا الحديث رواه البخار ومُسْلِمٌ مِن رِوايَةِ ابْنُ عَبّاسٍ ﵄ أنَّ النَّبِيَّ ﷺ قالَ لِمُعاذٍ ﵁ «أعْلِمْهُمْ أنَّ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِن أغْنِيائِهِمْ وتُرَدُّ فِي فُقَرائِهِمْ» وسَبَقَ بَيانُهُ فِي فَصْلِ نَقْلِ الزَّكاةِ وغيره ولايجوز دفع شئ مِن الزَّكَواتِ إلى كافِرٍ سَواءٌ زَكاةُ الفِطْرِ وزَكاةُ المالِ وهَذا لا خِلافَ فِيهِ عِنْدَنا قالَ ابْنُ المُنْذِرِ: أجْمَعَتْ الأُمَّةُ أنَّهُ لا يُجْزِئُ دَفْعُ زَكاةِ المالِ إلى الذِّمِّي۔(١)
قال الإمام العمراني الشافعي رحمه الله: قال الصيمري: ولا بأس بصدقة التطوع على المسلم والكافر والذمي والحربي، (٢)
قال ابن قدامة الحنبلي رحمه الله: لا نَعْلَمُ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ خِلافًا فِي أَنَّ زَكَاةَ الأَمْوَالِ لا تُعْطَى لِكَافِرٍ . قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ : أَجْمَعَ كُلُّ مَنْ نَحْفَظُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الذِّمِّيَّ لا يُعْطَى مِنْ زَكَاةِ الأَمْوَالِ شَيْئًا . وَلأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِمُعَاذٍ : أَعْلِمْهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ , وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ . فَخَصَّهُمْ بِصَرْفِهَا إلَى فُقَرَائِهِمْ (يعني : فقراء المسلمين) , كَمَا خَصَّهُمْ بِوُجُوبِهَا عَلَى أَغْنِيَائِهِمْ ” انتهى .وإذا كان الكافر من المؤلفة قلوبهم جاز إعطاؤه من الزكاة قال الله تعالى: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ * .(٣) (1)المجموع:٢١٨/٦) (٢) البيان :٤٦٣/٣) (٣) المغني:١٠٦/٤)