الترابط والاختلاف على الحياة الدنيا – 05-11-2021
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
مولانا ارشاد نائطے صاحب ندوی
مولانا ارشاد نائطے صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر /1014
اگر کسی شخص کی شلوار گھٹنوں سے اوپر پھٹی ہوئی ہو اور اس کے اوپر کُرتا پہنا ہوا ہو تو کیا اس صورت میں نماز صحیح ہوگی؟
نماز کے لیے مرد کا ستر ناف سر گھٹنے تک ہے اور نماز کے لیے اتنا ستر ہونا مرد کے لیے ضروری ہے۔ لہذا اگر شلوار کا پھٹے ہوئے حصہ کو اوپر سے کوئی کپڑا ڈھانک دے تو نماز ہو جائے گی اگر ستر کا حصہ دکھائی دیتا ہو تو نماز صحیح نہیں ہوگی۔
*قال الإمام النووي رحمه الله: فسترة العورة شرط لصحة الصلاة….. ويشترط سترة العورة من أعلى ومن الجوانب ولا يشترط من أسفل الذيل والإزار * (المجموع: ١٨٩/٤-١٩٣)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)