انسان کی دو حالتیں – 04-11-2022
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1116
اسکولوں کے پروگرام میں بچوں کو جانور کی شکل کا ڈریس پہنا کر مجمع کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کیا ایسا کرنا درست ہے؟
کسی بھی موقع پر انسان کے لیے اپنی شکل و صورت کو بگاڑنا درست نہیں. خواہ اسکول کا کوئی پروگرام ہو یا کوئی اور موقع ہو بہرحال بچوں کو جانوروں کی شکل کا کپڑا پہنانا جائز نہیں اس طرح کے پروگراموں میں بچوں کو شریک کروانا گویا غیر شرعی کاموں میں تعاون کرنا ہے
قال الامام الرملي رحمة الله عليه: وسَواءٌ فِي الصُّورَةِ المُحَرَّمَةِ أكانَتْ على سقف أوْ جِدار أوْ وِسادَة أوْ ستْر عُلق لزِينَة أوْ مَنفَعَة أوْ ثَوْب ملْبوس (نهاية المحتاج: ٦\٣٧٥)
قال الامام الغزالي رحمة الله عليه : ولا يجوز لبس الثِّياب وعَلَيْها صور الحَيَوان لا للرِّجال ولا للنِّساء (الوسيط:٥\٢٧٧)
فتح المعين مع إعانة الطالبين ٣\٤١١ روضة الطالبين ٧\٣٣٥ النجم الوهاج ٧\٣٨٠
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1115
غسل کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
غسل کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنا سنت ہے
فقہاء لکھتے ہیں: وقَدْ تَرَكَ مِن السُّنَنِ أشْياءَ: مِنها…. واسْتِقْبالُ القِبْلَةِ وتَكْرارُ الغُسْلِ ثَلاثًا ثَلاثًا.
وسننه كثيرة منها «الاستقبال والتسمية مقرونة بالنية وغسل الكفين» كالوضوء فيهما (المنهج القويم:١١٧)
حاشية الترمسي:٥٠/٢ الحواشي المدنية على شرح المقدمة الحضرمية:٢٧٤/١
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1114
ایسا سامان جو صرف غیر مسلموں کے تہوار کے موقع پر پوجا پاٹ وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے ان چیزوں کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟
غیروں کے تہوار میں پوجا وغیرہ میں استعمال ہونے والی چیزوں کو خود بیچنا یا کسی غیر مسلم کے ہاتھوں بیچنے کے لیے دینا شرعا جائز نہیں ہے. اس لئے کہ وہ تمام اشیاء جن سے کفار کی پوجا وغیرہ میں کسی بھی طرح کا تعاون ہو یا ان کے کفر میں اضافہ کا سبب ہوگناہ اور معصیت پر تعاون ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے،لہذا ایسی تمام چیزوں کی خرید و فروخت سے بچنا ضروری ہے.
وحرم أيضا: بيع نحو عنب ممن علم أو ظن أنه يتخذه مسكرا للشرب والأمرد ممن عرف بالفجور به والديك للمهارشة والكبش للمناطحة والحرير لرجل يلبسه وكذا بيع نحو المسك لكافر يشتري١ لتطييب الصنم والحيوان لكافر علم أنه يأكله بلا ذبح لان الأصح أن الكفار مخاطبون بفروع الشريعة كالمسلمين عندنا خلافا لأبي حنيفة رضي الله تعالى عنه فلا يجوز الإعانة عليهما ونحو ذلك من كل تصرف يفضي إلى معصية يقينا أو ظنا ومع ذلك يصح البيع. ويكره بيع ما ذكر ممن توهم منه ذلك. (فتح المعين بشرح قرة العين بمهمات الدين:١/٣٢٦)
إعانة الطالبين:٣/٣٠ حاشية الجمل على شرح المنهج :٣/٢٧ حاشية البجيرمي على شرح المنهج:٢/١٧٩