جمعرات _2 _ستمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0996
*اگر کسی شخص کو جمعہ کے دن نماز سے پہلے غسل لینے کا موقع نہ ملے تو کیا ایسا شخص نماز جمعہ کے بعد غسل کرنے سے جمعہ کا سنت غسل ادا ہوگا یا نہیں؟*
*اگر کسی شخص کو جمعہ کی نماز سے پہلے غسل کرنے کا موقع نہ ملے اور وہ جمعہ کی نماز کے بعد غسل کرے تو جمعہ کا سنت غسل حاصل نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ جمعہ کا غسل نماز جمعہ کے لیے ہے نہ کہ جمعہ کے دن کے لیے۔*
*علامہ ترمسي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: (يسن الغسل لحاضرها) أي: مريد حضورها وإن لم تجب عليه؛لأن الغسل للصلاة لا لليوم۔* (حاشية الترمسي:٤/ ٢٩۱) مغني المحتاج:١/ ٤٩٦ بداية المحتاج:١/ ٣٨٧ الدیباج شرح المنهاج:١/ ٤٠٤
جمعرات _2 _ستمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0997
*اگر کوئی نماز میں تکبیر زیادہ کہے تو کیا سجدہ سہو کرنا ضروری ہے؟ اگر کسی نے سجدہ سہو کردیا تو کیا مسئلہ ہے؟*
*اگرکوئی نماز میں زائد تکبیر کہے تو سجدہ سہو کرنا ضروری نہیں مثلاً تیسری رکعت میں کھڑے ہونے کی بجائے بیٹھ جائے پھر زائد تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوجائے تو اب نماز کے آخر میں سہو نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ تکبیر نماز کی سنتوں میں سے ہیں اگرچہ زائد تکبیر بھول کر کہے یا عمدا اسی طرح اگر کوئی شخص نہ جاننے کی وجہ سے سجدۂ سہو کرے تو نماز باطل نہیں ہو گی۔*
*قال الإمام النووي (ر): مِن السُّنَنِ كالتَّعَوُّذِ ودُعاءِ الِافْتِتاحِ ورَفْعِ اليَدَيْنِ والتَّكْبِيراتِ والتَّسْبِيحاتِ…… وسائِرِ الهَيْئاتِ المَسْنُوناتِ غَيْرِ الأبْعاضِ فَلا يَسْجُدُ لَها سَواءٌ تَرَكَها عَمْدًا أوْ سَهْوًا لِأنَّهُ لَمْ يُنْقَلُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ السجود لشئ مِنها والسُّجُودُ زِيادَةٌ فِي الصَّلاةِ.* المجموع شرح المهذب ٤/١٢٥
*قال الخطيب الشربيني(ر): لَوْ فَعَلَ ما لا يَقْتَضِي سُجُودَ سَهْوٍ فَظَنَّ أنَّهُ يَقْتَضِيهِ وسَجَدَ لَمْ تَبْطُلْ إنّ كانَ جاهِلًا لِقُرْبِ عَهْدِهِ بِالإسْلامِ أوْ لِبُعْدِهِ عَنْ العُلَماءِ.* (مغني المحتاج إلى معرفة: معاني ألفاظ المنهاج ١/٤١٧) تحفة المحتاج في شرح:٢/١٥٠ حاشية البجيرمي على الخطيب:٢/٥٦ فتح العزيز بشرح الوجيز ٤/١٣٩
جمعرات _2 _ستمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0993
*کھانے پینے کے بعد پانی کے ہوتے ہوئے ٹیشو پیپر سے ہاتھ صاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟*
*کھانے پینے کے بعد اگر منہ یا ہاتھ پر چکنائی وغیرہ لگے تو اسے پانی سے دھوئے یا پھر ایسی چیز سے ہاتھ صاف کیا جائے جس سے چکنائی وغیرہ دور ہوجائے اگر ٹیشو سے ہاتھ صاف ہوجاتا ہو تو اس کا استعمال کرنا درست ہے ہاں اگر پانی کے بغیر صاف ہونا ممکن نہ ہو تو پانی کا استعمال کرنا ضروری ہے۔*
*أنَّهُ لا كَراهَةَ فِي عَدَمِ غَسْلِ اليَدِ مِنَ الطَّعامِ لَكِنْ بِشَرْطِ أنْ يُزالَ ما فِيها مِن أثَرِهِ بِالمَسْحِ.* (مرقاة المفاتيح:٣٦٨/١)
*قالَ عِياضٌ مَحِلُّهُ فِيما لَمْ يَحْتَجْ فِيهِ إلى الغَسْلِ مِمّا لَيْسَ فِيهِ غَمْرٌ ولُزُوجَةٌ مِمّا لا يُذْهِبُهُ إلّا الغَسْلُ لِما جاءَ فِي الحَدِيثِ مِنَ التَّرْغِيبِ فِي غَسْلِهِ والحَذَرِ مِن تَرْكِهِ* (فتح الباري:٥٧٩/٩)
*قال الإمام النووي رحمة الله عليه: ويستحب مسح اليد بالمنديل بعد فراغ الطعام* (فتاوى الامام النووي :١٦٥)
*قال الإمام الهرري رحمة الله عليه:وفيه جواز مسح اليد بعد الطعام وهذا والله أعلم فيما يكفي فيه المسح * (الکوکب الوھاج شرح صحیح مسلم:21/180)
جمعرات _2 _ستمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
بدھ _1 _ستمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
بدھ _1 _ستمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
منگل _31 _اگست _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
اردو ترجمہ حافظ محمد اقبال راشد
عنوان: موت سے پہلے عمل کی وصیت
منگل _31 _اگست _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ : حشر الدین مدنی
عنوان: اللہ تعالی کی تسبیح
منگل _31 _اگست _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
منگل _31 _اگست _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
پیر _30 _اگست _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
پیر _30 _اگست _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
اتوار _29 _اگست _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _29 _اگست _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
ہفتہ _28 _اگست _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0995
ایسی انگوٹھی جس میں اصلی ہیرا لگا ہو تو کیا مردوں کو استعمال کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
انگوٹھی جس میں اصلی ہیرا لگا ہو تو مردوں کے لیے اس انگوٹھی کا استعمال جائز ہے اسلیے کہ مردوں کے لیے ہیرے اور جواہر کے استعمال کے سلسلے میں کوئی ممانعت نہیں ملتی۔
يجوز استعمال الأواني المتخذة من المعادن النفيسة من نحو الماس واللؤلؤ والمرجان وغيرها، لعدم ورود نص بالنهي عنها، والأصل الإباحة ما لم يرد دليل التحريم (الفقه المنهجي :١/٤١)
علامہ دمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں قال: والنفيس كياقوت في الأظهر؛ لأنه لا يعرفه إلا الخواص، ولم يرد فيه نهي، ولا يظهر فيه معنى السرف والخيلاء، لكنه مكروه.قال الشافعي : إنما أكره لبس الياقوت والزبد جد من جهة السرف، فلو اتخذ لخاتمه فصًا منها .. جاز قطعًا (النجم الوهاج :١/٢٥٨)
علامہ شربینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ يَحِلُّ (النَّفِيسُ) بِالذّاتِ مِن غَيْرِ النَّقْدَيْنِ أيْ: اسْتِعْمالُهُ واِتِّخاذُهُ (كَياقُوتٍ) وفَيْرُوزَجَ، وبِلَّوْرٍ بِكَسْرِ الباءِ وفَتْحِ اللّامِ، و مِرْجانٍ، وعَقِيقٍ، والمُتَّخَذِ مِن الطِّيبِ المُرْتَفِعِ كَمِسْكٍ وعَنْبَرٍ وعُودٍ (فِي الأظْهَرِ)؛ لِأنَّهُ لَمْ يَرِدْ فِيهِ نَهْيٌ ولا يَظْهَرُ فِيهِ مَعْنى السَّرَفِ والخُيَلاءِ لَكِنَّهُ يُكْرَه۔ (مغني المحتاج :١/٥٣)