ہفتہ _12 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0896
*صفر کے مہینے کو بعض لوگ منحوس کہتے ہیں اور بہت کچھ باتیں عوام میں گردش کرتی ہے شریعت کی نظر میں اس کی کیا حقیقت ہے؟*
*صفر المظفر کے تعلق سے زمانے جاہلیت میں لوگوں کے درمیان بہت سی غلط باتیں اور غلط عقائد پائے جاتے تھے لیکن اسلام نے ان باطل نظریات کی مکمل تردید اور نفی کی ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں لھذا آج بھی اس مہینے کے تعلق سے جو باطل عقیدے اور توہمات مشہور ہیں اور جس کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ان میں سے چند اعمال مندرجہ ذیل ہیں:*
*مخصوص طریقہ پر خاص عقیدے کے ساتھ اسی مہینے میں مطلقاً نفل نمازیں پڑھنا۔*
*ماہ صفر میں نکاح اور ختنہ کرنے کو منحوس سمجھنا۔*
*ماہ صفر کے آخری بدھ کو کسی خاص عقیدے سے روزہ رکھنا۔*
*صفر مہینے کے آخری بدھ کو کسی خاص نیت سے خوشیاں منانا اور مٹھائیاں تقسیم کرنا*
*یہ تمام چیزیں زمانہ جاہلیت میں پائے جانے والی ماہ صفر کی خرافات ہیں ان اعمال کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں*
*لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ.* (صحیح البخاری:٥٧٠٧) *صاحب منار القاری فرماتے ہیں: ﻳﺪﻝ ﻋﻠﻰ ﺃﻥ ﻣﺮاﺩﻩ اﻟﻨﻔﻲ ﻭﺇﺑﻄﺎﻝ ﻫﺬﻩ اﻷﻣﻮﺭ اﻟﺘﻲ ﻛﺎﻧﺖ ﻓﻲ اﻟﺠﺎﻫﻠﻴﺔ. ﻗﻠﺖ: ﻭاﻟﻨﻔﻲ ﻫﻨﺎ ﻳﺘﻀﻤﻦ ﻣﻌﻨﻰ اﻟﻨﻬﻲ ﻭﺯﻳﺎﺩﺓ ﻷﻧﻪ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﻌﻨﺎﻩ: ﻻ ﺗﻌﺘﻘﺪﻭا ﻫﺬﻩ اﻻﻋﺘﻘﺎﺩاﺕ اﻟﻮﻫﻤﻴﺔ، ﻷﻥ ﻫﺬﻩ اﻷﺷﻴﺎء اﻟﺘﻲ ﺗﻌﺘﻘﺪﻭﻧﻬﺎ ﺑﺎﻃﻠﺔ ﻻ ﻭﺟﻮﺩ. ﻟﻬﺎ ﻓﻲ اﻟﻮاﻗﻊ، ﻭﻻ ﺃﺳﺎﺱ ﻟﻬﺎ ﻣﻦ اﻟﺼﺤﺔ* (منار القاري:٥/٢٢٣) *فتاوی اللجنۃ الدائمہ میں ہے: ﻫﺬﻩ اﻟﻨﺎﻓﻠﺔ اﻟﻤﺬﻛﻮﺭﺓ ﻓﻲ اﻟﺴﺆاﻝ ﻻ ﻧﻌﻠﻢ ﻟﻬﺎ ﺃﺻﻼ ﻣﻦ اﻟﻜﺘﺎﺏ ﻭﻻ ﻣﻦ اﻟﺴﻨﺔ، ﻭﻟﻢ ﻳﺜﺒﺖ ﻟﺪﻳﻨﺎ ﺃﻥ ﺃﺣﺪا ﻣﻦ ﺳﻠﻒ ﻫﺬﻩ اﻷﻣﺔ ﻭﺻﺎﻟﺤﻲ ﺧﻠﻔﻬﺎ ﻋﻤﻞ ﺑﻬﺬﻩ اﻟﻨﺎﻓﻠﺔ، ﺑﻞ ﻫﻲ ﺑﺪﻋﺔ ﻣﻨﻜﺮﺓ، ﻭﻗﺪ ﺛﺒﺖ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: «ﻣﻦ ﻋﻤﻞ ﻋﻤﻼ ﻟﻴﺲ ﻋﻠﻴﻪ ﺃﻣﺮﻧﺎ ﻓﻬﻮ ﺭﺩ (¬2) » ﻭﻗﺎﻝ: «ﻣﻦ ﺃﺣﺪﺙ ﻓﻲ ﺃﻣﺮﻧﺎ ﻫﺬا ﻣﺎ ﻟﻴﺲ ﻣﻨﻪ ﻓﻬﻮ ﺭﺩ* (فتاوى اللجنة الدائمة:٢/٤٩٧) *فتاوی اللجنۃ الدائمۃ: ﻣﺎ ﺫﻛﺮ ﻣﻦ ﻋﺪﻡ اﻟﺘﺰﻭﺝ ﺃﻭ اﻟﺨﺘﺎﻥ ﻭﻧﺤﻮ ﺫﻟﻚ ﻓﻲ ﺷﻬﺮ ﺻﻔﺮ ﻧﻮﻉ ﻣﻦ اﻟﺘﺸﺎﺅﻡ ﻣﻦ ﻫﺬا اﻝﺷﻬﺮ، ﻭاﻟﺘﺸﺎﺅﻡ ﻣﻦ اﻟﺸﻬﻮﺭ ﺃﻭ اﻷﻳﺎﻡ ﺃﻭ اﻟﻄﻴﻮﺭ ﻭﻧﺤﻮﻫﺎ ﻣﻦ اﻟﺤﻴﻮاﻧﺎﺕ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ؛ ﻟﻤﺎ ﺭﻭاﻩ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻭﻣﺴﻠﻢ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﻻ ﻋﺪﻭﻯ ﻭﻻ ﻃﻴﺮﺓ ﻭﻻ ﻫﺎﻣﺔ ﻭﻻ ﺻﻔﺮ (¬1) » ﻭاﻟﺘﺸﺎﺅﻡ ﺑﺷﻬﺮ ﺻﻔﺮ ﻣﻦ ﺟﻨﺲ اﻟﻄﻴﺮﺓ اﻟﻤﻨﻬﻲ ﻋﻨﻬﺎ، ﻭﻫﻮ ﻣﻦ ﻋﻤﻞ اﻟﺠﺎﻫﻠﻴﺔ ﻭﻗﺪ ﺃﺑﻄﻠﻪ اﻹﺳﻼﻡ.* (فتاوى اللجنة الدائمة:١/٦٥٨) إمداد المفتين:٢١٤ فتاوی رشیدیہ، کتاب العلم:۱۷۱
ہفتہ _12 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ صالح بن عبدالله بن حميد
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0895
*فجر کی اذان میں اگر الصلاة خير من النوم کا جملہ چھوٹ جائے تو کیا اذان دوبارہ دینا ہوگا؟*
*فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کہنا سنت ہے، اگر کسی اذان دینے والے شخص سے فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کا جملہ چھوٹ جائے تو اذان درست ہوگی البتہ اذان ختم ہونے سے پہلے یاد آجائے تو الصلاة خير من النوم کہہ کر بقیہ اذان مکمل کرے، اذان ختم ہونے کے بعد یاد آجائے تو دوبارہ دینے کی ضرورت نہیں*
*قال الإمام النووي رحمة الله عليه: وَأَمَّا التثويب في الصبح فَفِيهِ طَرِيقَانِ الصَّحِيحُ الَّذِي قَطَعَ بِهِ الْمُصَنِّفُ وَالْجُمْهُورُ أَنَّهُ مَسْنُونٌ قَطْعًا لِحَدِيثِ أَبِي مَحْذُورَةَ ….. وَالْمَذْهَبُ أَنَّهُ مَشْرُوعٌ فعلى هذا هو سُنَّةٌ لَوْ تَرَكَهُ صَحَّ الْأَذَانُ وَفَاتَهُ الْفَضِيلَةُ هَكَذَا قَطَعَ بِهِ الْأَصْحَابُ۔*. (المجموع شرح المهذب:٩٢/٣) *قال الإمام ابن حجر الهيتمي رحمة الله عليه: قَوْلُهُ م روَأَتَى بِالْمَتْرُوكِ أَيْ حَيْثُ لَمْ يَطُلْ الْفَصْلُ بِمَا أَتَى بِهِ مِنْ غَيْرِ الْمُنْتَظِمِ بَيْنَ الْمُنْتَظِمِ وَمَا كَمُلَ بِهِ۔*. (تحفة المحتاج في شرح المنهاج وحواشي الشرواني والعبادي:٤٧٠/١). *قال الإمام الرافعي رحمة الله عليه: قوله أتى بالمتروك) أي ولو ترك بعض الكلمات من خلاله اتى به واعاد ما بعده.* (فتح العزيز بشرح الوجيز الشرح الكبير للرافعي:١٨٤/٣)
جمعہ _11 _ستمبر _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)