بھٹكل جامع مسجد عربی خطبہ – 15-10-2021
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1006
کرایہ پر لی ہوئی گاڑی پر اگر پولیس جرمانہ لگائے جبکہ سواری میں جگہ کے بقدر مسافرین کی متعینہ تعداد سے زیادہ لوگ سوار ہوں تو پھر اس جرمانہ کا ضامن کون ہوگا؟
کرایہ پر لی ہوئی گاڑی اگر غیر قانونی طریقہ پر چلائے اور پولیس جرمانہ عائد کرے تو اس کا ذمہ دار بھی کرایہ پر لینے والا شخص ہی ہوگا
أيّ ضرر يصيب العين المستأجرة بسبب سوء الاستعمال، كما لو استأجر سيارة للركوب وأسرع بها في السير في الأماكن المزدحمة أو الطرقات الوعرة، فنتج عن ذلك ضرر لها.وكذلك إذا قصر في الحفظ، كأن يضع العين المستأجرة في مكان لا توضع فيه عادة، كما إذا وضع السيارة في منتصف الطريق، أو مكان غير مأمون دون حراسة، فإنه يضمن ما يطرأ عليها من حوادث. أما لو وضعها في مكان مأمون يعتاد الناس وضعها فيه، ثم أصابها شيء، فإنه لا يضمنه. (الفقہ المنہجی:١٥٧)
(ولو اكترى لمئة فحمل مئةً وعشرة .. لزمه أجرة المثل للزيادة) مع المُسمّى؛ لتعديه بها، وإنما مثل بالعشرة للإشارة إلى أن محلَّ ذلك: إذا كانت الزيادة قدرًا لا يقع التفاوت به بين الكَيْلين (بداية المحتاج في شرح المنهاج ٢/٤١٨) السراج الوهاج/٢٢١ روضة الطالبين وعمدة المفتين ٥/٢٣٣ النجم الوهاج في شرح المنهاج ٥/٣٨٠
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1005
کرایہ پر لی ہوئی گاڑی خراب ہوجائے تو اس کی اصلاح و درستگی کا ذمہ دار کون ہوگا؟
کرایہ پر لی ہوئی چیزپر کرایہ دار کا قبضہ بطور امانت کے ہوگا اس اعتبار سےاگر وہ چیز کرایہ دار کی طرف سے بغیر کوتاہی کے تلف ہوجائے یا کوئی عیب پایا جائے تو کرایہ دار پر اس تاوان نہیں ہوگا خواہ یہ نقصان گاڑی چلانے کے دوران پیش آئے یا اس سے قبل بلکہ اس کی بھرپائی یا اس کی اصلاح ودرستگی گاڑی کے مالک کے ذمہ ہوگی اور اگر کرایہ پر لینے والے کی کوتاہی سے خر اب ہوگی تو لینے والے کے ذمہ ہوگی
ويد المكتري على الدابة والثوب يدُ أمانة مدةَ الإجارة) فيصدق في التلف، ولا يضمن ما تلف منها بلا تعد ولا تقصير بالإجماع، لأنه مستحق المنفعة (بداية المحتاج في شرح المنهاج:٢/٤١٤)
ويَدُ المُكْتَرِي عَلى) المُسْتَأْجَرِ مِن (الدّابَّةِ والثَّوْبِ) وغَيْرِهِما (يَدُ أمانَةٍ مُدَّةَ الإجارَةِ) جَزْمًا، فَلا يَضْمَنُ ما تَلِفَ فِيها بِلا تَقْصِيرٍ، إذْ لا يُمْكِنُ اسْتِيفاءُ حَقِّهِ، إلّا بِوَضْعِ اليَدِ عَلَيْها، وعَلَيْهِ دَفْعُ مُتْلَفاتِها كالمُودَعِ.تَنْبِيهٌ لَوْ قالَ: عَلى المُسْتَأْجَرِ كَما قَدَّرْتُهُ بَدَلَ عَلى الدّابَّةِ والثَّوْبِ، لَكانَ أخَصْرَ وأشْمَلَ،(وكَذا بَعْدَها) إذالَمْ يَسْتَعْمِلْها (فِي الأصَحِّ (مغني المحتاج:٣/٤٧٦)
تحفة المحتاج في شرح المنهاج٦/١٧٩ العزيز شرح الوجيز المعروف۔ ٦/١٤٥ عجالة المحتاج إلى توجيه المنهاج ٢/٩٣٩
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
اردو ترجمہ حافظ محمد اقبال راشد
عنوان: فضيلتِ حمد
عنوان: صراطِ مستقيم
ترجمہ – ثناء الله صادق تیمی
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی