مدينة المنوّرة دعاء – 25 رمضان 1441
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
فقہ شافعی سوال نمبر / 0852
*کیا عید کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے یا تنہا گھر پر پڑھ سکتے ہیں ؟*
*دراصل عید کی نماز سارے علاقہ والوں کا ایک جگہ جمع ہو کر پڑھنا مسنون ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اگر عید کی نماز مساجد یا عیدگاہ میں ادا کرنے پر حکومت کی طرف سے پابندی رہی تو اس صورت میں لوگوں کو چاہیے کہ موجودہ قانون کے مطابق بقیہ فرض نمازوں کی طرح گھروں میں چار پانچ افراد مل کر جماعت کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں، اگر گھر میں صرف دو لوگ ہوں یا صرف میاں بیوی ہو تب بھی عید کی نماز باجماعت ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ اور اگر امام خطبہ دے سکتا ہو تو نماز کے بعد دو خطبہ دینا سنت ہے۔ اگر کوئی عید کی نماز تنہا ادا کر رہا ہو تو اس وقت خطبہ دینامشروع نہیں ہے۔*
*امام بجیرمی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: قَوْلُهُ: سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ أَيْ فَيُكْرَهُ تَرْكُهَا …. وَتُسَنُّ جَمَاعَةً وَفُرَادَى، وَيُسْتَحَبُّ الِاجْتِمَاعُ لَهَا فی مکان واحد۔* (حاشیة البجیرمی علی شرح المنھج.423/1) *امام نووی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: تُسَنُّ صَلَاةُ الْعِيدِ جَمَاعَةً وَهَذَا مُجْمَعٌ عَلَيْهِ لِلْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ الْمَشْهُورَةِ فَلَوْ صَلَّاهَا الْمُنْفَرِدُ فَالْمَذْهَبُ صِحَّتُهَا .* (ألمجموع شرح المھذب:19/5) *قال الامام الدميري رحمة الله عليه: إذا قلنا: يصلي المنفرد ..لا يخطب على الأصح* (النجم الوھاج:2/537) *(ﻭﺳﻦ ﺧﻄﺒﺘﺎﻥ ﺑﻌﺪﻫﻤﺎ) ﺑﻘﻴﺪ ﺯﺩﺗﻪ ﺑﻘﻮﻟﻲ (ﻟﺠﻤﺎﻋﺔ) ﻻ ﻟﻤﻨﻔرد قال الإمام سليمان الجمل ﻗﻮﻟﻪ ﻟﺠﻤﺎﻋﺔ) ﺃﻱ ﻭﻟﻮ ﺻﻠﻮا ﻓﺮاﺩﻯ ﻷﻥ اﻟﻤﻘﺼﻮﺩ اﻟﻮﻋﻆ ﻭﺃﻗﻞ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ اﺛﻨﺎﻥ ﻛﻤﺎ ﻣﺮ ﻓﻠﻮ ﻛﺎﻥ اﺛﻨﺎﻥ ﻣﺠﺘﻤﻌﺎﻥ ﺳﻦ ﻷﺣﺪﻫﻤﺎ ﺃﻥ ﻳﺨﻄﺐ ﻭﺇﻥ ﺻﻠﻰ ﻛﻞ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﻣﻨﻔﺮﺩا اﻩـ. ..* (حاشية الجمل على شرح المنهج: فتوحات الوهاب بتوضيح شرح منهج الطلاب ٢/٩٦)
مولانا مقبول احمد كوبٹّے صاحب ندوی
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فضيلة الشيخ ٱحمد بن علي الحذيفي
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزيز بليلة
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فقہ شافعی سوال نمبر / 0851
*لاک ڈاؤن کی وجہ سے مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟*
*اعتکاف کے صحیح اور درست ہونے کے لیے شرعی مسجد کا ہونا ضروری ہے مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف کرنا درست نہیں، کرونا وائرس کی وجہ سے ملک میں اکثر جگہوں پر لاک ڈاؤن ہے جس کی وجہ سے مساجد میں جمع ہونا قانوناً جرم ہے۔ اس لیے محلہ یا گاؤں میں سے اگر کوئی ایک یا دو افراد مسنون اعتکاف کرلے تو یہ سنت ادا ہوگی۔ چونکہ اعتکاف کا اہم مقصد لیلۃ القدر کی تلاش اور جستجو ہے اس لیے بقیہ تمام لوگ اپنے اپنے گھروں میں عبادتوں میں مشغول رہیں۔ واضح رہے کہ اگر کوئی مرد گھر میں اعتکاف کی نیت کرے تو اس کا اعتکاف درست نہیں ہوگا۔*
*علامہ خطیب شربيني رحمة الله علیه فرماتے ہیں: وَالِاعْتِكَاف سنة مُؤَكدَة وَهِي (مُسْتَحبَّة) أَي مَطْلُوبَة فِي كل وَقت فِي رَمَضَان وَغَيره بِالْإِجْمَاع ولإطلاق الْأَدِلَّة* (الاقناع في حل الفاظ ابي شجاع٢٤٦/١) *علامہ ابن نقیب رحمة الله علیه فرماتے ہیں: الاعتكافُ سُنَّةٌ في كلِّ وقتٍ، ورمضانُ آكدُ، والعشرةِ الأخيرةِ آكدُ لطلبِ ليلةِ القدرِ، ويمكنُ أنْ تكونَ في جميعِ رمضانَ، وفي العشرةِ الأخيرةِ أرْجى، وفي أوتارهِ أرْجى، وفي الحادي والثالثِ والعشرينَ أرجى، ويُكثِرُ في ليلةِ القدْرِ: "اللهمَّ إنكَ عفوٌّ تحبُ العفوَ فاعفُ عني”.* عمدة السالك وعدة الناسك/١٢٠ *علامہ ابن حجر الہیتمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: قَوْلُ الْمَتْنِ (وَالْجَدِيدُ أَنَّهُ لَا يَصِحُّ إلَخْ) وَالْقَدِيمُ يَصِحُّ؛ لِأَنَّهُ مَكَانُ صَلَاتِهَا كَمَا أَنَّ الْمَسْجِدَ مَكَانُ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَأَجَابَ الْأَوَّلُ بِأَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَخْتَصُّ بِمَوْضِعٍ بِخِلَافِ الِاعْتِكَافِ وَعَلَى الْقَوْلِ بِصِحَّةِ اعْتِكَافِهَا فِي بَيْتِهَا يَكُونُ الْمَسْجِدُ لَهَا أَفْضَلَ خُرُوجًا مِنْ الْخِلَافِ نِهَايَةٌ وَمُغْنِي.* (تحفة المحتاج و حواشي الشيرواني :٤٦٦/٣) *امام شیرازی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: ولا يصح الاعتكاف من الرجل إلا في المسجد لقوله تعالى: {وَلا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ} [البقرة:187] فدل على أنه لا يكون إلا في المسجد ولا يصح الاعتكاف من المرأة إلا في المسجد لأن من صح اعتكافه في المسجد لم يصح اعتكافه في غير المسجد كالرجل*. المهذب في فقه الامام الشافعي.٣٥٠/١ *علامہ بجیرمی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: إنَّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَعْتَكِفَ فِي الْمَحَلِّ الَّذِي هَيَّأَتْهُ لِلصَّلَاةِ فِي بَيْتِهَا بِخِلَافِ الرَّجُلِ وَالْخُنْثَى۔* *شیخ عظیم آبادی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَأَمَّا الرَّجُلُ فَلَمْ يَخْتَلِفُوا أَنَّ اعْتِكَافَهُ فِي بَيْتِهِ غَيْرُ جَائِزٍ وَإِنَّمَا شُرِعَ الِاعْتِكَافُ فِي الْمَسَاجِدِ وَكَانَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ يَقُولُ لَا يَكُونُ الِاعْتِكَافُ إِلَّا فِي الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ مَسْجِدِ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ۔* (عون المعبود وحاشية ابن القيم:٩٩/٧)
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير