صحت ایک عظیم نعمت ہے – 28-08-2020
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فضيلة الشيخ عبد الباري بن عواض الثبيتي
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0887
*حلال جانور کو اگر کتا کانٹے تو اس جانور کے گوشت کھانے کا کیا حکم ہے؟*
*حلال جانور کو اگر کتا کانٹے دے اور اس جانور کو ذبح کرتے وقت روح باقی ہو تو اس جانور کا ذبیحہ حلال ہے، البتہ جس جانور کو کتے نے کاٹا ہو اور اس جانور میں زہر پھیل گیا ہو تو اس کا کھانا درست نہیں ہے۔*
*علامہ نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: اﻟﺜﺎﻟﺜﺔ: ﻣﻋﺾ اﻟﻜﻠﺐ ﻣﻦ اﻟﺼﻴﺪ ﻧﺠﺲ، ﻳﺠﺐ ﻏﺴﻠﻪ ﺳﺒﻌﺎ ﻣﻊ اﻟﺘﻌﻔﻴﺮ ﻛﻐﻴﺮﻩ. ﻓﺈﺫا ﻏﺴﻞ، ﺣﻞ ﺃﻛﻠﻪ، ﻫﺬا ﻫﻮ اﻟﻤﺬﻫﺐ.* (روضة الطالبين:٣/٢٤٨) *علامہ زکریا انصاری رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻓﺼﻞ ﻳﺠﺐ ﻏﺴﻞ ﻣﻋﺾ اﻟﻜﻠﺐ.* *(ﻓﺼﻞ ﻭﻳﺠﺐ ﻏﺴﻞ ﻣﻌﺾ اﻟﻜﻠﺐ) ﺳﺒﻌﺎ ﻣﻊ اﻟﺘﻌﻔﻴﺮ (ﻛﻐﻴﺮﻩ) ﻣﻤﺎ ﻳﻨﺠﺴﻪ اﻟﻜﻠﺐ ﻓﺈﺫا ﻏﺴﻞ ﺣﻞ ﺃكله.* (أسنى المطالب:١/٥٥٦) *صاحب عمدة السالك فرماتے ہیں: ﻭﻛﻞ ﻣﺎ ﺿﺮ ﺃﻛﻠﻪ ﻛﺎﻟﺴﻢ ﻭاﻟﺰﺟﺎﺝ ﻭاﻟﺘﺮاﺏ، ﺃﻭ ﻛﺎﻥ ﻧﺠﺴﺎ، ﺃﻭ ﻃﺎﻫﺮا ﻣﺴﺘﻘﺬﺭا ﻛﺎﻟﺒﺼﺎﻕ ﻭاﻟﻤﻨﻲ، ﻻ ﻳﺤﻞ ﺃﻛﻠﻪ.* (عمدة السالك:١/١٥٧)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)