لوک ڈون کے پیش نظر کامیاب مسلمان کیسے بن سکتے ہیں؟ – 16-04-2020
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0842
کسی حائضہ یا نفاس والی عورت کو رمضان کے مہینہ میں روزہ کی نیت سے روزہ دارکی طرح کھانے پینے سے رکے رہنے کا کیا حکم ہے؟
*حيض و نفاس والی عورت کے لیے روزہ رکھنا درست نہیں ہے اسی طرح روزہ کی نیت سے روزہ توڑنے والے امور سے باز رہنا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ جب شریعت نے اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت نہیں دی ہے اس کے باوجود ایسی عورت روزہ دار کی طرح بھوکے رہنا گویا شریعت کے حکم کی خلاف ورزی کرنا ہے۔ لہذا اگر کوئی عورت ایسا کرتی ہے تو وہ گنہگار ہوگی۔البتہ روزہ کی نیت کے بغیر روزہ دار کی طرح رہے تو وہ گنہگار نہیں ہوگی۔ *
(ﺃﻣﺎ) ﺃﺣﻜﺎﻡ اﻟﻔﺼﻞ ﻓﻔﻴﻪ ﻣﺴﺎﺋﻞ (ﺇﺣﺪاﻫﺎ) ﻻ ﻳﺼﺢ ﺻﻮﻡ اﻟﺤﺎﺋﺾ ﻭاﻟﻨﻔﺴﺎء ﻭﻻ ﻳﺠﺐ ﻋﻠﻴﻬﻤﺎ ﻭﻳﺤﺮﻡ ﻋﻠﻴﻬﻤﺎ ﻭﻳﺠﺐ ﻗﻀﺎﺅﻩ ﻭﻫﺬا ﻛﻠﻪ ﻣﺠﻤﻊ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻟﻮ ﺃﻣﺴﻜﺖ ﻻ ﺑﻨﻴﺔ اﻟﺼﻮﻡ ﻟﻢ ﺗﺄﺛﻢ ﻭاﻧﻤﺎ ﺗﺄﺛﻢ ﺇﺫا ﻧﻮﺗﻪ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻻ ﻳﻨﻌﻘﺪ . (المجموع:٦/ ٢٥٧) واما الحائض والنفساء فلا یصح صومھما۔ ولایجوز لھما ان یمسکا بنیة الصوم فان فعلتا اثمتالما روی ابوسعید الخدری رض ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: اذا حاضت المرآۃ لم تصم ولم تصل وذلك نقصان…. (البیان:3/472) ثم ذكر الشافعي بعد هذا: أن الحائض منهية عن الصوم، ولو قصدته وأوقعت الإمساك منويا عصت ربها (نھاية المطلب: ٤٩/٤)
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0838
اگر کوئی شخص نماز میں ایک ہی آیت کو باربار پڑھے اور دوسری آیت زبان پر نہیں آرہی ہو تو کیا ایسی صورت میں اس پر سجدہ سہو واجب ہو گا یا نہیں؟
اگر کوئی شخص نماز میں ایک ہی آیت کو بار بار پڑھے اور دوسری آیت زبان پر نہیں آرہی ہو تو اس صورت میں اس کی نماز درست ہوگی اور سجدہ سہو کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
فلو كان تخلّل الذكر الأجنبي، أو السكوت الطويل، سهواً أو جهلاً أو كان السكوت لتذكر آية، لم يضر، كما لو كرر آية منها في محلها ولو لغير عذر……. (إعانة الطالبين:٢٢٦/١) قال الإمام: والذي أراه أنه لا تنقطع موالاته بتكرير كلمة منها كيف كان……في كتابه التبصرة بأنه لا تنقطع قراءته سواء كررها للشك أو للتفكر…… وقال المتولي: إن كرر الآية التي هو فيها لم تبطل قراءته، و إن أعاد بعض الآيات التي فرغ منها بأن وصل إلى {أنعمت عليهم} ثم قرأ {مٰلك يوم الدين}، فإن إستمر على القراءة من {مٰلك يوم الدين} أجزأته قراءته… (المجموع:٣٢٨/٤)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0840
گھر میں اکیلے فرض نماز پڑھتے وقت قرات بلند آواز سے پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے؟
*اگر کوئی گھر میں اکیلے نماز پڑھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنی قرات کو جہری نمازوں فجر، مغرب اور عشاء کی شروع کی دو رکعتوں میں قرات آواز کے ساتھ پڑھنا سنت ہے۔ اور بقیہ نمازوں یعنی ظہر اور عصر میں (سرا) آہستہ آواز میں پڑھنا سنت ہے *
فروع. يستحب للامام، والمنفرد الجهر في الصبح والاولين من المغرب والعشاء. والسنة. أن يجهر الامام، والمنفردفي. الصبح والاولين. من المغرب، والاولين من العشاء ويسر فيما سوى ذلك من الصلوات الخمس، لانه نقل ذلك من النبي.صلى الله عليه وسلم. نقلا متواترا وهو اجماع لا خلاف فيه. (مغني المحتاج:٣٦٢/١)
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
فضيلة الشيخ عبد الباري بن عواض الثبيتي
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزيز بليلة
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0839
عورتوں کو جماعت کی نماز کے لیے اذان دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
عورت چاہے اکیلی نماز پڑھے یا جماعت بنا کر ہر صورت میں عورت نماز کے لیے اذان نہ دے گی عورت کے اذان دینے میں فتنہ کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ البتہ اقامت آہستہ آواز دینا مسنون ہے۔
علامہ سلیمان جمل رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَإِنْ كَانَ الْمُرَادُ أَنَّ الْمَرْأَةَ وَالْخُنْثَى لَا يُسَنُّ الْأَذَانُ مِنْ نَفْسِهِمَا وَيُسَنُّ أَنْ يُحَصِّلَا لَهُمَا ذَكَرًا يُؤَذِّنُ لَهُمَا سَوَاءٌ كَانَتَا مُنْفَرِدَتَيْنِ أَوْ مُجْتَمَعِينَ لَمْ يَحْصُلْ تَعَارُضٌ بَيْنَ الْمَحَلَّيْنِ حُرِّرَ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ مَا يَقْتَضِي صِحَّةَ أَحَدِ الْمُرَادَيْنِ دُونَ الْآخَرِ (حاشية الجمل:٢٩٩/١) علامہ بجیرمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَ) سُنَّ. (إقَامَةٌ) لَا أَذَانٌ. (لِغَيْرِهِ) أَيْ لِلْمَرْأَةِ وَالْخُنْثَى مُنْفَرِدَيْنِ أَوْ مُجْتَمِعَيْنِ؛ لِأَنَّهَا لِاسْتِنْهَاضِ الْحَاضِرِينَ فَلَا تَحْتَاجُ إلَى رَفْعِ صَوْتٍ وَالْأَذَانُ لِإِعْلَامِ الْغَائِبِينَ فَيُحْتَاجُ فِيهِ إلَى الرَّفْعِ وَالْمَرْأَةُ يُخَافُ مِنْ رَفْعِ صَوْتِهَا الْفِتْنَةُ وَأُلْحِقَ بِهَا الْخُنْثَى احْتِيَاطًا. (حاشية البجيرمي:١٦٩/١) امام الحرمین فرماتے ہیں: وممّا نذكره مرسلاً، أن المرأة لا تؤذن رَافعةً صوتَها، ولو أذنت في جمع الرجال لا يعتدّ بأذانها وفاقاً، وذلك يناظر حكمنا بامتناع اقتداء الرجال بها، وإِن كانت صلاتها صحيحة، والقياس أن من صحت صلاتُه، صح الاقتداء به. (نهاية المطلب:٤٤/٢) امام بغوی رحمة الله عليه فرماتے ہیں۔ويستحب للمرأة أن تقيم ولا تؤذن؛ لأن الأذان؛ لإعلام النَّاس وفي موتها فتنة. (التهذيب:٤٧/٢)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0837
ماسک پہن کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
*موجودہ حالات میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے چہرے پر ماسک کا لگانا احتیاطی تدابیر میں داخل ہے، لہذا اگر کوئی شخص ماسک لگا کر نمازمیں سجدہ کرتا ہے، جبکہ سجدے میں ناک زمین پر لگنے سے ماسک حائل بن رہا ہے تو اس صورت میں ماسک لگا کر نماز پڑھنا صحیح اور درست ہے اس سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس لیے کہ سجدہ میں ناک کا زمین پر لگنا واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے۔ نیز ماسک کا پہننا عذر کی بناء پر ہے. لہذا اس صورت میں ناک کا زمین پر لگنا بھی شمار ہوگا جیسا کہ پیشانی پر زخم کی بناء پر پٹی ہوتو پیشانی کا لگنا شمار ہوتا ہے اور سجدہ درست ہوتا ہے *
وَإِنَّمَا لَمْ يَجِبْ وَضْعُ الْأَنْفِ كَالْجَبْهَةِ مَعَ أَنَّ خَبَرَ «أُمِرْت أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ» ظَاهِرُهُ الْوُجُوبُ لِلْأَخْبَارِ الصَّحِيحَةِ الْمُقْتَصِرَةِ عَلَى الْجَبْهَةِ قَالُوا وَتُحْمَلُ أَخْبَارُ الْأَنْفِ عَلَى النَّدْبِ قَالَ فِي الْمَجْمُوعِ وَفِيهِ ضَعْفٌ؛ (أسنى المطالب في شرح روض الطالب:١٦٢/١) فان کان بجبھتة جراحة فعصبھا بعصابة وسجد علی العصابة اجز أ ہ لانه لماجاز ترك اصل السجود لعذر فلان یجوز ترك مباشرۃ الجبھة لعذراولی (البیان:2/215) فالسجود على الجبهة واجب عند الشافعية بلا خلاف، والسجود على الأنف مع الجبهة مستحب عندهم، فلو تركه جاز، . فتح المنعم شرح صحيح مسلم٦٨/٣
فقہ شافعی سوال نمبر / 0836
اگر میاں بیوی دونوں ایک ساتھ باجماعت نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو اس کی کیا ترتیب ہے؟
*اگر صرف میاں بیوی باجماعت نماز پڑھنا چاہتے ہوں تو مرد کی اقتداء میں بیوی بالکل پیچھے الگ صف میں کھڑی ہوگی۔ یعنی صرف دو مرد ہونے کی صورت میں جس طرح ایک دائیں جانب گھڑا ہوتاہے عورت کا اس طرح کھڑا ہونا درست نہیں۔ *
قال الإمام العمراني رحمه الله: وإن حضر مع الإمام إمرأة لا رجل معها وقفت خلف الإمام . (البيان:٢ / ٤١٤) قال الإمام النووي رحمه الله: ولو لم يحضر إلا إناث صفهن خلفه، سواء الواحدة وجماعتهن . (روضة الطالبين:١ /٤٦٣) قال الإمام ابن حجر الهيتمي رحمه الله: وكذا لو حضر إمرأة أو نسوة فقط فتقف هي أو هن خلفه، وإن كن محارمه للاتباع أيضا . (تحفة المحتاج:١ / ٢٩٤)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0835
اگر بالغ مرد اور نابالغ بچوں کے ساتھ عورتیں بھی جماعت سے نماز پڑھ رہی ہوں تو ان کی صف بندی کی کیا صورت ہوگی؟
اگر بالغ مرد اور نابالغ بچوں کے ساتھ عورتیں بھی ہوں تو امام کے پیچھے پہلی صف میں بالغ مرد اور نابالغ بچوں کو کھڑا کیا جائے گا، اور گھر کی عورتیں اس کے پیچھے دوسری صف بناکر نماز پڑھیں گی۔
قال الإمام النووي رحمه الله : وإن حضر معه إمرأة ورجلان ، أو رجل وصبي قام الرجلان ، أو الرجل والصبي خلف الإمام صفا وقامت هي خلفهما (روضة الطالبين١/٤٦٣) قال الإمام العمراني رحمه الله: وإن حضر مع الرجل والصبي إمرأة وقفت خلفهما لحديث أنس . (البيان:٢/ ٤١٤)
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي