الله لطيف بعباده – 20-03-2020
فضيلة الشيخ أحمد بن طالب بن حميد
فضيلة الشيخ أحمد بن طالب بن حميد
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0832
کاروبار میں خریدو فروخت کے وقت بائع یعنی بیچنے والا اگر یہ شرط لگائے (ڈئیل) ختم کرنے کی صورت میں ایڈوانس رقم واپس نہیں ملے گی، کیا اس طرح کی شرط کے ساتھ لین دین کرنا درست ہے؟
بائع یعنی بیچنے والا یہ کہے کہ ڈئیل (لین دین) ختم کرنے کی صورت میں ایڈوانس رقم واپس نہیں ملے گی تو شرعا اس طرح شرط رکھ کر خرید و فروخت کرنا درست نہیں ہے۔
بيع العُرْبون: وهو أن يبيعه شيئاً على أن يعطيه جزءاً من الثمن، يكون هبة للبائع إن لم يتم البيع، وإن تم البيع حُسب من الثمن. فهو منهي عنه وباطل لأن فيه شرطاً فاسداً، وهو الهبة للبائع. (الفقه المنهجي على مذهب الإمام الشافعي:٣٤/٣) الْعُرْبُونِ) بِفَتْحِ الْعَيْنِ وَالرَّاءِ وَبِضَمِّ الْعَيْنِ وَإِسْكَانِ الرَّاءِ لِمَا رَوَى أَبُو دَاوُد «أَنَّهُ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ» أَيْ بِضَمِّ الْعَيْنِ وَإِسْكَانِ الرَّاءِ لُغَةٌ ثَالِثَةٌ (وَهُوَ أَنْ يُعْطِيَهُ بَعْضَ الثَّمَنِ فَإِنْ فُسِخَ كَانَ هِبَةً) عِبَارَةُ الْأَصْلِ وَهُوَ أَنْ يَشْتَرِيَ سِلْعَةً مِنْ غَيْرِهِ وَيَدْفَعَ إلَيْهِ دَرَاهِمَ لِتَكُونَ مِنْ الثَّمَنِ إنْ رَضِيَ السِّلْعَةَ وَإِلَّا فَهِبَةٌ۔ (أسنى المطالب في شرح روض الطالب:٣١/٢)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0831
*بعض ملکوں میں کرونا وائرس کی وجہ سے مؤذن حضرات اذان میں ”الا صلوا في رحالكم“ کہتے ہیں اس طرح کہنے کا کیا حکم ہے؟ *
جن اعذار (جیسے خوف، مرض، تیز بارش، کیچڑ وغیرہ) کی وجہ سے جماعت کو ترک کرنے کی اجازت ہے ایسے موقع پر اذان کے بعد ”الا صلوا فی رحالکم“ کہنا مستحب ہے۔ اس وقت بعض ملکوں میں جس طرح اذان میں “الا صلوا فی رحالکم“کے کلمات کہنا شروع کیا ہے تو شرعا ان الفاظ کا اذان میں کہنا جائز ہے البتہ اذان مکمل ہونے کے بعد کہنا مستحب ہے تاکہ اذان کا وزن برقرار رہے۔ اگر کوئی حی علی الصلاہ اور حی علی الفلاح کے بعد کہے تب بھی جائز ہے۔
قال المبارك الفوري رحمة الله عليه: ألا صلوا في رحالكم في نفس الأذان، وفي حديث ابن عمر أنه قال في آخر ندائه، والأمران جائزان نص عليهما الشافعي رحمه الله تعالى في الأم في كتاب الأذان، وتابعه جمهور أصحابنا في ذلك، فيجوز بعد الأذان، وفي أثنائه؛ لثبوت السنة فيهما، لكن قوله بعده أحسن؛ ليبقى نظم الأذان على وضعه۔ (تحفة الاحوذي/٦٩٧) قال النووي رحمة الله عليه : قال الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي آخِرِ أَبْوَابِ الْأَذَانِ إذَا كَانَتْ لَيْلَةً مَطِيرَةً أَوْ ذَاتَ رِيحٍ وَظُلْمَةٍ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَقُولَ الْمُؤَذِّنُ إذَا فَرَغَ مِنْ أَذَانِهِ أَلَا صَلُّوا في رحالكم قال فَإِنْ قَالَهُ فِي أَثْنَاءِ الْأَذَانِ بَعْدَ الْحَيْعَلَةِ فَلَا بَأْسَ هَذَا نَصُّهُ. (المجموع شرح المهذب:١٢٩/٣)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0830
*اگر کوئی نکاح میں ایجاب و قبول عربی زبان میں کرے جبکہ دولھا عربی زبان نہ جانتا ہو تو اس کا کیا مسئلہ ہے؟
نکاح میں ایجاب و قبول ہی اصل ہے اس کے بغیر نکاح ہی نہیں ہوتا اگر دولھا یا ولی یا دونوں میں سے کوئی ایک عربی نہ جانتا ہو لیکن ایجاب و قبول میں پڑھے جانے والے الفاظ اور مفہوم معلوم ہو تو نکاح منعقد ہوگا اگر اتنا بھی نہ جانتا ہو تو ایجاب و قبول درست نہیں۔
و إن كان أحدهما يحسن العربية ولا يحسن العجمية، و الآخر يحسن العجمية و لا يحسن العربية، و قلنا: يصح العقد بالعجمية- صحّ العقد بينهما بشرط أن يفهم القابل أن الولي أوجب له النكاح؛ لأنه إذا لم يفهم، لا يصح أن يقبل.. (المجموع:٢٣٥/١٩) و إذا صححناه فذاك إذا فهم كل منهما كلام الآخر. فإن لم يفهم فأخبره ثقة عن معنى لفظه….. (روضة الطالبين:٣٨٢/٥)