جمعرات _26 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0834
بہت سارے ممالک میں حکومت کی طرف سے باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے اور اس وبائی مرض کی شدت اور حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اوقاف یا قاضی شہر کی طرف سے جمعہ نہ ہونے کا اعلان کیا گیا ہے تو کیا ایسی صورت میں ہم اپنے گھروں چند لوگوں کے ساتھ جمعہ پڑھ سکتے ہیں یا ظہر پڑھنا ہوگا؟
اس وقت جو مرض کرونا وائرس دنیا کے اکثر ممالک بشمول ہندوستان میں جس تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور اکثر جگہوں پر حکومت کی طرف سے سخت اقدامات کیے گیے ہیں مقاصد شرعیہ کو سامنے رکھتے ہوئے وہاں کے اوقاف یا شہر کے قاضی کی طرف سے جمعہ نہ ہونے کا اعلان کیا گیا ہے تو ایسے وقت میں اپنے گھروں میں جمعہ کے بجائے ظہر کی چار رکعت نماز ادا کرینگے ۔اس لیے کہ مذکورہ صورت حال میں جمعہ نہ پڑھنے کی گنجائش ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُذْرٍ ". (سنن ابن ماجہ:793) قال ابن الملقن: ولا رخصة في تركها، وان قلنا سنة اي ولا رخصة في ترك الجماعة… الا بعذر (عمدۃ المحتاج:3/274) *قال الرؤياني: قال أصحابنا:كل ما كان عذرا في ترك الجماعة فهو عذر في ترك الجمعة…. * (بحرالمذھب:3/116) وقد ذكر الفقهاء جملة من الأعذار التي تسقط بها صلاة الجماعة في المسجد ومنها : المطر الشديد الذي يشق معه الخروج للجماعة، الريح الشديدة ليلا لما في ذلك من المشقة، البرد الشديد ليلا أو نهارا…..غير ذلك من الأعذار التي ذكرها الفقهاء رحمة الله عليهم ، ومن تأملها علم أن الحظر أولى بالاعتبار من تلك الأعذار ؛ لما يترتب على مخالفته من ضرر يلحق بالنفس والأهل . (حظر التجول واحكامه الفقهية)
اتوار _22 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0833
کرونا وائرس کی وجہ سے بعض جگہ حکومت کی طرف سے جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے تو کیا ایسی صورت میں جمعہ چھوڑ کر ظہر پڑھنے کی گنجائش ہے؟
شریعت میں جن اعذار کی بنا پر جماعت چھوڑنے کی اجازت ہے ان میں مرض، خوف، تیز بارش، زیادہ کیچڑ، وغیرہ شامل ہیں لیکن اس رخصت پر آخری درجہ میں عمل کیا جائے گا۔ اگر کسی جگہ حکومت کی طرف سے کسی خاص مرض کے پھیلنے کے خوف سے (کرونا وائرس) یا کسی اور عذر کی وجہ سے ایک جگہ بڑی تعداد میں جمع ہونے سے منع کیا گیا ہے تو اس صورت میں ممکن ہو تو اپنے علاقوں یا بستیوں میں چالیس افراد کے ذریعے جمعہ کی نماز پڑھنے کی کوشش کی جائے اگر اتنے لوگ بھی جمع ہونے پر پابندی ہو تو اس صورت میں کم از کم چار یا پانچ لوگ جمع ہو کر جس جگہ ممکن ہو جمعہ پڑھیں گے۔ اگر بیماری بہت زیادہ ہو یا حکومت کی طرف سے سخت رکاوٹ ہو تو ایسی صورت میں جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز پڑھی جائے گی۔*
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُذْرٍ ". (سنن ابن ماجه:٧٩٣) قال المباركفوري رحمة الله عليه: من سمع النداء فلم يجب من غير ضرر ولا عذر فلا صلاة له (مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:٥٢٤/٣) قال ابن الملقن رحمة الله عليه: ولا رخصة في تركها، وان قلنا سنة اي ولا رخصة في ترك الجماعة… الا بعذر (عمدة المحتاج:٢٧٤/٣) *قال الرؤياني رحمة الله عليه : قال أصحابنا:كل ما كان عذرا في ترك الجماعة فهو عذر في ترك الجمعة…. * (بحر المذهب:١١٦/٣) (فتنعقد عنده باربعة) اي بالامام وهو قول قديم للشافعي ورجحه المزني وابن منذر وكذا مال اليه جمع من المحققين المتقدمين والمتأخرة ومنهم الامام السيوطي.. (ترشيح المستفيدين:١١٨)
اتوار _22 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
ہفتہ _21 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
جمعہ _20 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ أحمد بن طالب بن حميد
جمعہ _20 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
جمعہ _20 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
جمعہ _20 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _20 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _20 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _20 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _20 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _20 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعرات _19 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
جمعرات _19 _مارچ _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0832
کاروبار میں خریدو فروخت کے وقت بائع یعنی بیچنے والا اگر یہ شرط لگائے (ڈئیل) ختم کرنے کی صورت میں ایڈوانس رقم واپس نہیں ملے گی، کیا اس طرح کی شرط کے ساتھ لین دین کرنا درست ہے؟
بائع یعنی بیچنے والا یہ کہے کہ ڈئیل (لین دین) ختم کرنے کی صورت میں ایڈوانس رقم واپس نہیں ملے گی تو شرعا اس طرح شرط رکھ کر خرید و فروخت کرنا درست نہیں ہے۔
بيع العُرْبون: وهو أن يبيعه شيئاً على أن يعطيه جزءاً من الثمن، يكون هبة للبائع إن لم يتم البيع، وإن تم البيع حُسب من الثمن. فهو منهي عنه وباطل لأن فيه شرطاً فاسداً، وهو الهبة للبائع. (الفقه المنهجي على مذهب الإمام الشافعي:٣٤/٣) الْعُرْبُونِ) بِفَتْحِ الْعَيْنِ وَالرَّاءِ وَبِضَمِّ الْعَيْنِ وَإِسْكَانِ الرَّاءِ لِمَا رَوَى أَبُو دَاوُد «أَنَّهُ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ» أَيْ بِضَمِّ الْعَيْنِ وَإِسْكَانِ الرَّاءِ لُغَةٌ ثَالِثَةٌ (وَهُوَ أَنْ يُعْطِيَهُ بَعْضَ الثَّمَنِ فَإِنْ فُسِخَ كَانَ هِبَةً) عِبَارَةُ الْأَصْلِ وَهُوَ أَنْ يَشْتَرِيَ سِلْعَةً مِنْ غَيْرِهِ وَيَدْفَعَ إلَيْهِ دَرَاهِمَ لِتَكُونَ مِنْ الثَّمَنِ إنْ رَضِيَ السِّلْعَةَ وَإِلَّا فَهِبَةٌ۔ (أسنى المطالب في شرح روض الطالب:٣١/٢)