ادب واحترام – 27-09-2019
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0784
اگر کوئی وضوء میں ہاتھ دھونے کے بعد دوسرا پانی لیے بغیر صرف گیلے ہاتھوں سے سر کا مسح کرے تو کیا سر کا مسح درست ہوگا؟
سر کے مسح کیلے نیا پانی لینا ضروری ہے، لھذا ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے سر کا مسح کرنا کافی نہیں ہے کیونکہ وہ استعمال شدہ پانی ہوگیا اور استعمال ہوئے پانی کو وضو اور غسل کے لیے دوبارہ استعمال کرنا درست نہیں ہے۔
قال الإمام النووي: ﻗﻮﻟﻪ ﻭﻣﺴﺢ ﺑﺮﺃﺳﻪ ﺑﻤﺎء ﻏﻴﺮ ﻓﻀﻞ ﻳﺪﻩ) ﻭﻓﻲ ﺑﻌﺾ اﻟﻨﺴﺦ ﻳﺪﻳﻪ ﻣﻌﻨﺎﻩ ﺃﻧﻪ ﻣﺴﺢ اﻟﺮﺃﺱ ﺑﻤﺎء ﺟﺪﻳﺪ ﻻ ﺑﺒﻘﻴﺔ ﻣﺎء ﻳﺪﻳﻪ ﻭﻻ ﻳﺴﺘﺪﻝ ﺑﻬﺬا ﻋﻠﻰ ﺃﻥ اﻟﻤﺎء اﻟﻤﺴﺘﻌﻤﻞ ﻻ ﺗﺼﺢ اﻟﻄﻬﺎﺭﺓ ﺑﻪ ﻷﻥ ﻫﺬا ﺇﺧﺒﺎﺭ ﻋﻦ اﻹﺗﻴﺎﻥ ﺑﻤﺎء ﺟﺪﻳﺪ ﻟﻠﺮﺃﺱ ﻭﻻ ﻳﻠﺰﻡ ﻣﻦ ﺫﻟﻚ اﺷﺘﺮاﻃﻪ (شرح مسلم:٤٧٥/١)
Fighe Shafi Question No.0784
While doing the ablution, if a person after doing the wudoo of his hands doesn’t take the water again & instead makes the wudoo of his head with his previously wet hands itself, then will the wudoo of his head be correct ?
Answer : For the wudoo of head, it is necessary to use fresh water as the water remaining from the wudoo of hands is not enough, since it has already been used once & the once used water cannot be reused again for wudoo or ghusl.
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0783
صدقہ کا گوشت غیر مسلموں کو دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
صدقاتِ واجبہ یعنی زکوٰة وغیرہ غیر مسلم کو دینا جائز نہیں البتہ نفل صدقات غیر مسلموں کو دے سکتے ہیں لیکن مسلمان کو دینا اولیٰ و بہتر ہے۔ لھذا صدقہ کے بکرے کا گوشت یا کوئی اور چیز غیر مسلموں کو دینا جائز ہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ : ” ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ”
(صحيح البخاري/١٣٩٥) ولا تدفع الزكاة لغني بمال أو كسب، وعبد، وكافر، وبني هاشم، والمطلب ومولاهم، ومن تلزمه نفقته. (التذكرة لإبن ملقن:٥١/١) صدقة التطوع سنة وتحل لغني و كافر و دفعها سرا وفي رمضان ولقريب وجار…. (منهاج الطالبين:٢٠٣/١) صَدَقَة التَّطَوُّع سنة لما ورد فِيهَا من الْكتاب وَالسّنة وَتحل لَغَنِيّ وَلِذِي الْقُرْبَى لَا للنَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَتحل لكَافِر وَدفعهَا سرا….. (الاقناع:٢٣٢/١)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0782
بازار کی مسجد میں اگر ایک سے زیادہ جماعت بناکر نمازیں ہوتی ہوں تو ہر جماعت کے لیے الگ سے اذان و اقامت کہنے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر بازار کی مسجد ہو اور متعدد جماعتيں ہوتی ہوں تو ہر جماعت کے لیے الگ الگ اذان و اقامت کہنا مستحب ہے، ہاں پہلی اذان کے علاوہ بقیہ اذان کہتے وقت آواز کو بلند نہ کرے۔
ولو اقيمت جماعة في مسجد فحضر قوم لم يصلوا فهل يسن لهم الاذان قولان الصحيح نعم وبه قطع البغوي وغيره ولا يرفع الصوت لخوف اللبس سواء كان المسجد مطروقا او غير مطروق۔ (المجموع :١٠٣/٤) ولا شك فى انه اذا إذن يقيم۔ (العزيز شرح الوجيز/٤٠٧)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0781
عورت کی میت کے بالوں کی تین چوٹیاں کرنا کیا ضروری ہے اور میت کو اوڑھنی اوڑھنے کا کیا حکم ہے؟
عورت کی میت کو غسل کے بعد کفن دیتے وقت بالوں کی تین چوٹیاں کرنا اور اوڑھنی اوڑھنا دونوں سنت ہے جس کا ذکر بخاری شریف کی روایت میں ملتا ہے۔
امام النووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں وإن كانت المرأه غسلت كما يغسل الرجل فان كان لها شعر جعل لها ثلاث ذوائب ويلقى خلفها لما روت أم عطيه رضى الله عنها في وصف غَسَّلَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالت ” ضفرنا ناصيتها وقرنتها ثلاثة قرون ثم القيناها خلفها "} ٠٠٠ وَهَذَا الْحُكْمُ الَّذِي ذَكَرَهُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ نَصَّ عَلَيْهِ الشَّافِعِيُّ وَالْأَصْحَابُ وَبِمِثْلِ مَذْهَبِنَا فِي اسْتِحْبَابِ تَسْرِيحِ شَعْرِهَا وَجَعْلِهِ ثَلَاثَةَ ضَفَائِرَ خَلْفَهَا ۔۔وَأَمَّا الْمَرْأَةُ فَإِنَّهَا تُكَفَّنُ فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ إزَارٍ وَخِمَارٍ وَثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ۔ (النووي,المجموع شرح المهذب ۱٤١/٥) امام الدمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ويندب أن يضفر شعر المرأة وأن يجعل ثلاثة قرون كما في الحديث۔ (النجم الوهاج في شرح المنهاج٢٣/٣) (صحیح البخاری:١٢٦٢، ٢٥٨)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0780
نماز میں قرآن کریم کی تلاوت پر رونے کا کیا مسئلہ ہے کیا اس سے نماز باطل ہوگی؟
حالت نماز میں قرآن مجید کی تلاوت پر غور وفکر کرنا سنت ہے تاکہ اس کے معنی و مطلب کو جان سکے اور وہ مکمل نماز ہی میں مشغول ہوں اگر تلاوت کے دوران معنی اور مطلب کو سمجھنے سے رونا آجائے اور رونے کی وجہ سےآنسوں نکل آئے تو نماز درست ہے البتہ رونے یا ہچکیاں لینے سے دو یا دو سے زائد الفاظ ظاہر ہوجائیں تو اس سے نماز باطل ہوجائے گی۔
(و)يسن (تدبر القراءة) اي: تأمل معناها اجمالاً لا تفصيلاً، لئلا يشغله عن صلاته، قال الله تعالى، ليدبروا ايته۔ (الديباج في شرح المنهاج:٢٥٦/١) (والاصح: وان التنحنح، والضحك والبكاء، والانين والنفخ) والسعال والعطاس (ان ظهر به) اي: بكل. مكارم (حرفان.. بطلت، وإلا.. فلا جزماً لما مر۔ (الديباج في شرح المنهاج:٢٧٤/١)
سوال نمبر / 0779
اگر جماعت کی صف میں دو آدمیوں کے درمیان کچھ جگہ خالی ہو تو کیا نماز کی حالت میں قریب والے نماز کو کھینچ کر جگہ کو پُر کرسکتے ہیں یا نہیں؟
*نماز میں جماعت کی صف میں اگر ایک آدمی یا اس سے کم کی جگہ خالی ہو یا بعد میں آنے والا شخص صف میں ہٹ کر کھڑا ہوجائے تو قریب والے نماز ی کو نماز ہی کی حالت میں کھینچ کر صف سے جوڑنا جائز ہے۔ *قال البجيرمي رحمة الله عليه: ويؤخذ من انه لو فعل احد احد من المقتدين خلاف السنه استحب للامام ارشاده اليها بيده او غيرها من واثق منه بالامتثال ولا يبعد ان يكون الماموم في ذلك مثله في الارشاد المذكور۔ (بيجيرمي على الخطيب ١٣٥/٢) (صحيح البخاري:١٣٧)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0778
مساجد میں خوشبو کے لیے لوبان یا اگربتی وغیرہ جلانے کا کیا حکم ہے؟
📝 سنت یہ ہے کہ مساجد کو پاک و صاف اور معطر رکھا جائے اور اس کے لیے بہتر سے بہتر خوشبو والی اشیاء استعمال کریں لوبان اور اگربتی اگر نجس اشیاء سے نہ بنی ہوں تو مساجد میں خوشبو پیدا کرنے کے لیے ان کا جلانا پسندیدہ اور مستحب عمل ہے۔
عن عائشه رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بالمساجد أن تبني في الدور وأن تطهر و تطييب. (سنن الترمذي: ٥٩٤) قال ابن أرسلان: ويجوز أن يحمل التطييب على التجمير في المسجد بالبخور. (عون المعبود :٤٩٣/١) فقد كان عبدالله يحمر المسجد إذا قعد عمر رضي الله عنه على المنبر.واستحب بعض السلف التخليق بالزعفران والطيب (تحفة الاحوذي:٣٩٧/٢) قال ابن حجر في المرقاة: وبه يعلم أنه يستحب تجمير المسجد بالبخور. (المرقاة) (سنن ابن ماجه:٧٥٨) (سنن ابي داود:٤٥٥)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0777
اگر ایک گھر یا کمرہ میں چند آدمی ایک ساتھ رہتے ہوں تو کھانے کا سنت طریقہ کیا ہے؟
ایک سے زیادہ لوگ ہوں تو افضل اور سنت طریقہ یہ ہے کہ ایک ساتھ ہی کھانا کھائے چونکہ یہ برکت کا باعث ہے۔
امام ابن کثیر رحمه اللہ فرماتے ہیں ﻟﻴﺲ ﻋﻠﻴﻜﻢ ﺟﻨﺎﺡ ﺃﻥ ﺗﺄﻛﻠﻮا ﺟﻤﻴﻌﺎ ﺃﻭ ﺃﺷﺘﺎﺗﺎ ﻓﻬﺬﻩ ﺭﺧﺼﺔ ﻣﻦ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻓﻲ ﺃﻥ ﻳﺄﻛﻞ اﻟﺮﺟﻞ ﻭﺣﺪﻩ ﻭﻣﻊ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ اﻷﻛﻞ ﻣﻊ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﺃﺑﺮﻙ ﻭﺃﻓﻀﻞ. (تفسیر ابن کثیر:٨٠/٣) امام خطیب شربینی رحمه الله فرماتے ہیں وَتُسَنُّ الْجَمَاعَةُ وَالْحَدِيثُ غَيْرُ الْمُحَرَّمِ كَحِكَايَةِ الصَّالِحِينَ عَلَى الطَّعَامِ۔ (مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج,4/411) امام زکریا الانصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (وَيُسْتَحَبُّ الْجَمَاعَةُ وَالْحَدِيثُ غَيْرُ الْمُحَرَّمِ عَلَى الطَّعَامِ)…(وَ) يُسْتَحَبُّ (مُؤَاكَلَةُ عَبِيدٍ وَصِغَارِهِ) وَزَوْجَاتِهِ (وَأَنْ لَا يَخُصَّ نَفْسَهُ بِطَعَامٍ إلَّا لِعُذْرٍ۔ (أسنى المطالب في شرح روض الطالب٢٢٨/٣ (سنن ابن ماجه:٣٣٨٦)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0776
مردوں کا گھٹنے کھول کر گھومنا کیسا ہے یا گھر میں ہی گھٹنے سے اوپر کا ٹاوزر (چڈی) پہننے کا کیا مسئلہ ہے؟
✍️ مردوں کا گھٹنے کھول کر بائر گھومنا درست نہیں ہے اس لیے کہ چلنے اور بیٹھنے کی حالت میں گھوٹنے کے اوپر کا حصہ یعنی ستر کھل جاتا ہے ہاں اگر گھر میں تنہا ہو تو ضرورتا ستر کھولنے کی اجازت ہے۔
قال الإمام زكريا الأنصاري: السرة والركبة فليستا بعورة، لكن يجب ستر بعضهما ليحصل ستره۔ (اسنى المطالب، للزكريا الأنصاري:٣٦١/١) قال الإمام النووي رحمة الله عليه: ﻭﻳﺠﻮﺯ ﻛﺸﻒ اﻟﻌﻮﺭﺓ ﻓﻲ اﻟﺨﻠﻮﺓ ﻓﻲ ﻏﻴﺮ ﺻﻼﺓ ﻟﻠﺤﺎﺟﺔ. (روضة الطالبين وعمدة المفتين:٢٨٢/١) (سنن دارقطنى:٨٧٨/٣٢٦/١) (سنن أبي داود/٣١٤٠ص ٤٦٠)