درس حدیث نمبر 0361
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0811
سفر میں نماز قضا ہو جائے تو گھر پہونچنے کے بعد وہ نمازیں قصر کریگا یا مکمل پڑھے گا؟ اور نیت کیسے کرے گا؟
سفر کی قصر نمازیں گھر پہنچنے کے بعد پوری پڑھنا لازم ہے ایسی نماز کو مکمل پڑھنے کی نیت کرے گا اس لیے کہ اپنے مقام پر پہنچنے کے بعد قصر نہیں کرسکتا ہے۔
قال الشيخ زكريا الأنصاري رحمه الله: فَلَا تُقْصَرُ صُبْحٌ وَمَغْرِبٌ وَمَنْذُورَةٌ وَنَافِلَةٌ….. وَلَا فَائِتَةُ سَفَرٍ فِي حَضَرٍ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ مَحَلُّ قَصْرٍ. (أسنى المطالب:٤٨٥/١) قال الإمام الماوردي عن الشافعي رحمه الله: قَالَ الشافعي رحمه الله تعالى: ” وَإِنْ نَسِيَ صَلَاةً فِي سَفَرٍ فَذَكَرَهَا فِي حَضَرٍ فَعَلَيْهِ أَنْ يُصَلِّيَهَا صَلَاةَ حَضَرٍ لِأَنَّ عِلَّةَ الْقَصْرِ هِيَ النَّيَّةُ وَالسَّفَرُ فَإِذَا ذَهَبَتِ العلة القصر ذهب”۔ (الحاوي الكبير:٣٧٨/٢)
سوال نمبر / 0810
نابالغ لڑکے کا اذان و اقامت کہنے کا کیا مسئلہ ہے؟
نماز کے لیے اذان و اقامت کہنے والے کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ عاقل بالغ اور آزاد ہو ہاں نابالغ لڑکا اگر ممیز ہو یعنی اچھے اور بُرے کے درمیان فرق کرسکتا ہو تو ایسے نابالغ لڑکے کے لیے اذان و اقامت کہنا جائز ہے۔ اگر غیر ممیز ہو تو ایسے نابالغ لڑکے کے لیے اذان و اقامت کہنا جائز نہیں۔
ولا يصح الأذان إلا من مسلم، عاقل، فأما الكافر والمجنون فلا يصح أذانهما، لأنهما ليسا من أهل العبادات و يصح من الصبي العاقل؛ لأنه من أهل العبادات….. و يستحب أن يكون المؤذن حرّا، بالغا…… (المهذب :٢١٣/١-٢١٤) و شرط من ذكر التمييز فلا يصحّان من غير مميز لعدم أهليته للعبادة…. (مغني المحتاج:٢٣٤/١) اتفق الفقهاء على عدم صحة أذان الصبي غير المميز لأنه لا يدرك ما يفعله……. أما عند الجمهور: فيصح أذان الصبي المميز. (الموسوعة الفقهية الكويتية:٢٦/٢٧)