بھٹكل جامع مسجد عربی خطبہ – 06-08-2021
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0989
پیشاب پاخانہ کی نلکی کے ساتھ نماز پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر کسی مریض کو پیشاب و پاخانہ کے لئے ٹیوپ لگائی گئی ہو تو اس حالت میں نماز ادا کرنا فرض ہے اور ایسے مریض کا حکم مستحاضہ عورت کی طرح ہے اگر عین نماز کے وقت ٹیوپ کو نکالنا ممکن ہو تو نکال کر نماز پڑھے گا اگر ممکن نہ ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ نماز کے وقت ٹیوب کو خالی کرے گا یا ٹیوپ کو بدل سکتا ہو تو تبدیل کرے گا یا عین نماز کے وقت پیشاب و پاخانہ نکلنے والے ٹیوپ کی نالی کو کسی چیز سے باندھے گا تاکہ نماز کی حالت میں گندگی باہر نہ آئے اور ایسا شخص نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد ہی وضو کرے اور وضو کے فوراً بعد نماز پڑھے گا اور کہ ہر فرض نماز کے لئے نیا وضو کرے گا
قال الإمام النووي رحمة الله عليه : حُكْمُ سَلِسِ البَوْلِ وسَلِسِ المَذْيِ حُكْمُ المُسْتَحاضَةِ فِي وُجُوبِ غَسْلِ النَّجاسَةِ وحَشْوِ رَأْسِ الذَّكَرِ والشَّدِّ بِخِرْقَةٍ والوُضُوءِ لِكُلِّ فَرِيضَةٍ والمُبادَرَةِ بِالفَرِيضَةِ بَعْدَ الوُضُوءِ …..اما مَن اسْتَطْلَقَ سَبِيلَهُ فَدامَ خُرُوجُ البَوْلِ والغائِطِ والرِّيحِ مِنهُ فَحُكْمُهُ حُكْمُ المُسْتَحاضَةِ فِي كُلِّ ما ذَكَرْناهُ (المجموع: ٥٠٠/٢)
يخرج منك من الغائط الى الكيس قليلا أو كثيرا ويجب عليك الوضوء لكل صلاة كمن به سلس البول وكالمستحاضة ويعفى عنك بالنسبة لحملك الكيس في الصلاة وبه نجاسة وعن خروج البراز منك الى الكيس وأنت في الصلاة. (فتاوى اللجنة الدائمة:٤١٣/٥)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر/0986
قضاء حاجت یعنی پیشاب یا پاخانہ کو روک کر جماعت سے نماز میں شریک ہونا کیسا ہے؟
اگر کسی کو پیشاب یا پاخانہ کی حاجت ہو تو پہلےاس سے فارغ ہوجائے پھر جماعت سے نماز میں شریک ہوجائے اس لیے کہ پیشاب اور پاخانہ کو روک کر جماعت سے نماز میں شریک ہونا مکروہ ہے۔ ہاں اگر نماز قضاء ہونے کا اندیشہ ہو تو پہلے نماز پڑھے گا پھر قضائے حاجت سے فارغ ہوگا
قال الإمام الرملي رحمة الله عليه : وتكره الصلاة حاقنا بالنون اي البول أو حاقبا بالباء الموحدة أي بالغائط بأن يدافع ذلك… وإن خاف فوت الجماعة حيث كان الوقت متسعا. نهاية المحتاج:٣٦,٣٧/٢
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سؤال نمبر / 0985
میت کے پاس تدفین سے پہلے قرآن کریم تلاوت کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
انتقال کے بعد سب سے اہم کام تجہیز و تکفین کا ہے. تجہیز و تکفین کے کام کو روک کر قرآن کریم کی تلاوت کرنا منع ہے ہاں اگر رات کے وقت میت ہوئی ہو اور تدفین صبح کے وقت ہو تو ایسے وقت میں تدفین سے پہلے قرآن کرین کی تلاوت کرنا مسنون ہے۔
قال الإمام سليمان الجمل رحمه الله: وكَأنَّ مَعْنى لا يُقْرَأُ عَلى المَيِّتِ أيْ: قَبْلَ دَفْنِهِ لِاشْتِغالِ أهْلِهِ بِتَجْهِيزِهِ الَّذِي هُوَ أهَمُّ ويُؤْخَذُ مِن العِلَّةِ أنَّهُمْ لَوْ لَمْ يَشْتَغِلُوا بِتَجْهِيزِهِ كَأنْ كانَ الوَقْتُ لَيْلًا سُنَّتْ القِراءَةُ عَلَيْهِ۔ (حاشية الجمل:١٢٢/٣)
قال الإمام الرملي رحمه الله: ويُقْرَأُ عِنْدَهُ) سُورَةُ (يس) نَدْبًا لِخَبَرِ «أقْرَءُوا عَلى مَوْتاكُمْ يس» أيْ مَن حَضَرَهُ مُقَدِّماتُ المَوْتِ؛ لِأنَّ المَيِّتَ لا يُقْرَأُ عَلَيْهِ، … فحيث قيل يُطْلَبُ القِراءَةُ عَلى المَيِّتِ كانَتْ يس أفْضَلُ مِن غَيْرِها أخْذًا بِظاهِرِ هَذا الخَبَرِ، وكانَ مَعْنى لا يُقْرَأُ عَلى المَيِّتِ: أيْ قَبْلَ دَفْنِهِ، إذْ المَطْلُوبُ الآنَ الِاشْتِغالُ بِتَجْهِيزِهِ۔ (نهاية المحتاج:٢٧٧/٢)
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی