011 – سوة هود – آیت نمبر – 090
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0980
اگر کوئی شخص کھانسی کی بیماری کا عادی ہو تو ایسے شخص کی نماز کا کیا نماز مسئلہ ہے؟
اگر نماز میں کسی بیماری یا عذر کی بناء پر بہت زیادہ کھانسی ہو رہی ہو تو اس کی وجہ سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ نماز درست ہوگی
علامہ کمال الدین الدمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: أما السعال والعطاس.. الصواب عدم الإبطال بكثرتهما لانه لا يمكن الاحتراز من ذلك و لا ينقطع به نظم الصلاۃ۔
علامہ خطیب شربینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: أمّا إذا كَثُرَ التَّنَحْنُحُ ونَحْوُهُ لِلْغَلَبَةِ كَأنْ ظَهَرَ مِنهُ حَرْفانِ مِن ذَلِكَ وكَثُرَ، فَإنَّ صَلاتَهُ تَبْطُلُ كَما قالاهُ فِي الضَّحِكِ والسُّعالِ……. وصَوَّبَ الإسْنَوِيُّ عَدَمَ البُطْلانِ فِي التَّنَحْنُحِ والسُّعالِ والعُطاسِ لِلْغَلَبَةِ، وإنْ كَثُرَتْ إذْ لا يُمْكِنُ الِاحْتِرازُ عَنْها. اهـ.ويَنْبَغِي أنْ يَكُونَ مَحَلُّ الأوَّلِ ما إذا لَمْ يَصِرْ السُّعالُ أوْ نَحْوُهُ مَرَضًا مُلازِمًا لَهُ. أمّا إذا صارَ السُّعالُ ونَحْوُهُ كَذَلِكَ، فَإنَّهُ لا يَضُرُّ كَمَن بِهِ سَلَسُ بَوْلٍ ونَحْوُهُ بَلْ أوْلى۔ (مغنی المحتاج:٣٣٦/١)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0979
نماز میں تکبیر اولی کب تک حاصل ہوتی ہے اس کی کیا حد ہے؟
نماز میں تکبیر اولی حاصل ہونے کی حد کے سلسلے میں علماء کے تین اقوال ہے۔ پہلا اصح قول یہ ہے کہ مقتدی امام کے تکبیر اولی کہنے کے فوراً بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے نماز میں شامل ہوجائے تاخیر کی صورت میں تکبیر اولی کا وقت فوت ہوجاتا ہے۔ دوسرے یہ ہے کہ امام سورہ فاتحہ کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے تکبیر اولی کہہ کر نماز میں شامل ہوجائے۔ تیسرا قول تکبیر اولی حاصل ہونے کی آخری حد یہ ہے کہ امام کے رکوع میں جانے سے پہلے مقتدی کا قیام میں ذرہ سا وقت گزرے۔لہذا بہتر یہ ہے کہ امام کے ساتھ شروع ہی سے شامل ہوکر اس فضیلت کو حاصل کریں
علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ يُسْتَحَبُّ المُحافَظَةُ عَلى إدْراكِ التَّكْبِيرَةِ الأُولى مَعَ الإمامِ. وفِيما يُدْرِكُها بِهِ أوْجُهٌ: أصَحُّها بِأنْ يَشْهَدَ تَكْبِيرَةَ الإمامِ، ويَشْتَغِلَ عَقِبَها بِعَقْدِ صَلاتِهِ. فَإنْ أخَّرَ لَمْ يُدْرِكْها. والثّانِي: بِأنْ يُدْرِكَ الرُّكُوعَ الأوَّلَ. والثّالِثُ: أنْ يُدْرِكَ شَيْئًا مِنَ۔ (روضة الطالبين: ١/٣٤١)
علامہ اسنوی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ثم بماذا تدرك فضيلة التحرم؟ وجوه: أظهرها: بأن يشهد تكبيرة [الإمام] (٢) ويشتغل عقيبها بالأحرام، فإن أخر لم يدركها. والثاني: بإدراك الركوع الأول. والثالث: بإدراك شئ من القيام. والرابع: إن اشتغل بأسباب الصلاة كالطهارة وغيرها كفاه إدراك الركوع. (المهمات في شرح الروضة والرافعي:٣/٢٨٩)
علامہ ابن رفعہ رحمة الله عليه فرماتے ہیں: الأصحاب فيه على خمسة أوجه:أحدها-وهو ما صححه الرافعي، ومجلي: أن يشاهد تكبيرة الإحرام، ويشتغل عقيبها بعقد الصلاة؛ فإن أخر، لم يدركها. والثاني: أن يشرع في الاقتداء به قبل شروعه في القراءة للفاتحة، حكاه القاضي الحسين. والثالث: أن يدركها من أدرك قيام الركعة الأولى. والرابع- وهو ما اختاره في «الكافي»-: أنه يدركها من أدرك الإمام في الركوع. والخامس: يدركها من أدرك الركوع إن لم يشتغل بأمور الدنيا، واشتغل بأسباب الصلاة؛ مثل: الطهارة، ونحوها، وإن اشتغل بأمور الدنيا؛ فلا يكون مدركًا لها ما لم يدرك القيام. (كفاية النبيه في شرح التنبيه: ٣/٥٨٥)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
اردو ترجمہ حافظ محمد اقبال راشد
عنوان: حضرت على بن ابى طالب رضي الله عنه
اردو ترجمہ حفظ الرحمن تیمی
عنوان: نقدِ ذات
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ سعود بن إبراهيم الشريم