فقہ شافعی سوال نمبر / 0805 امام سے پہلے عمدا سلام پھیرنے سے مقتدی کی نماز ہوگی یا نہیں؟ مقتدی کو چاہیے کہ امام کی اقتداء میں ہونے کی وجہ سے امام کے سلام پھیرنے کے بعد ہی سلام پھیرے، اگر مقتدی امام کی اقتداء سے الگ ہونے کی نیت نہ کرے تو اس مقتدی کی نماز باطل ہوگی، ہاں اگر امام کی اقتداء سے الگ ہونے کی نیت کرلے اور امام سلام پھیرنے سے پہلے مقتدی سلام پھیر دے تو نماز باطل نہیں ہوگی البتہ بغیر کسی عذر کے امام سے الگ ہونے کی نیت کرنا درست نہیں۔ قال الإمام النووي رحمه الله : ينبغي للمأموم أن يسلم بعد سلام الإمام ….. ولو سلم قبل شروع الإمام في السلام بطلت صلاته إن لم ينو مفارقته ، فإن نواها ففيه الخلاف فيمن نوى المفارقة ولا يكون مسلما بعده إلا أن يبتدئ بعد فراغ الإمام من الميم من قوله السلام عليكم۔ (المجموع :٣ /٤٤٧) قال الإمام الدميري رحمه الله : ولو سلم قبل شروع الإمام في السلام، فإن لم ينو المفارقة .. بطلت صلاته، وإن نواها .. ففيه الخلاف فيمن نوى المفارقة. (النجم الوهاج:٢/ ١٨٧)
فقہ شافعي سوال نمبر / 0001 کیا نیت کا محل دل ہے یا زبان سے بھی نیت کے الفاظ ادا کرنا ضروری ہے؟ نیت کہتے ہیں دل میں کسی کام کے کرنے کا ارداہ کرے البتہ زبان سے اس کا اظہار کرنے سے دل کی نیت میں کمال اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے. اسی وجہ سے فقہاء نے زبان سے بھی نیت کرنے کو مندوب لکھا ہے۔ اگر کوئی دل کے اعتقاد کے بغیر صرف زبان سے کسی کام کے کرنے کا اظہار کرے تو کافی نہیں ہوگا . ہاں اگر کوئی صرف دل کے اعتقاد کے ساتھ زبان سے نیت نہ کرے تو یہ نیت کافی ہوجائے گی نیت کے تعلق سے مزید یہ بات جاننا ضروری کہ فقہائے کرام کی ایک بڑی جماعت شوافع کے علاوہ احناف اور بعض حنابلہ نے زبان سے نیت کرنے کو مستحب لکھا ہے قال الإمام الماوردي رحمه الله: وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ مِنْ أَصْحَابِنَا: النِّيَّةُ اعْتِقَادٌ بِالْقَلْبِ وَذِكْرٌ بِاللِّسَانِ لِيُظْهِرَ بِلِسَانِهِ مَا اعْتَقَدَهُ بِقَلْبِهِ فَيَكُونُ عَلَى كَمَالٍ مِنْ نِيَّتِهِ وَثِقَةٍ مِنَ اعْتِقَادِهِ. (الحاوي الكبير:٩٣/١) قال الإمام السيوطي رحمه الله: والحاصل أن هنا أصلين: ألأول: أنه لا يكفي التلفظ باللسان دونه. والثاني: أنه لا يشترط مع القلب التلفظ. (الأشاه والنظائر /٤٥) فذهب جماعة من أصحاب أبي حنيفة والشافعي وأحمد إلى استحباب التلفظ بها، واستدلوا لذلك بالمنقول من تلفظ النبي صلى الله عليه وسلم بالتلبية لعمرته وحجه، وقاسوا عليها بقية العبادات، وبالمعقول وهو أن اجتماع عضوين، وهما: القلب واللسان في العبادة أولى من أعمال عضو واحد. (التلفظ بالنية في العبادات۔ اسلام ویب۔ مركز الفتوى)
Fiqha Shafi Question No.0001 Should the Intentions be made in the heart or is it necessary to be done orally also ? Answer: Intention means to think of doing something in the heart, but saying it orally gives strength to our intentions. For this reason, the Jurists tell that, it is better to say our intentions orally also. If a person just intends orally to do something, without any belief in his heart about it, then it is not enough. But, if anyone intends only in his heart, without saying it orally, then it will be enough. Moreover, regarding making intentions, it should be kept in mind that a large group of Jurists including Shafaii, Hanafi & some from Hanbali consider doing oral intentions also as better/good.
فقہ شافعی سوال نمبر (/ 0101 نماز میں ادھر اُدھر دیکھنا کیسا ہے؟ نماز میں نگاہ سجدے کی جگہ رکھنا سنت ہے اور بلاوجہ اِدھر اُدھر یا آسمان کی طرف دیکھنا بھی مکروہ ہے۔ قلت يكره الالتفات لا لحاجة و رفع بصره السماء۔ (منهاج الطالبين:دار البشائر الاسلاميه) (صحيح البخاري /٧٥٠) (صحيح البخاري /٧٥١)