007 – سورة الاعراف – آیت نمبر – 185
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0743
علاج کی غرض سے نجس اور ناپاک چیزوں مثلا (پیشاب وغیرہ) کے استعمال کا شرعا کیا حکم ہے؟
کسی بھی بیماری کے علاج کے لیے پاک چیزوں کا استعمال ضروری ہے۔ اور ناپاک چیزوں سے علاج کرنا حرام ہے۔ ہاں البتہ کوئی ایسا مرض ہو کہ اس کے بارے میں کسی مسلمان ماہر ڈاکٹر یہ کہے کہ اس بیماری کا علاج پاک دوائی سے ممکن نہیں ہے یا اس علاج کے لیے پاک دوائی میسر نہ ہو، یاپاک دوائی کے مقابلہ میں نجس دوائی کے استعمال سے جلد شفایابی ممکن ہو توایسی صورت میں نجس چیزوں سے علاج کرنا جائز ہے ۔
ﺇﺫا اﺿﻄﺮ ﺇﻟﻰ ﺷﺮﺏ اﻟﺪﻡ ﺃﻭ اﻟﺒﻮﻝ ﺃﻭ ﻏﻴﺮﻫﻤﺎ ﻣﻦ اﻟﻨﺠﺎﺳﺎﺕ اﻟﻤﺎﺋﻌﺔ ﻏﻴﺮ اﻟﻤﺴﻜﺮ ﺟﺎﺯ ﻟﻪ ﺷﺮﺑﻪ ﺑﻼ ﺧﻼﻑ ﻭﺇﻥ اﺿﻄﺮ ﻭﻫﻨﺎﻙ ﺧﻤﺮ ﻭﺑﻮﻝ ﻟﺰﻣﻪ ﺷﺮﺏ اﻟﺒﻮﻝ ﻭﻟﻢ ﻳﺠﺰ ﺷﺮﺏ اﻟﺨﻤﺮ ﺑﻼ ﺧﻼﻑ ﻟﻤﺎ ﺫﻛﺮﻩ اﻟﻤﺼﻨﻒ (ﻭﺃﻣﺎ) اﻟﺘﺪاﻭﻱ ﺑﺎﻟﻨﺠﺎﺳﺎﺕ ﻏﻴﺮ اﻟﺨﻤﺮ ﻓﻬﻮ ﺟﺎﺋﺰ ﺳﻮاء ﻓﻴﻪ ﺟﻤﻴﻊ اﻟﻨﺠﺎﺳﺎﺕ ﻏﻴﺮ اﻟﻤﺴﻜﺮ ﻫﺬا ﻫﻮ اﻟﻤﺬﻫﺐ ﻭاﻟﻤﻨﺼﻮﺹ ﻭﺑﻪ ﻗﻄﻊ اﻟﺠﻤﻬﻮﺭ ﻭﻓﻴﻪ ﻭﺟﻪ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﻟﺤﺪﻳﺚ ﺃﻡ ﺳﻠﻤﺔ اﻟﻤﺬﻛﻮﺭ ﻓﻲ اﻟﻜﺘﺎﺏ…..قال اصحابنا وانما یجوز التداوی بالنجاسة اذا لم یجد طاھرا یقوم مقامھا فان وجدہ حرمت النجاسة بلاخلاف۔ (ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﻟﻢ ﻳﺠﻌﻞ ﺷﻔﺎءﻛﻢ ﻓﻴﻤﺎ ﺣﺮﻡ ﻋﻠﻴﻜﻢ) ﻓﻬﻮ ﺣﺮاﻡ ﻋﻨﺪ ﻭﺟﻮﺩ ﻏﻴﺮﻩ ﻭﻟﻴﺲ ﺣﺮاﻣﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﺠﺪ ﻏﻴﺮﻩ ﻗﺎﻝ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻳﺠﻮﺯ ﺫﻟﻚ ﺇﺫا ﻛﺎﻥ اﻟﻤﺘﺪاﻭﻱ ﻋﺎﺭﻓﺎ ﺑﺎﻟﻄﺐ ﻳﻌﺮﻑ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﻘﻮﻡ ﻏﻴﺮ ﻫﺬا ﻣﻘﺎﻣﻪ ﺃﻭ ﺃﺧﺒﺮﻩ ﺑﺬﻟﻚ ﻃﺒﻴﺐ ﻣﺴﻠﻢ ﻋﺪﻝ ﻭﻳﻜﻔﻲ ﻃﺒﻴﺐ ﻭاﺣﺪ ﺻﺮﺡ ﺑﻪ اﻟﺒﻐﻮﻱ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻓﻠﻮ ﻗﺎﻝ اﻟﻄﺒﻴﺐ ﻳﺘﻌﺠﻞ ﻟﻚ ﺑﻪ اﻟﺸﻔﺎء ﻭﺇﻥ ﺗﺮﻛﺘﻪ ﺗﺄﺧﺮ ﻓﻔﻲ ﺇﺑﺎﺣﺘﻪ ﻭﺟﻬﺎﻥ ﺣﻜﺎﻫﻤﺎ اﻟﺒﻐﻮﻱ ﻭﻟﻢ ﻳﺮﺟﺢ ﻭاﺣﺪا ﻣﻨﻬﻤﺎ ﻭﻗﻴﺎﺱ ﻧﻈﻴﺮﻩ ﻓﻲ اﻟﺘﻴﻤﻢ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ اﻷﺻﺢ ﺟﻮاﺯﻩ. (المجموع: 9/50) وقال العز بن عبد السلام رحمه الله جاز التداوي بالنجاسات إذا لم يجد طاهرًا يقوم مقامها، لأن مصلحة العافية والسلامة أكمل من مصلحة اجتناب النجاسة. (قواعد الأحكام في إصلاح الأنام:1/132)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ : حفظ الرحمن تیمی
عنوان: بصیرت اور بصارت
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مدبنہ اردو ترجمہ : شفقت الرحمٰن
عنوان: اسلام میں انسان کی عزت افزائی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0741
اگر کم عمری میں کسی بال سفید ہوجائیں تو ان سفید بالوں کو کاٹنے کا کیا حکم ہے ؟
حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سفید بالوں کو مت اکھاڑو (کاٹو) اسلیے کہ وہ قیامت میں مسلمان کے لیے نور ہوگا۔ (رواه الترمذي :٢٨٢١) فقہاء کرام نے سر اور ڈاڑھی کے سفید بالوں کو نکالنا مطلقاً مکروہ لکھا ہے۔ چاہیے کم عمری ہی میں بال سفید ہوئے ہوں۔
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: يُكْرَهُ نَتْفُ الشَّيْبِ لِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ فَإِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدِيثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمْ بِأَسَانِيدَ حسنة قال الترمذي حديث حَسَنٌ هَكَذَا: قَالَ أَصْحَابُنَا يُكْرَهُ صَرَّحَ بِهِ الْغَزَالِيُّ كَمَا سَبَقَ وَالْبَغَوِيُّ وَآخَرُونَ: وَلَوْ قِيلَ يَحْرُمُ لِلنَّهْيِ الصَّرِيحِ الصَّحِيحِ لَمْ يَبْعُدْ: وَلَا فرق بَيْنَ نَتْفِهِ مِنْ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ۔ (المجموع :١/٢٩٣) علامہ دمیری رحمة الله عليه فرماتے ہیں *يكره تبييض اللحية بالكبريت وغيره، ونتفها أول طلوعها إيثارًا للمرودة، وتصفيفها طاقة فوق طاقة تحسينًا، والزيادة فيها، والنقص منها بازيادة في شعر العذارين، ونتف جانب العنفقة، وتركها شعثة، والنظر إليها إعجابًا وافتخارًا * (النجم الوهاج :٩/٥٣٤) (وَالنَّتْفُ لِلشَّيْبِ) مِنْ الرَّأْسِ، وَاللِّحْيَةِ (مَكْرُوهٌ) لِخَبَرِ «لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ فَإِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ قَالَ فِي الْمَجْمُوعِ وَلَوْ قِيلَ بِتَحْرِيمِهِ لَمْ يَبْعُدْ وَنَقَلَ ابْنُ الرِّفْعَةِ تَحْرِيمَهُ عَنْ نَصِّ الْأُمِّ۔ (اسنى المطالب: ١/١٧٣) وَيُكْرَهُ أَنْ يَنْتِفَ الشَّيْبَ مِنْ الْمَحَلِّ الَّذِي لَا يُطْلَبُ مِنْهُ إزَالَةُ شَعْرِهِ وَيُسَنُّ خَضْبُهُ بِالْحِنَّاءِ وَنَحْوِهِ۔ (حاشیة الجمل :١/٤١٨)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0740
اگر کسی جانور کو عورت ذبح کرے تو اس جانور کا کیا حکم ہے ؟
📝 اگر عورت جانور کو ذبح کرنے پر قادر ہو تو اس کے لیے ذبح کرنا شرعا جائز ہے اور اس سے جانور بھی حلال ہوگا، لیکن اس کے لیے اولی یہ ہے کہ کسی مرد کو اپنا وکیل بنائے اور مرد ذبح کرے۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً ذَبَحَتْ شَاةً بِحَجَرٍ، «فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا» (رواه البخاري/5504) علامہ خطیب شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: أَمَّا الْمَرْأَةُ فَالسُّنَّةُ لَهَا أَنْ تُوَكِّلَ كَمَا فِي الْمَجْمُوعِ، وَالْخُنْثَى مِثْلُهَا قَالَ الْأَذْرَعِيُّ: وَالظَّاهِرُ اسْتِحْبَابُ التَّوْكِيلِ لِكُلِّ مَنْ ضَعُفَ عَنْ الذَّبْحِ مِنْ الرِّجَالِ لِمَرَضٍ أَوْ غَيْرِهِ، وَإِنْ أَمْكَنَهُ الْإِتْيَانُ، وَيَتَأَكَّدُ اسْتِحْبَابُهُ لِلْأَعْمَى وَكُلِّ مَنْ تُكْرَهُ ذَكَاتُهُ (وَإِلَّا) أَيْ وَإِنْ لَمْ يَذْبَحْ الْأُضْحِيَّةَ بِنَفْسِهِ لِعُذْرٍ أَوْ غَيْرِهِ (فَلْيَشْهَدْهَا) لِمَا رَوَى الْحَاكِمُ، وَقَالَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ «أَنَّهُ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ لِفَاطِمَةَ – رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا -: قُومِي إلَى أُضْحِيَّتِكِ فَاشْهَدِيهَا، فَإِنَّهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهَا يُغْفَرُ لَكِ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِكِ» .(مغنی المحتاج ٦/١٢٥) (وَ) يُسَنُّ (أَنْ يَذْبَحَهَا) أَيْ الْأُضْحِيَّةُ رَجُلٌ (بِنَفْسِهِ) إنْ أَحْسَنَ الذَّبْحَ اقْتِدَاءً بِهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَأَصْحَابِهِ وَلِأَنَّهَا قُرْبَةٌ فَنُدِبَتْ مُبَاشَرَتُهَا وَكَذَلِكَ الْهَدْيُ، وَأَفْهَمَ كَلَامُهُ جَوَازَ الِاسْتِنَابَةِ وَالْأَوْلَى كَوْنُ التَّائِبِ فَقِيهًا مُسْلِمًا وَيُكْرَهُ اسْتِنَابَةُ كَافِرٍ وَصَبِيٍّ لَا حَائِضٍ (وَإِلَّا فَيَشْهَدُهَا) «لِأَنَّهُ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أَمَرَ فَاطِمَةَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا – بِذَلِكَ» رَوَاهُ الْحَاكِمُ وَصَحَّحَ إسْنَادَهُ. أَمَّا الْأُنْثَى وَالْخُنْثَى فَتَوْكِيلُهُمَا أَفْضَلُ(قَوْلُهُ فَتَوْكِيلُهُمَا أَفْضَلُ) أَيْ لِضَعْفِهِمَا لِأَنَّ ذَلِكَ مِنْ وَظَائِفِ الرِّجَالِ. (نهاية المحتاج :٨/١٣٢) وَأَمَّا ذَبِيحَةُ الْأَخْرَسِ فَتَحِلُّ وَإِنْ لَمْ تُفْهَمْ إشَارَتُهُ كَالْمَجْنُونِ. فَرْعٌ: قَالَ فِي الْمَجْمُوعِ قَالَ أَصْحَابُنَا: أَوْلَى النَّاسِ بِالذَّكَاةِ الرَّجُلُ الْعَاقِلُ الْمُسْلِمُ، ثُمَّ الْمَرْأَةُ الْمُسْلِمَةُ، ثُمَّ الصَّبِيُّ الْمُسْلِمُ، ثُمَّ الْكِتَابِيُّ، ثُمَّ الْمَجْنُونُ وَالسَّكْرَانُ. انْتَهَى. قَالَ شَيْخُنَا: وَالصَّبِيُّ غَيْرُ الْمُمَيِّزِ فِي مَعْنَى الْأَخِيرَيْنِ. (مغنی المحتاج :٦/٩٨)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)