فقہ شافعی سوال نمبر/ 0710 اسلام لانے کے بعد نام تبدیل کرنا کیا ضروری ہے؟ جواب:۔ نام کا تبدیل کرنا اسلام میں داخل ہونے کے لیے کوئی شرط نہیں ہے، ہاں اگر کسی شخص کا نام اسلامی عقیدے کے خلاف ہو یا معنوی اعتبار سے غلط ہو تو ایسے ناموں کو تبدیل کرنا واجب ہے۔ جس کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔
اتفق اهل السنة من المحدثين و الفقهاء والمتكلمين علي ان المؤمن الذي يحكم بانه من اهل القبلة ولا يخلد في النار لا يكون الا من اعتقد بقلبه دين الاسلام اعتقادا جازما خاليا من الشكوك ونطق بالشهادتين …،فانه يكون مؤمنا.(المنهاج: ١٢٥/١) ويجب تغيير الاسم الحرام۔ (المجموع:٣٢٨/٨) يستحب تحسين الاسم …قال النبي صلي:ان اخنع اسم…، قالوا والتسمية بهذا الاسم حرام, السنة تغيير الاسم القبيح. (بجيرمي علي الخطيب:٣٤٣/٤) (صحيح مسلم :٢١٤٣) (صحيح مسلم: ٢١٣٩)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0709 مسجد کو رنگ برنگي لائٹنگ لگا کر سجانے کا کیا حکم ہے؟ جواب:۔ مسجد کے اندرون میں نقش و نگاری اور تزئین کاری سے احادیث مبارکہ میں نمازوں میں خشوع سے روکاوٹ ہونے کی وجہ سے منع کیا گیا ہے اور ہاں مسجد کے باہر تزئین کی اجازت ہے، لیکن تزئین فخر کی غرض سے نہ ہو. اور تزئین کے اخراجات مسجد کے مال سے نہ ہو.نیز تزئین کا عمل سنت سمجھ کر نہ کرے، اور تزئین میں اسراف سے کام نہ لیا گیا ہو۔ زکریا الانصاری رحمة الله فرماتے ہیں: ويكره نقش المسجد واتخاذ الشرافات له) للأخبار المشهورة في ذلك ولئلا يشغل قلب المصلي۔ (فقه الاسلام شرح بلوغ المرام:218/1) امام قسطلانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: واستنبط منه كراهية زخرفة المساجد لاشتغال قلب المصلي بذلك أولصرف المال في غير وجهه نعم إذا وقع ذلك على سبيل التعظيم للمساجد ولم يقع الصرف عليه من بيت المال فلا بأس به۔ (اسنی المطالب:185/1) عبد القادر شیبه رحمة الله عليه فرماتے ہیں: أن من السنة ترك الغلو فى تزيين المساجد (شرح القسطلاني لصحيح البخاري:440/1)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0708 انسان کے بال پاک ہیں یا ناپاک؟ اور انسانوں کے بالوں کو خریدنا اور بیچنا کیسا ہے؟ جواب:۔ انسان کے بال پاک ہیں، البتہ انسان کے بالوں کو بیچنا اور خریدنا دونوں جائز نہیں۔ اسلیے کہ انسان کے بال اور اس کے اجزاء سے فائدہ اٹھانا اس کے اکرام کی وجہ سے حرام ہے۔
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0707 اگر کوئی شخص نماز میں بھول کر بات کرے تو اسکی نماز باطل ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص نماز میں بغیر ارادے کے سبقت لسانی کی وجہ سے بات کرے، یا ہنسی اور کھانسی کا غلبہ ہو جس کی وجہ سے دو حرف ظاہر ہوجائے یا بھول کر یا اس کی حرمت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بات کرے تو اس وقت اسکی نماز باطل نہیں ہوگی، البتہ سلام سے پہلے سجدہ سہو کرلے، اس کے بر عکس اگر وہ بھول کر یا سبقت لسانی سے دو حرف سے زیادہ بات کرے تو نماز باطل ہوجائے گی.
من سبق لسانه إلى الكلام من غير قصد، أو غلبة الضحك ، أو السعال، فبان منه حرفان أو تكلم ناسيا أو جاهلا بتحريم الكلام: فإن كان ذلك يسيرا لم تبطل صلاته، وإن كثرت بطلت صلاته على الأصح۔ (روضة الطالبين :٢٩٠/١) وَإِذا تكلم فِي الصَّلَاة عَامِدًا بطلت وَإِن تكلم نَاسِيا لَهَا بنى مَا لم يَتَطَاوَل الْكَلَام وَسجد للسَّهْو قبل السَّلَام۔ (الاقناع :٤٥/١)
Fiqhe Shafi Question No/ 707 If one speaks while praying due to forgetfulness then does it invalidate his salah?
Ans; If one speaks in the prayer unintentionally due to slip of tongue or he utters two letters due to prevalence of laughing and coughing or by forgetfulness or out of ignorance of the ruling then his salah doesnot invalidate..However, he should perform the prostration of forgetfulness (sajdah suhu) before salam.. On the other hand if he utters more than two letters due to slip of tongue or by forgetfulness, then his is salah invalid..