011 – سوة هود – آیت نمبر – 014
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0942
اگر کوئی قضا نماز کو ادا کی نیت سے پڑھے اور نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہوجائے کہ نماز کا وقت نکل چکا تھا تو کیا وہ نماز دوبارہ قضا کی نیت سے پڑھنا ہوگا؟
اگر کوئی شخص ادا نماز پڑھے اس گمان سے کہ وقت باقی ہے مگر نماز مکمل ہوجانے کے بعد معلوم ہوجائے کہ نماز کا وقت ختم ہوچکا تھا، تب بھی اس کی نماز درست ہوگی چونکہ نماز کی نیت میں ادا اور قضاء کا ذکر کرنا شرط نہیں ۔
لَوْ صَلّى يَوْمَ الغَيْمِ بِنِيَّةِ الأداءِ وهُوَ يَظُنُّ بَقاءَ الوَقْتِ فَبانَ وُقُوعُ الصَّلاةِ خارِجَ الوَقْتِ – أجْزَأتْهُ ، واسْتَدَلُّوا بِهِ عَلى أنَّ نِيَّةَ القَضاءِ لَيْسَتْ بِشَرْطٍ ، هَذا كَلامُ الأصْحابِ فِي المسالة : وقال الرّافِعِيُّ الأصَحُّ أنَّهُ لا يُشْتَرَطُ نِيَّةُ القَضاءِ والأداءِ بَلْ يَصِحُّ الأداءُ بِنِيَّةِ القَضاءِ (المجموع :٢٥٩/٤)
ولو صلّى في يوم غيم ثّم بان أنه صلّى بعد الوقت أجزأه، وإن لم يكن نوى الفائتة. (بحر المذهب :١١٠/٢)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)