شریعت کی روشنی میں وباء کی مدافعت کے اصول – 03-07-2020
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزيز بليلة
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0862
*کُتا اگر کسی جگہ بیٹھ جائے تو اس جگہ کو دھونا دھونے کا کیا طریقہ کیا ہے؟*
*کُتا ناپاک ہے، لہذا کُتا کسی جگہ پر بیٹھ کر چلا گیا اگر وہ جگہ اور کُتا دونوں خشک تھے تو وہ جگہ ناپاک نہیں ہوگی۔ لیکن اگر کتا اور جگہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک تر ہو تو وہ جگہ ناپاک ہوگی۔ اس جگہ کو پاک کرنے کے لئے سات مرتبہ دھونا ضروری ہے، اور سات مرتبہ میں ایک مرتبہ مٹی ملاکر پانی بہانا ضروری ہے۔البتہ اگر وہ زمین مٹی والی ہو تو اس صورت میں صرف سات مرتبہ صرف پانی بہانا کافی ہے ۔*
*النَّجِسُ إذَا لَاقَى شَيْئًا طَاهِرًا، وَهُمَا جَافَّانِ: لَا يُنَجِّسُهُ* (الأشباه والنظائر للسيوطي:٤٣٢) *لَوْ مَاسَّ الْكَلْبُ ثَوْبًا رَطْبًا أَوْ مَاسَّ بِبَدَنِهِ الرَّطْبِ ثَوْبًا يَابِسًا أَوْ وَطِئَ بِرُطُوبَةِ رِجْلِهِ عَلَى أَرْضٍ أَوْ بِسَاطٍ كَانَ كَالْوُلُوغِ فِي وُجُوبِ غَسْلِهِ سَبْعًا فِيهِنَّ مَرَّةٌ بِالتُّرَابِ۔* (الحاوي الكبير:٣١٥/١) *يَكْفِي التُّرَابُ الْمَمْزُوجُ بِالْمَائِعِ؛ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ تِلْكَ الْغَسْلَةِ إنَّمَا هُوَ التُّرَابُ وَلَا يَجِبُ تَتْرِيبُ أَرْضٍ تُرَابِيَّةٍ إذْ لَا مَعْنَى لِتَتْرِيبِ التُّرَابِ فَيَكْفِي تَسْبِيعُهَا بِمَاءٍ وَحْدَهُ۔* (مغني المحتاج :٢٤١/١) *بِخِلَافِ الْأَرْضِ الْحَجَرِيَّةِ وَالرَّمْلِيَّةِ الَّتِي لَا غُبَارَ فِيهِمَا فَلَا بُدَّ مِنْ تَتْرِيبِهِمَا۔* (نهاية المحتاج:٢٥٦/١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0861
*بارش کے دنوں میں راستہ چلتے کیچڑ کپڑوں پر لگ جائے تو اسی کپڑوں پر نماز پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے؟*
*بارش کے موسم میں راستوں پر جو کیچڑ یا جمع شدہ پانی بدن پر لگ جائے تو اگر کیچڑ یا جمع شدہ پانی میں نجاست ملنے کا یقین ہو تو وہ تھوڑا لگے تو معاف ہے اگر زیادہ لگ جائے تو معاف نہیں اور پاک پانی سے اس کا دھونا ضروری ہے زیادہ اور کم کی مقدار کا اعتبار عرف سے کیا جائے گا۔اور اگر نجاست کا یقین نہ ہو تو وہ پانی اور کیچڑ پاک ہے ۔ اس حالت میں نماز درست ہوگی۔*
(*ﻭﻃﻴﻦ اﻟﺸﺎﺭﻉ) ﻳﻌﻨﻲ ﻣﺤﻞ اﻟﻤﺮﻭﺭ ﻭﻟﻮ ﻏﻴﺮ ﺷﺎﺭﻉ ﻛﻤﺎ ﻫﻮ ﻇﺎﻫﺮ (اﻟﻤﺘﻴﻘﻦ ﻧﺠﺎﺳﺘﻪ) ﻭﻟﻮ ﺑﻤﻐﻠﻆ ﻣﺎ ﻟﻢ ﺗﺒﻖ ﻋﻴﻨﻪ ﻣﺘﻤﻴﺰﺓ ﻭﺇﻥ ﻋﻤﺖ اﻟﻄﺮﻳﻖ ﻋﻠﻰ اﻷﻭﺟﻪ ﺧﻼﻓﺎ ﻟﻠﺰﺭﻛﺸﻲ ﻟﻨﺪﺭﺓ ﺫﻟﻚ ﻓﻼ ﻳﻌﻢ اﻻﺑﺘﻼء ﺑﻪ ﻭﻓﺎﺭﻕ ﻣﺎ ﻣﺮ ﻧﺤﻮ ﻣﺎ ﻻ ﻳﺪﺭﻛﻪ ﻃﺮﻑ ﻭﻣﺎ ﻳﺄﺗﻲ ﻓﻲ ﺩﻡ اﻷﺟﻨﺒﻲ ﺑﺄﻥ ﻋﻤﻮﻡ اﻻﺑﺘﻼء ﺑﻪ ﻫﻨﺎ ﺃﻛﺜﺮ ﺑﻞ ﻳﺴﺘﺤﻴﻞ ﻋﺎﺩﺓ اﻟﺨﻠﻮ ﻫﻨﺎ ﻋﻨﻪ ﺑﺨﻼﻓﻪ ﻓﻲ ﺗﻠﻚ اﻟﺼﻮﺭ ﻭﻛﺎﻟﺘﻴﻘﻦ ﺇﺧﺒﺎﺭ ﻋﺪﻝ ﺭﻭاﻳﺔ ﺑﻪ (ﻳﻌﻔﻰ ﻋﻨﻪ) ﺃﻱ ﻓﻲ اﻟﺜﻮﺏ ﻭاﻟﺒﺪﻥ ﻭﺇﻥ اﻧﺘﺸﺮ ﺑﻌﺮﻕ ﺃﻭ ﻧﺤﻮﻩ ﻣﻤﺎ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻴﻪ ﻧﻈﻴﺮ ﻣﺎ ﻳﺄﺗﻲ ﺩﻭﻥ اﻟﻤﻜﺎﻥ ﻛﻤﺎ ﻫﻮ ﻇﺎﻫﺮ ﺇﺫ ﻻ ﻳﻌﻢ اﻻﺑﺘﻼء ﺑﻪ ﻓﻴﻪ (ﻋﻤﺎ ﻳﺘﻌﺬﺭ اﻻﺣﺘﺮاﺯ ﻋﻨﻪ ﻏﺎﻟﺒﺎ) ﺑﺄﻥ ﻻ ﻳﻨﺴﺐ ﺻﺎﺣﺒﻪ ﻟﺴﻘﻄﺔ ﺃﻭ ﻗﻠﺔ ﺗﺤﻔﻆ ﻭﺇﻥ ﻛﺜﺮ ﻛﻤﺎ اﻗﺘﻀﺎﻩ ﻗﻮﻝ اﻟﺸﺮﺡ اﻟﺼﻐﻴﺮ ﻻ ﻳﺒﻌﺪ ﺃﻥ ﻳﻌﺪ اﻟﻠﻮﺙ ﻓﻲ ﺟﻤﻴﻊ ﺃﺳﻔﻞ اﻟﺨﻒ ﻭﺃﻃﺮاﻓﻪ ﻗﻠﻴﻼ ﺑﺨﻼﻑ ﻣﺜﻠﻪ ﻓﻲ اﻟﺜﻮﺏ ﻭاﻟﺒﺪﻥ اﻩـ. ﺃﻱ ﺃﻥ ﺯﻳﺎﺩﺓ اﻟﻤﺸﻘﺔ ﺗﻮﺟﺐ ﻋﺪ ﺫﻟﻚ ﻗﻠﻴﻼ ﻭﺇﻥ ﻛﺜﺮ ﻋﺮﻓﺎ ﻓﻤﺎ ﺯاﺩ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﺎﺟﺔ ﻫﻨﺎ ﻫﻮ اﻟﻀﺎﺭ ﻭﻣﺎ ﻻ ﻓﻼ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﻧﻈﺮ ﻟﻜﺜﺮﺓ ﻭﻻ ﻗﻠﺔ ﻭﺇﻻ ﻟﻌﻈﻤﺖ اﻟﻤﺸﻘﺔ ﺟﺪا ﻓﻤﻦ ﻋﺒﺮ ﺑﺎﻟﻘﻠﻴﻞ ﻛﺎﻟﺮﻭﺿﺔ ﺃﺭاﺩ ﻣﺎ ﺫﻛﺮﻧﺎﻩ (ﻭﻳﺨﺘﻠﻒ) ﺫﻟﻚ (ﺑﺎﻟﻮﻗﺖ ﻭﻣﻮﺿﻌﻪ ﻣﻦ اﻟﺜﻮﺏ ﻭاﻟﺒﺪﻥ) ﻓﻴﻌﻔﻰ ﻓﻲ ﺯﻣﻦ اﻟﺸﺘﺎء ﻭﻓﻲ اﻟﺬﻳﻞ ﻭاﻟﺮﺟﻞ ﻋﻤﺎ ﻻ ﻳﻌﻔﻰ ﻋﻨﻪ ﻓﻲ ﺯﻣﻦ اﻟﺼﻴﻒ ﻭﻓﻲ اﻟﻴﺪ ﻭاﻟﻜﻢ ﺳﻮاء ﻓﻲ ﺫﻟﻚ اﻷﻋﻤﻰ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻛﻤﺎ ﻳﺼﺮﺡ ﺑﻪ ﺇﻃﻼﻗﻬﻢ ﻧﻈﺮا ﻟﻤﺎ ﻣﻦ ﺷﺄﻧﻪ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺧﺼﻮﺹ ﺷﺨﺺ ﺑﻌﻴﻨﻪ ﻭﻣﻊ اﻟﻌﻔﻮ ﻋﻨﻪ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺗﻠﻮﻳﺚ ﻧﺤﻮ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﺸﻲء ﻣﻨﻪ ﻭﺧﺮﺝ ﺑﺎﻟﻤﺘﻴﻘﻦ ﻧﺠﺎﺳﺘﻪ۔* (تحفة المحتاج:١٣٠/٢) *ﺃﻣﺎ اﻟﺸﻮاﺭﻉ اﻟﺘﻲ ﻟﻢ ﻳﺘﻴﻘﻦ ﻧﺠﺎﺳﺘﻬﺎ ﻓﻤﺤﻜﻮﻡ ﺑﻄﻬﺎﺭﺗﻬﺎ ﻭﺇﻥ ﻇﻦ ﻧﺠﺎﺳﺘﻬﺎ ﻋﻤﻼ ﺑﺎﻷﺻﻞ.* (حاشیة الجمل: ٤٢٠/١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0860
*اگر کسی جگہ بارش کا پانی جمع ہوجائے تو اس پانی سے وضو یا غسل کرنے کا کیا حکم ہے؟
*بارش کا پانی پاک ہے اگر بارش کا پانی کسی جگہ جمع ہوجائے جس سے وضو یا غسل کرنا ممکن ہو تو اس پانی سے وضو اور غسل کرنا اور نجاست کو دور کرنا درست ہے۔*
*قَالَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ (يَجُوزُ رَفْعُ الْحَدَثِ وَإِزَالَةُ النَّجَسِ بِالْمَاءِ الْمُطْلَقِ وَهُوَ مَا نَزَلَ مِنْ السَّمَاءِ أَوْ نَبَعَ مِنْ الْأَرْضِ فَمَا نَزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءُ الْمَطَرِ وَذَوْبُ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ) وَوَجْهُ الدَّلَالَةِ مِنْ الْآيَةِ لِمَا اسْتَدَلَّ بِهِ الْمُصَنِّفُ هُنَا وَهُوَ جَوَازُ الطَّهَارَةِ بِمَاءِ السَّمَاءِ ظَاهِرٌ وَهَذَا الْحُكْمُ مُجْمَعٌ عَلَيْهِ .* (المجموع : ١ /٨٠،٨١)