نکاح قسط – 022 – 13-08-2018
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
درس حدیث نمبر / 001
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0234
اگر کوئی شخص مکہ حج اور عمرہ کے علاوہ کسی اپنی ضرورت کی بنا پر گیا ہو تو کیا واپسی میں ایسے شخص کے لیے طواف وداع کرنا چاہیے یا نہیں.؟
جواب:۔ طواف وداع ہر اس شخص کے لیے واجب اور ضروری ہے جو مکہ سے سفر کا ارادہ کرئے چاہے وہ مکی ہو یا کسی جگہ کا ہو، خواہ حاجی ہو یا عمرہ کرنے والا ، یا پھر وہ اپنی ضرورت کی بنا پر مکہ میں داخل ہوا ہو اس لیے کہ طواف وداع مناسک حج و عمرہ میں سے نہیں ہے. بلکہ صحیح قول کے مطابق ایک مستقل عبادت ہے ۔ (مغنى المحتاج304/2) (روضة الطالبين: 395/2)
Fiqhe shafi Question No/0234
If a person visits Makkah for some purpose rather than Umrah and hajj.. so upon returning should he perform tawaaf e vida or not?
Ans: Tawaf al wada is compulsory to all those who intend to leave Makkah either he is Makki, Non makki , Haji or whether he came to perform Umrah or for some other purpose.. Though tawaf al wada is not among the obligations of either hajj or umrah but it is an everlasting worship..