مكة المكرّمة دعاء – 22 رمضان 1441
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فقہ شافعی سوال نمبر / 0851
*لاک ڈاؤن کی وجہ سے مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟*
*اعتکاف کے صحیح اور درست ہونے کے لیے شرعی مسجد کا ہونا ضروری ہے مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف کرنا درست نہیں، کرونا وائرس کی وجہ سے ملک میں اکثر جگہوں پر لاک ڈاؤن ہے جس کی وجہ سے مساجد میں جمع ہونا قانوناً جرم ہے۔ اس لیے محلہ یا گاؤں میں سے اگر کوئی ایک یا دو افراد مسنون اعتکاف کرلے تو یہ سنت ادا ہوگی۔ چونکہ اعتکاف کا اہم مقصد لیلۃ القدر کی تلاش اور جستجو ہے اس لیے بقیہ تمام لوگ اپنے اپنے گھروں میں عبادتوں میں مشغول رہیں۔ واضح رہے کہ اگر کوئی مرد گھر میں اعتکاف کی نیت کرے تو اس کا اعتکاف درست نہیں ہوگا۔*
*علامہ خطیب شربيني رحمة الله علیه فرماتے ہیں: وَالِاعْتِكَاف سنة مُؤَكدَة وَهِي (مُسْتَحبَّة) أَي مَطْلُوبَة فِي كل وَقت فِي رَمَضَان وَغَيره بِالْإِجْمَاع ولإطلاق الْأَدِلَّة* (الاقناع في حل الفاظ ابي شجاع٢٤٦/١) *علامہ ابن نقیب رحمة الله علیه فرماتے ہیں: الاعتكافُ سُنَّةٌ في كلِّ وقتٍ، ورمضانُ آكدُ، والعشرةِ الأخيرةِ آكدُ لطلبِ ليلةِ القدرِ، ويمكنُ أنْ تكونَ في جميعِ رمضانَ، وفي العشرةِ الأخيرةِ أرْجى، وفي أوتارهِ أرْجى، وفي الحادي والثالثِ والعشرينَ أرجى، ويُكثِرُ في ليلةِ القدْرِ: "اللهمَّ إنكَ عفوٌّ تحبُ العفوَ فاعفُ عني”.* عمدة السالك وعدة الناسك/١٢٠ *علامہ ابن حجر الہیتمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: قَوْلُ الْمَتْنِ (وَالْجَدِيدُ أَنَّهُ لَا يَصِحُّ إلَخْ) وَالْقَدِيمُ يَصِحُّ؛ لِأَنَّهُ مَكَانُ صَلَاتِهَا كَمَا أَنَّ الْمَسْجِدَ مَكَانُ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَأَجَابَ الْأَوَّلُ بِأَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَخْتَصُّ بِمَوْضِعٍ بِخِلَافِ الِاعْتِكَافِ وَعَلَى الْقَوْلِ بِصِحَّةِ اعْتِكَافِهَا فِي بَيْتِهَا يَكُونُ الْمَسْجِدُ لَهَا أَفْضَلَ خُرُوجًا مِنْ الْخِلَافِ نِهَايَةٌ وَمُغْنِي.* (تحفة المحتاج و حواشي الشيرواني :٤٦٦/٣) *امام شیرازی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: ولا يصح الاعتكاف من الرجل إلا في المسجد لقوله تعالى: {وَلا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ} [البقرة:187] فدل على أنه لا يكون إلا في المسجد ولا يصح الاعتكاف من المرأة إلا في المسجد لأن من صح اعتكافه في المسجد لم يصح اعتكافه في غير المسجد كالرجل*. المهذب في فقه الامام الشافعي.٣٥٠/١ *علامہ بجیرمی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: إنَّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَعْتَكِفَ فِي الْمَحَلِّ الَّذِي هَيَّأَتْهُ لِلصَّلَاةِ فِي بَيْتِهَا بِخِلَافِ الرَّجُلِ وَالْخُنْثَى۔* *شیخ عظیم آبادی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَأَمَّا الرَّجُلُ فَلَمْ يَخْتَلِفُوا أَنَّ اعْتِكَافَهُ فِي بَيْتِهِ غَيْرُ جَائِزٍ وَإِنَّمَا شُرِعَ الِاعْتِكَافُ فِي الْمَسَاجِدِ وَكَانَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ يَقُولُ لَا يَكُونُ الِاعْتِكَافُ إِلَّا فِي الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ مَسْجِدِ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ۔* (عون المعبود وحاشية ابن القيم:٩٩/٧)
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجا
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0850
*بہت سے لوگ واٹس ایپ وغیرہ پر گروپ سلام لکھ کر یا وائز میسج بھیجتے ہیں تو اس کا جواب زبان سے دینا کافی ہیں یا اسے لکھ کر بھیجنا ضروری ہے؟
*سلام کا جواب دینا واجب ہے اور اس اصول یہ ہے اگر کوئی شخص کسی جماعت کو سلام کرے تو ان میں سے کسی ایک کا جواب دینا تمام کی طرف سے کافی ہے اگر کوئی بھی جواب نہ دے تو سارے لوگ گنہگار ہونگے اسی طرح واٹس ایپ گروپ میں اگر کوئی سلام کرے تو کسی ایک کا جواب دینا کافی ہے ہاں اگر کوئی شخص سلام لکھ کر دوسروں کو بھیجے دے اور وہ لوگ پڑھ کر اس پر مطلع ہوجائیں تو ان پر (لفظا) زبان سے جواب دینا کافی ہے لکھ کر سلام کا جواب بھیجنا ضروری نہیں۔*
*علامہ نووی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: ﻭﺇﻥ ﺳﻠﻢ ﻋﻠﻰ ﺟﻤﺎﻋﺔ، ﻓﺎﻝﺭﺩ ﻓﻲ ﺣﻘﻬﻢ ﻓﺮﺽ ﻛﻔﺎﻳﺔ، ﻓﺈﻥ ﺭﺩ ﺃﺣﺪﻫﻢ، ﺳﻘﻂ اﻟﺤﺮﺝ ﻋﻦ اﻟﺒﺎﻗﻴﻦ، ﻭﺇﻥ ﺭﺩ اﻟﺠﻤﻴﻊ، ﻛﺎﻧﻮا ﻣﺆﺩﻳﻦ ﻟﻠﻔﺮﺽ، ﺳﻮاء ﺭﺩﻭا ﻣﻌﺎ ﺃﻭ ﻣﺘﻌﺎﻗﺒﻴﻦ، ﻓﺈﻥ اﻣﺘﻨﻌﻮا ﻛﻠﻬﻢ، ﺃﺛﻤﻮا* (روضة الطالبين: ۱۰/٢٢٦) *قال الله تعالى: واذا حييتم بتحية فحيوا باحسن منها او ردوها*۔ سورة النساء( ٨٤) *ﻭﻳﺠﺐ ﺭﺩ ﺟﻮاﺏ ﻛﺘﺎﺏ اﻟﺘﺤﻴﺔ ﻛﺮﺩ اﻟﺴﻼﻡ.* (روح المعاني:٣/٩٣) *مزید صاحب فتح المعین فرماتے ہیں: ﻭﻳﻠﺰﻡ اﻟﻤﺮﺳﻞ ﺇﻟﻴﻪ اﻟﺮﺩ ﻓﻮﺭا ﺑﺎﻟﻠﻔﻆ ﻓﻲ اﻹﺭﺳﺎﻝ ﻭﺑﻪ ﺃﻭ ﺑﺎﻟﻜﺘﺎﺑﺔ ﻓﻴﻬﺎ.* (فتح المعين:١/٥٩٧)
فضيلة الشيخ ٱحمد بن علي الحذيفي