مكة المكرّمة دعاء – 26 رمضان 1439
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزیز بلیلة
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزیز بلیلة
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سوال نمبر/ 0200
اگر کوئی شخص ہندوستان سے عرب ممالک جائے اور اس کے 28/ روزے ہی ہوئے ہوں اور وہاں عید کا دن ہو تو وہ کیا کرئے گا ؟
جواب : اگر کوئی ہندوستان سے 28/ روزہ مکمل کر کے عرب ممالک جائے اور وہاں پر عید کا دن ہو تو اس پر اس دن عید منانا واجب ہے اور باقی روزے کی قضا کرنا واجب ہے کیونکہ مہینہ 28 /کا نہیں ہوتا 29/ یا 30/ کا ہوتا ہے۔
لہذا اسے صورت میں اس کے لئے ایک روزہ کی قضاء ضروری ہے. لیکن اسے 29/ روزے حاصل ہوچکے ہیں تو قضاء کی ضرورت نہیں. کیوں مہینہ 29/کا بھی ہوتا ہے چاہے جس بستی سے چلا تھا وہاں رمضان 30/ دن کا ہوگیا ہو۔
وَمَنْ سَافَرَ مِنْ الْبَلَدِ الْآخَرِ) الَّذِي لَمْ يَرَ فِيهِ (إلَى بَلَدِ الرُّؤْيَةِ عَيَّدَ) أَيْ أَفْطَرَ (مَعَهُمْ) وَإِنْ كَانَ لَمْ يَصُمْ إلَّا ثَمَانِيَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا لِمَا مَرَّ أَنَّهُ صَارَ مِثْلَهُمْ (وَقَضَى يَوْمًا) إذَا عَيَّدَ مَعَهُمْ فِي التَّاسِعِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ صَوْمِهِ كَمَا بِأَصْلِهِ؛ لِأَنَّ الشَّهْرَ لَا يَكُونُ ثَمَانِيَةً وَعِشْرِينَ بِخِلَافِ مَا إذَا عَيَّدَ مَعَهُمْ يَوْمَ الثَّلَاثِينَ فَإِنَّهُ لَا قَضَاءَ؛ لِأَنَّهُ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ
(تحفة المحتاج مع حواشي الشرواني 3/ 384)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0198
جو لوگ بیرون ملک یا بیرون شہربرسر روزگار مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر وطن اصلی میں نکالیں گے یا اقامت کی جگہ پر نکالنا ضروری ہے؟
جواب:۔ جو شخص رمضان کے آخری دن کے غروب کے وقت جہاں مقیم ہے اس کے لئے اپنا صدقہ فطر نکالنےکے لئے اسی جگہ کا اعتبار ہوتا ہے. لہذا جو لوگ برسر روزگار بیرون ملک یا بیرون شہر مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر اسی جگہ پر ادا کریں گے. البتہ اگر اس جگہ پر صدقہ فطر لینے والے موجود نہ ہوں تو پھر کسی قریبی دوسری جگہ یا اپنے وطن اصلی میں منتقل کرسکتے ہیں۔ (المجموع 225/6)
قال الإمام النووي رحمه الله:
قالَ أصْحابُنا إذا كانَ فِي وقْتِ وُجُوبِ زَكاةِ الفِطْرِ فِي بَلَدٍ ومالُهُ فِيهِ وجَبَ صَرْفُها فِيهِ
_____________
المجموع (٢٢٥/٦)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
مدبنہ اردو ترجمہ : شفقت الرحمٰن
عنوان: رمضان؛ قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
سوال نمبر/ 0197
کیا صدقہ فطر رمضان کے مہینہ میں نکالنے سے ادا ہوجائے گا؟
جواب: صدقہ فطر نکالنے کا وقت رمضان کی ابتداء ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ البتہ رمضان کے آخری دن کے افطار کے بعد نماز عید سے پہلے پہلےاس کا ادا کرنا افضل ہے.اور رمضان میں ادا کرنا جائز ہے. اس لیے اگر کوئی شروع رمضان ہی سےادا کرنا چاہے تو اس کے لیے جائز ہے. لیکن رمضان سے پہلے ادا کرنا منع ہے.
ولا بُدَّ مِن إدْراكِ جُزْءٍ مِن رَمَضانَ مَعَ الجُزْءِ المَذْكُورِ كَما يُفِيدُهُ قَوْلُهُ فَيُخْرِجُ إلى آخِرِهِ، وقَوْلُهُ فِيما بَعْدُ لَهُ تَعْجِيلُ الفِطْرَةِ مِن أوَّلِ رَمَضانَ.
(نهاية المحتاج ٩٥/٣)
سورة الحجر– آيت نمبر 67-68-69-70-71-72-73-74-75-76-77-78-79 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)