عام طور پر مساجد میں معتکفین کے لئے مسجد کے ایک کونہ میں پردہ لٹکاکر جگہ کو مختص کیا جاتا ہے. شرعا اس کی گنجائش ہے؟
جواب:۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو نماز پڑھنے کے بعد اس حجرہ میں چلے جاتے جو اعتکاف کے لیے مسجد میں بنایا جاتا. (بخاری :2034)
اس عمل کی بناء پر فقہاء نے معتکف کے لئے مسجد میں چادر کے ذریعہ ایک کونہ کو کمرہ نما بنانے کی اس طرح اجازت دی ہے کہ لوگوں کوجگہ تنگ نہ ہو تاکہ معتکف کو عبادت میں تنہائی اور یکسوئی حاصل ہو. البتہ بہتر یہی ہے کہ یہ کمرہ نما مسجد کے آخیری حصہ میں بنایا جائے تاکہ نمازیوں کو جگہ کی تنگی نہ ہوسکے۔
قال الإمام إبن حجر العسقلاني:
وفِيهِ جَوازُ ضَرْبِ الأخْبِيَةِ فِي المَسْجِدِ(١)
__________
(١)فتح الباري:(٢٧٧/٤)
*شرح مسلم (٢٤٨/٣)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0446 اگر کوئی امام نماز میں سورہ ص کا سجدہ کرے تو اس نماز کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ ۲۳/ تئیسویں پارے میں سورہ ص کا سجدہ شوافع کے نزدیک سجدہ تلاوت نہیں ہے بلکہ یہ سجدہ شکر ہے جس کو نماز کے علاوہ میں کرنا مستحب ہے اور اصح قول کے مطابق اس سجدہ کو نماز میں کرنا حرام ہے, اگر کوئی امام "سورہ ص” کا سجدہ نماز میں عمدا کرے تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی اور اگر کوئی مسئلہ نہ جانتے ہوئے یا بھول کر اس سجدہ کو نماز میں کرے تو نہ جاننے کی بناء پر اس کی نماز باطل نہیں ہوگی البتہ وہ سجدہ سہو کریگا، اور اگر امام حنفی ہو تو ایسی صورت میں مقتدی امام سے الگ ہونے کی نیت کریگا اور امام قیام میں واپس لوٹنے تک کھڑے رہ کر امام کا انتظار کرے۔
امام شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:(تسن سجدات التلاوة وهن في الجديد أربعة عشر) سجدة (منها سجدتا الحج لا) سجدة (ص بل هي سجدة الشكر تستحب في غير الصلاة وتحرم فيها) وتبطلها(على الأصح) لمن علم ذلك وتعمده، أما الجاهل أو الناسي فلا تبطل صلاته لعذره، لكن يسجد للسهو. ولو سجد إمامه وكان يعتقدها كحنفي جاز له مفارقته و انتظاره قائما…ولا يسجد للسهو إذا انتظره. (مغني المحتاج:٣٠١-٣٠٢\١-دار الكتب العلمية) امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:ﻭﻟﻮ ﺳﺠﺪ ﺇﻣﺎﻣﻪ ﻓﻲ "ص” ﻟﻜﻮﻧﻪ ﻳﻌﺘﻘﺪﻫﺎ ﻓﺜﻼﺛﺔ ﺃﻭﺟﻪ ﺃﺻﺤﻬﺎ ﻻ ﻳﺘﺎﺑﻌﻪ
ﺑﻞ ﺇﻥ ﺷﺎء ﻧﻮﻯ ﻣﻔﺎﺭﻗﺘﻪ ﻷﻧﻪ ﻣﻌﺬﻭﺭ ﻭﺇﻥ ﺷﺎء ﻳﻨﺘﻈﺮﻩ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻛﻤﺎ ﻟﻮ ﻗﺎﻡ ﺇﻟﻰ ﺧﺎﻣﺴﺔ ﻻ ﻳﺘﺎﺑﻌﻪ ﺑﻞ ﺇﻥ ﺷﺎء ﻓﺎﺭﻗﻪ ﻭﺇﻥ ﺷﺎء اﻧﺘﻈﺮﻩ ﻓﺈﻥ اﻧﺘﻈﺮﻩ ﻟﻢ ﻳﺴﺠﺪ ﻟﻠﺴﻬﻮ ﻷﻥ اﻟﻤﺄﻣﻮﻡ ﻻ ﺳﺠﻮﺩ ﻋﻠﻴﻪ….
Fiqhe Shafi Question No/0446
If anyone Emam performs the sajdah of surah Sua’d in prayer then what is the ruling with regard to this?
Ans; According to Shaafi’s The Sajdah of Surah Suad is not considered as Sajdah tilawat rather it is sajdah shukr which is recommended (mustahab) to be performed in times other than salah and according to the correct description performing this sajdah in prayer is forbidden.. If a Emam performs the sajdah of Surah Suad deliberately then the salah invalidates and if anyone performs this sajdah unknowingly or due to ignorance then the salah will not invalidate however she/he must perform sajda suhu… If the Imaam is hanafi then in this situation the muqtadi shall make the niyyah of separation from Imaam and will wait until the Imaam gets back to the standing position..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0180 اگر کسی عورت کا حیض کا خون صبح صادق سے پہلے بند ہو جاۓ تو کیا وہ روزہ رکھ سکتی ہے یا پہلے غسل کرنا ضروری ہوگا؟
جواب: جب عورت کا حیض کا خون بند ہوگیا تو اب اس پر روزہ رکھنا فرض ہوگا اگر چہ اس نے ابھی تک غسل نہ کیا ہو کیونکہ اصل مانع حیض تھا. جب ختم ہو گیا تو روزہ رکھنا ضروری ہوگا.
Fiqhe Shafi Question No/0180 If a menstruating woman attains purity before dawn then is it permissible for her to keep fast or is it necessary to take bath(ghusl) first?
Ans; Fasting becomes obligatory(fardh) on a menstruating woman when she stops bleeding even though she didnot take bath(ghusl) yet because the main reason for not fasting was menstruation so whenever a woman stops bleeding fasting becomes compulsory on her…