جمعہ _8 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0194
اعتکاف کی حالت میں کسی کو نیند میں یا کسی عورت پرشہوت کی نظر ڈالنے کی وجہ احتلام ہوجائے تو کیا اس صورت میں اعتکاف باطل ہوگا؟
جواب:۔اپنی بیوی کے ساتھ جان بوجھ کر جماع یا شہوت کے ساتھ لطف اندوز ہونے پر منی نکلنے کی صورت میں اعتکاف باطل ہوتا ہے لہذا اگر کسی کو نیند میں یا کسی پر غلط نظر کی بناء پر منی نکلے تو اعتکاف باطل نہیں ہوگا. البتہ اس صورت میں مسجد سے نکل کر فورا غسل کرلینا ضروری ہے _
وخرج بِالمُباشرَةِ ما إذا نظر أو تفكر فَأنْزل فَإنَّهُ لا يبطل.
الاقناع:٤٩٥/١
جمعرات _7 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
جمعرات _7 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
جمعرات _7 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
جمعرات _7 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
جمعرات _7 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
جمعرات _7 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزیز بلیلة
جمعرات _7 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0193
کیا اعتکاف میں اپنی بیوی سے یا کسی عورت سے بضرورت فون پر بات کرسکتے ہیں ؟
جواب:۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں تھے اور میں رمضان کے آخری عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے آئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ دیر گفتگو کی (بخاری:2035)
اس حدیث کی روشنی میں علماء فرماتے ہیں کہ معتکف کے لئے مباح امور میں مشغول ہونا جائز ہے .چنانچہ معکتف کے لیے اپنی اہلیہ اور گھروالوں سے ضروری بات کرنے کی بھی گنجائش ہے. اورغیر ضروری باتوں سے اجتناب بہتر ہے. اس لیے کہ اعتکاف کا اصل مقصود عبادت میں ترقی اور مسجد کے باہر کے ماحول سے ہٹ کر تلاوت قرآن و ذکرالہی میں زیادہ مشغول رہنا ہے۔
قال الإمام الخطيب الشربيني رحمه الله:
ولا يضر فِي الِاعْتِكاف التَّطَيُّب والتزين وقص شارِب ولبس ثِياب حَسَنَة ونَحْو ذَلِك من دواعي الجِماع لِأنَّهُ لم ينْقل أنه ﷺ تَركه ولا أمر بِتَرْكِهِ والأصْل بَقاؤُهُ على الإباحَة …..وإن اشْتغل المُعْتَكف بِالقُرْآنِ والعلم فَزِيادَة خير لِأنَّهُ طاعَة فِي طاعَة(١)
_____________(١)الإقناع (٤٩٦/١)
جمعرات _7 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الحجر– آيت نمبر 51-52-53-54-55-56-57-58-59-60-61-62-63-64-65-66 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
بدھ _6 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
بدھ _6 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
عنوان : معتکف کروچے انی وروچے کام
بدھ _6 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
عنوان : رمضان اور آخری عشرہ
بدھ _6 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
بدھ _6 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
بدھ _6 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0192
عورت کے لئے اعتکاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
جواب:۔ اعتکاف کے لئے اصل مسجد شرط ہے چاہے مرد ہو یا عورت ہو اس کا اعتکاف مسجد ہی میں صحیح ہوگا. مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہیں ہوگا. لیکن موجودہ پُرفتن زمانہ میں کسی عورت کے لئے مسجد میں اعتکاف کرنا مشکل ترین امر ہے اس بناء پر عورت کے لیے اپنے گھر میں نماز کے لیے متعین جگہ میں اعتکاف کرنے کی گنجائش ہے. لہذا عورتیں اعتکاف کرنا چاہیں تو اپنی گھر میں نماز کی جگہ اعتکاف کرلیں.
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
لایصح الاعتکاف من الرجل والمراۃ الا فی المسجد ولا یصح فی مسجد بیت المراۃ ..وھوالمعتزل المھیاللصلاۃ ..وحکی الخراسانیوں وبعض العراقیین فیہ قولین ..وھو القدیم یصح اعتکاف المراۃ فی مسجد بیتھا (المجموع:6/472)
Fiqhe Shafi Question No/0192
What is the ruling with regard to women performing I’tikaaf?
Ans; Masjid is the main condition for performing I’tikaaf whether it might be male or female.. His or her Itikaaf will be valid in Masjid only and except masjid no other place is appropriate to perform Itikaaf.. But in this era of mischievousness it is highly difficult for a woman to perform I’tikaaf so based on this there is permissiblility for woman to determine some specific place in her house for performing I’tikaaf.. Therefore if a woman wants to perform I’tikaaf then she may perform in a place of praying salah in her house…