فقہ شافعی سوال نمبر/ 0574 آج كل سانپ كى چمڑی سے پرس اور عورتوں کے بيگ بنتے ہيں ايسے پرس اور بيگ کی خريد و فروخت جائز ہے يا نہيں؟
جواب:۔ مسلم شريف /٣٦٣ کی روایت سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ ہر جاندار کی چمڑی پاک ہے سوائے کتے اور حنزیر کے ان کے علاوہ تمام جانور سانپ وغیرہ کی چمڑی دباغت دينے سے پاک ہوجاتا ہے اور اس سے فائده اٹھانا بھی جائز ہے سوائے کتے اور خنزير اور ان دونوں يا ان ميں سےکسی ايک كی ملاپ سے پيدا ہونے والے جانور کے چمرے, دباغت دينے کے بعد بھی پاک نہيں ہوگا , بہرحال سانپ کے چمرے کو دباغت دينے کے بعد پرس اور عورتوں كے بيگ بنائے ہوں تو ايسےبيگ اور پرس اور د يگر اشياء كی خريد وفروخت جائز ہے، ليكن سانپ یا دوسرے مردار جانور کے چمڑے کو دباغت نہ دیا گیا ہو تو ايسے بيگ اور پر س کی خريد وفروخت كرنا جائز نہیں اس لئے کے دباغت كے بغير وه چمرا نجس ہی رہتا ہے، اس لیے نجس اشياء کی خريد و فروخت جائز نہیں ہے۔
قال امام الحرمين رحمہ اللہ فكل حيوانكان طاهراً في حياته، فإذا مات طهر جلدُه بالدِّباغ، سواء كان مأكولَ اللحم، أو لم يكن، وكل حيوانٍ كان نجسَ العينفي حياته، فلا يَطهُر جلدُه بالدِّباغ. ثم الحيوانات كلها طاهرةُ العيون إلا الكلبَ، والخنزيرَ، والمتولد منهما، أو من أحدهما، وحيوانٍ طاهرٍ.٠٠٠ يحرُم بيعُ جلدِ الميتة قبلَ الدباغ، (نهاية المطلب :٣١٦/١) قال النووي رحمہ اللہ واذا طهر بالدباغ جاز الانتفاع به بلا خلاف وهل يجوز بيعه فيه قولان للشافعي اصحهما يجوز (الحاوي الكبير :٥٦/١) ( شرح مسلم :٤٣/٢)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0573 اگر موبائیل كے ذريعے کسی بچے کی پيدائش كے بعد اسکے کان ميں اذان اور اقامت كى آواز پہچانے سے کیا اس طرح سنانے سے سنت ادا ہوگی يا نہیں ؟
جوب:۔ اگر كسی بچے کی پيدائش پر موبائیل كے ذريعے بچے کے کان ميں اذان اور اقامت كی آواز پہچائے تو اذان كی اصل سنت ادا نہیں ہوگی اسلئے اذان كے کچھ شرائط ہيں ان ميں سے ايک شرط ہے اذان ديتے اذان کا قصد ہو اور اذان دینے والا مسلمان ہو، مميز ہوں، مرد ہو، اور يہ تمام شرائط موبائل ميں نہيں پائے جاتے ہيں، اسی وجہ سے موبائل کے ذريعہ کان ميں اذان پہچانے سے اذان كی سنت ادا نہيں ہوگی۔
علامہ دميرى رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَشَرْطُ الْمُؤَذِّنِ: الإِسْلاَمُ، وَالتَّمْيِيزُ، وَالذُّكُورَةُ. وَيُكْرَهُ لَلْمُحْدِثِ، وفي (البحر) وجهان في اشتراط النية في الأذان،. (النجم الوهاج : ٥٣/١) قال علامہ وھبۃ الزحيلى :وتشرط النية عند الفقهاء الاخرين فان أتي بالالفاظ المخصوصة بدون قصد الاذان لم يصح. (الفقه الاسلامي :٧٠٠/١) *(المجموع :١٠٦/٣) *(الفقه المنهجي:١١٥/٣)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0572 اگر کسی شخص کی ناک خراب ہونے کی وجہ سے اس نے مصنوعی ناک لگائی ہو تو وضو کے دوران چہرا دھوتے وقت اس پر پانی نہ پہنچے تو وضو درست ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کسی شخص کی ناک خراب ہونے کی وجہ سے وہ مصنوعی ناک لگائے اور وہ مصنوعی ناک ایسی ہو کہ اس کا نکالنا ممکن ہو تو ایسی صورت میں چہرا دھوتے وقت اس کو نکالنا ضروری ہے تاکہ اصل حصہ تک پانی پہنچ سکے اور اگر مصنوعی ناک ایسی ہو کہ اس کو نکالنا دشوار ہو تو اس کو اصل کی طرح مانتے ہوئے دھونا واجب ہوگا ۔
"لو اتخذ له أنملة أو انفا من ذهب أو فضة وجب عليه غسله من حدث أصغر أو أكبر ومن نجاسة غير معفو عنها، لأنه وجب عليه غسل ما ظهر من الأصابع والأنف بالقطع، وقد تعذر للعذر فصارت الانملة والأنف كالاصلين . (مغني المحتاج ١/١٢٦) "لو اتخذ له انفا من ذهب وجب غسله كما أفتى به الوالد رحمه الله تعالى لأنه وجب غسل ما ظهر من أنفه بالقطع وقد تعذر للعذر فصار الأنف المذكور فى حقه كالاصلي. (نهاية المحتاج ١/١٢٦)
Fiqhe Shafi Question No/0572 If a person fixes an artificial nose due to damage of the nose and the water doesnot reaches the nose while performing ablution of face then does the ablution becomes valid?
Ans; If a person fixes an artificial nose due to damage of the nose and the artificial nose is such that it is possible to take it off then while performing ablution of face it should be taken off so that the water reaches the main part and if the artificial nose is such that it is difficult to remove then considering the artificial nose as the main organ it is compulsory to wash it..