بدھ _28 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0769
*نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ پڑھنا کیسا ہے؟
*جنازہ کی نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ نہ پڑھنا بہتر ہے اگر کوئی سورہ فاتحہ کے بعد سورہ پڑھے تو نماز پر کوئی اثر نہیں ہوگا البتہ اگرمقتدی کی سورہ فاتحہ امام سے پہلے ختم ہوجائے اور سورہ پڑھنے کا موقع ہو تو خاموش رہنے کے بجائے کوئی مختصر سورہ پڑھنا مسنون ہے۔*
أما قراءة السورة.. فلا تستحب في الأصح بل نقل الإمام فيه الإجماع وقيل: تستحب سورة قصيرة. (النجم الوهاج:٤٥/٣) وينبغي أن المأموم إذا فرغ من الفاتحة قبل امامه تسن له السورة لأنها أولى من وقوفه ساكنا. (إعانة الطالبين:١٩٦/٢) وفي القراءة السورة وجهان: أحدهما: يقرأ سورة قصيرة لأن كل صلاة قرأ فيها الفاتحة قرأ فيها السورة كسائر الصلوات.والثاني: أنه لا يقرأ لأنها مبنية على الحذف والاختصار۔ (المهذب للشيرازى:٢٤٧/١)
بدھ _28 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0768
سیلاب کی وجہ سے بہت سی جگہوں (کیرلا، آسام و غیرہ) پر بعض قیمتی اشیاء (سونا،چاندی، وغیرہ) ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوگئے ہیں، اب اگر یہ کسی کے ہاتھ لگ جائے تو کیا اس کا حکم لقطہ کی طرح ہوگا؟ اور اس کا مصرف کیا ہوگا؟
ہوا اور سیلاب وغیرہ کی وجہ سے جو اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجائے، تو وہ لقطہ کے حکم میں نہیں ہوگی، اس لیے کہ لقطہ میں مالک سے گرنے یا غفلت کی وجہ سے ضائع ہونا شرط ہے، لھذا ہوا اور سیلاب وغیرہ کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی اشیاء پر مال ضائع کا حکم ہوگا، اور وہ مال لقطہ کے حکم میں نہیں ہوگا، اور مال ضائع کا حکم یہ ہے کہ اس مال کو امام وقت یا حاکم و قاضی کے حوالے کیا جائے گا یا اگر بیت المال کا نظام ہو تو اسی بیت المال میں جمع کیا جائے گا اور ان دونوں کے مفقود ہونے کی صورت میں وہ خود اس مال کی حفاظت کرے گا یہاں تک کہ اس مال کا مالک مل جائے، اور اگر مالک ملنا دشوار ہو تو ان چیزوں کو رفاہی و ملی تنظیموں کے حوالے کیا جائے گا، تاکہ وہ مسلمانوں کے عمومی مصالح پر خرچ کیا جائے۔
قال الإمام النووي رحمه الله يشترط في اللقطة ثلاثة شروط غير ماسبق، أحدها: أن تكون شيئا ضاع من مالكه لسقوط أو غفلة ونحوهما ، فأما إذا ألقت الريح ثوبا في حجره، أو ألقى إليه هارب كيسا ولم يعرف من هو، فهو مال ضائع يحفظ ولايتملك. (روضة الطالبين:٤ / ٤٦٨) قال الإمام جمال الدين الأهدل رحمه الله: وما ألقاه نحو ريح أو هارب لايعرفه بنحو حجره أو داره، مال ضائع لالقطة، أمره للإمام يحفظه أو ثمنه إن رأى بيعه، أو يقترضه لبيت المال إلى ظهور مالكه إن توقعه، وإلا صرفه لمصارف بيت المال، وحيث لاحاكم أو كان جائرا … فعل من هو بيده فيه ذلك كما مر نظيره، ولمن هو بيده تملكه حيث كان له حق في بيت المال، و إلا فليس له ذلك. (عمدة المفتي والمستفتي:١ / ٧٢١)
منگل _27 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
پیر _26 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
پیر _26 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: موسمیاتی تبدیلی اسباق اور نصیحتیں
اتوار _25 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _25 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0767
دوران نماز اگر کسی امام کا وضو ٹوٹ جائے تو مقتدی حضرات باقی نماز کیسے مکمل کریں ؟
نماز کے دوران اگر کسی امام کا وضو ٹوٹ جائے تو اب مقتدیوں کے لیے اپنی نماز مکمل کرنے کے سلسلے میں دو طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ مقتدی اس امام سے الگ ہونے کی نیت کریگا اور اپنی بقیہ نماز مکمل کرے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسی وقت مقتدیوں میں سے کوئی ایک امامت کے لیے آگے بڑھے گا اور بقیہ نماز کی امامت کرے گا اور نماز مکمل کریگا۔
إذا بطلت صلاة الامام بحدث ونحوه ….. فانه يفارقه ولا يضر الماموم هذه المفارقة إذَا خَرَجَ الامام عن الصلاة بحديث تَعَمَّدَهُ أَوْ سَبَقَهُ أَوْ نَسِيَهُ أَوْ بِسَبَبٍ آخَرَ أَوْ بِلَا سَبَبٍ فَفِي جَوَازِ الِاسْتِخْلَافِ قَوْلَانِ مَشْهُورَانِ (الصَّحِيحُ) الْجَدِيدُ جَوَازُهُ۔ (المجموع:213/4)
اتوار _25 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0766
اگر کوئی شخص السلام علیکم کے علاوہ صرف سلام مسنون یا سلام و تسلیم جیسے الفاظ کے ذریعہ کسی کو سلام کرے تو کیا اس طرح سلام کرنا درست ہے اور اس طرح سلام کرنے والے کو جواب دینا ضروری ہے ؟
سلام کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آدمی پورا پورا سلام یعنی السلام علیکم ورحمة الله وبركاته اور اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته کہے ہاں اگر کوئی شخص سلام مسنون یا سلام تسلیم اس جیسے الفاظ کے ذریعہ سلام کرے تو اس طرح سلام کرسکتا ہے اور مخاطب کو اس کا جواب دینا بھی واجب ہوگا اس لیے کہ یہ الفاظ عجمی زبان میں سلام کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
قلت: الصواب صحة سلامة بالعجمية إن كان المخاطب يفهمها ، سواء قدر على العربية أم لا ، ويجب الرد ، لأنه يسمى تحية وسلاماً۔ (روضة الطالبين.كتاب السير :١٨٧/٤)
اتوار _25 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0765
گناہ کبیرہ بار بار کرنے والا شخص اگر سلام کرے تو اسے جواب دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام عرض کیا ہے، تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ شخص نئی باتیں گڑھتا ہے اگر وہ ایسا ہى باتیں گڑھنے والا ہو تو میری طرف سے جواب نہ دینا۔ (سنن ترمذي:٢١٥٢) ایسا شخص جو بدعتی ہو، یا گناہ کبیرہ بار بار کرتا ہو اور توبہ بھی نہ کرتا ہو اگر کسی کو سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب دینا واجب اور ضروری نہیں ہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کے سلام کا جواب نہ دینا سنت ہے۔
ويلزمهم الرّد الا على فاسق بل يسن تركه على مجاهر بفسقه ومرتكب ذنب عظيم لم يتب منه و مبتدع إلا لعذر او خوف مفسدة. (تحفة المحتاج:٤/١٨٩) و في استحباب السلام على الفاسق ( المجاهر بنفسه) ووجوب الرد على المجنون والسكران اذا سلم وجهان. (العزيز شرح الوجيز:١١/٣٧٦) فرع:في استحباب السلام على الفاسق المجاهر بفسقه والمبتدع ومن ارتكب ذنباً عظيماً ولم يتب منه وجهان، اصحهما: لا. (عمدة المحتاج:١٤/٣٤)
ہفتہ _24 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم