اللہ کا ذکر اور اس کی فضیلت – 19-07-2019
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
حضرت مولانا سید بلال عبد الحی حسنی صاحب ندوی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0752
اوقات مكروه میں طواف کرنے کا کیا حكم ہے؟
سنن ابی داود کی روایت جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی شخص کو دن یا رات کے کسی بھی وقت طواف سے منع مت کرو جس کو جب چاہیے طواف کی اجازت ہے لھذا نماز کے مکروہ اوقات میں بھی طواف کرنا درست ہے۔
ابن حجر الھیتمی رحمة الله عليه: وأن يطوف سبعا للإتباع فلو شك في العدد أخذ بالأقل كالصلاة… ولايكره في الوقت المنهي عن الصلاة فيه للخبر السابق۔ (تحفة المحتاج :٣٣/٢) شیخ زکریا الانصاری رحمة الله عليه: أن يطوف سبعا، ولو في الأوقات المنهي عن الصلاة فيها۔ (أسني المطالب :٣٤٩/٢)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0751
طواف کے فوراً بعد اگر فجر کی جماعت کھڑی ہوجائے تو کیا فجر کی دو رکعت کے ساتھ صلاة الطواف کی دو رکعت کی نیت کرنا درست ہے؟
طواف کے فوراً بعد اگر فجر کی جماعت کھڑی ہوجائے تو فجر کی فرض دو رکعت کے ساتھ صلاة الطواف کی دو رکعت نماز کی نیت کرنا درست ہے. وأن يصلي بعد الطواف ركعتين ، وأن يقرأ في الأولى (الكأفرون)وفي الثانية (الإخلاص) وأن يجهر حيث يجهر في المكتوبة، ويجزئ الفرض أو الراتبة عنهما. (العباب.كتاب الحج:٤٩٤/١)