وصايا للطلبة والطالبات – 30-08-2019
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0770
شرابی شخص اگر نشہ کی حالت میں اگر کوئی سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب دینے کا کیا حکم ہے؟
نشے کی حالت میں اگر کوئی سلام کرے تو اصح قول کے مطابق شرابی کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے۔ البتہ جواب دینا جائز ہے
اذا سلم مجنون او سكران هل يجب الرد عليهما ؟ فيه وجهان اصحهما انه لا يجب (المجموع: ٥٠٧/٤)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0769
*نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ پڑھنا کیسا ہے؟
*جنازہ کی نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ نہ پڑھنا بہتر ہے اگر کوئی سورہ فاتحہ کے بعد سورہ پڑھے تو نماز پر کوئی اثر نہیں ہوگا البتہ اگرمقتدی کی سورہ فاتحہ امام سے پہلے ختم ہوجائے اور سورہ پڑھنے کا موقع ہو تو خاموش رہنے کے بجائے کوئی مختصر سورہ پڑھنا مسنون ہے۔*
أما قراءة السورة.. فلا تستحب في الأصح بل نقل الإمام فيه الإجماع وقيل: تستحب سورة قصيرة. (النجم الوهاج:٤٥/٣) وينبغي أن المأموم إذا فرغ من الفاتحة قبل امامه تسن له السورة لأنها أولى من وقوفه ساكنا. (إعانة الطالبين:١٩٦/٢) وفي القراءة السورة وجهان: أحدهما: يقرأ سورة قصيرة لأن كل صلاة قرأ فيها الفاتحة قرأ فيها السورة كسائر الصلوات.والثاني: أنه لا يقرأ لأنها مبنية على الحذف والاختصار۔ (المهذب للشيرازى:٢٤٧/١)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0768
سیلاب کی وجہ سے بہت سی جگہوں (کیرلا، آسام و غیرہ) پر بعض قیمتی اشیاء (سونا،چاندی، وغیرہ) ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوگئے ہیں، اب اگر یہ کسی کے ہاتھ لگ جائے تو کیا اس کا حکم لقطہ کی طرح ہوگا؟ اور اس کا مصرف کیا ہوگا؟
ہوا اور سیلاب وغیرہ کی وجہ سے جو اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجائے، تو وہ لقطہ کے حکم میں نہیں ہوگی، اس لیے کہ لقطہ میں مالک سے گرنے یا غفلت کی وجہ سے ضائع ہونا شرط ہے، لھذا ہوا اور سیلاب وغیرہ کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی اشیاء پر مال ضائع کا حکم ہوگا، اور وہ مال لقطہ کے حکم میں نہیں ہوگا، اور مال ضائع کا حکم یہ ہے کہ اس مال کو امام وقت یا حاکم و قاضی کے حوالے کیا جائے گا یا اگر بیت المال کا نظام ہو تو اسی بیت المال میں جمع کیا جائے گا اور ان دونوں کے مفقود ہونے کی صورت میں وہ خود اس مال کی حفاظت کرے گا یہاں تک کہ اس مال کا مالک مل جائے، اور اگر مالک ملنا دشوار ہو تو ان چیزوں کو رفاہی و ملی تنظیموں کے حوالے کیا جائے گا، تاکہ وہ مسلمانوں کے عمومی مصالح پر خرچ کیا جائے۔
قال الإمام النووي رحمه الله يشترط في اللقطة ثلاثة شروط غير ماسبق، أحدها: أن تكون شيئا ضاع من مالكه لسقوط أو غفلة ونحوهما ، فأما إذا ألقت الريح ثوبا في حجره، أو ألقى إليه هارب كيسا ولم يعرف من هو، فهو مال ضائع يحفظ ولايتملك. (روضة الطالبين:٤ / ٤٦٨) قال الإمام جمال الدين الأهدل رحمه الله: وما ألقاه نحو ريح أو هارب لايعرفه بنحو حجره أو داره، مال ضائع لالقطة، أمره للإمام يحفظه أو ثمنه إن رأى بيعه، أو يقترضه لبيت المال إلى ظهور مالكه إن توقعه، وإلا صرفه لمصارف بيت المال، وحيث لاحاكم أو كان جائرا … فعل من هو بيده فيه ذلك كما مر نظيره، ولمن هو بيده تملكه حيث كان له حق في بيت المال، و إلا فليس له ذلك. (عمدة المفتي والمستفتي:١ / ٧٢١)