درس حدیث نمبر 0115
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0063
اگر کسی دوسرے کی مرغی اپنے گھر میں انڈا دے اور ہمیں معلوم نہ ہو کہ مرغی کس کی ہے تو اس انڈے کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔اگر کسی دوسرے کی مرغی اپنے گھر میں انڈا دے اور اس کا مالک معلوم نہ ہو تو اس انڈے کو معمولی لقطہ کے حکم میں مان کراستعمال کرسکتے ہیں اگر بعد میں اس کا مالک معلوم ہوجائے اور وہ اس چیز کی رقم طلب کرے تو اسکے مالک کو اس کی قیمت لوٹانا ضروری ہے۔
—————
علامه عمراني فرماتے ہیں:
وإن وجدها(أي اللقطة) في موضع مباح…. فإن كانت يسيرة بحيث يعلم أن صاحبها لو علم أنها ضاعت منه لم يطلبها كزبيبة أو تمرة وما أشبهها لم تجب تعريفها وله أن ينتفع بها فى الحال ، لما روي أنس رضي الله عنه أن النبي صلي الله عليه وسلم مر بتمرة مطروحة فى الطريق فقال "لولا أني أخشي أن تكون من تمرة الصدقة لأكلتها”(438/7-439)
سورة الانعام– آيت نمبر 161-162-163 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: خاوند اور بیوی کے لئے رہنما اصول
سورة الانعام– آيت نمبر 160-161-162-163 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
سورة الانعام– آيت نمبر 159-160 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)