فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم – 11-11-2016
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: فرقہ آرائی اور گروہ بندی كے نقصانات
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: فرقہ آرائی اور گروہ بندی كے نقصانات
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 019-020(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0282
اگر کوئی شخص عمامہ پہنا ہو اور وہ سر کے کسی حصہ میں مسح کرے تو کیا اس کے سر کا مسح صحیح ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص عمامہ پہنا ہو اور وہ سر کے پچھلے حصہ کا مسح کرے اور عمامہ پر مسح نہ کرے تب بھی سر کے مسح کا فرض ادا ہوجائے گا اس لیے کہ سر کے مسح میں شرط یہ ہے کہ جن بالوں پر وہ مسح کر رہا ہو وہ بال سر کے حدود سے باہر نہ ہو، نہ آگے کی جانب سے سر سے باہر نہ ہو اور نہ پیچھے کی جانب سے بھی سر کے حصہ سے باہر نہ ہو۔ البتہ اگرکوئی بالوں پر مسح کے بغیر صرف عمامہ پر مسح کرے تو فرض ادا نہیں ہوگا۔ جس کی بناء پر وضو درست نہیں ہوگا۔
علامه عمرانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں۔
فان كان علي راْسه عمامة ولَم يرد نزعتها فالمستحب، وان يمسح بناصيته ويتمم المسح على العمامة،لما روي المغيرة بن شعبة: ان النبي صلى الله عليه وسلم مسح بناصيته وعلى عمامته،فان اقتصر على مسح العمامة لم يجزئه (البيان 1/227)
علامہ کردی رحمة الله عليه فرماتے ہیں
الرابع مسح شيء … من شعرة الرأس .. اومن شعرہ …. في يده بحيث لا يخرج الممسوح من الرأس بالمد من جهة نزوله من اَي جانب كان۔(شرح المقدمة الحضرمية على الحواشي المدنية 1/69)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0281
اگر کسی علاقے میں ایک سے زیادہ آذانین ایکے بعد دوسری سنائی دے رہی ہو تو آذان کا جواب دینے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:۔ اگر کسی علاقے میں ایک سے زائد آذان کی آوازیں سنائی دیتی ہو تو آذان کا آواز سننے والے کو چاہیے کہ وہ ہر آذان کا جواب دے، البتہ پہلے سنائی دینے والی آذان کا جواب دینا زیادہ بہتر ہے۔
علامه زکریا انصاری فرماتے ہیں
وان تعتدوا اي المؤذنون وترتبوا في أذانهم اجاب السامع الكل والاول اولى بالاجابة لتاكره لانه يكره تركه۔(اسنی المطالب 1/273)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 015-016-017-018(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سورة الانعام– آيت نمبر 013-014(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0280
اگر کوئی شخص نماز کا وقت شروع ہوجانے کے بعد تنہا نماز پڑھنا چاہتا ہو تو کیا وہ آذان دیے بغیر تنہا نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب:۔ اگر نماز کا وقت شروع ہو چکا ہو اور وہ کسی وجہ سے تنہا نماز پڑھنا چاہتا ہو تو آذان دئیے بغیر بھی تنہا نماز پڑھ سکتا ہے اور اس کی نماز بھی صحیح ہوجائے گی اس لیے کہ آذان کا دینا سنت ہے واجب نہیں ہے۔
مذهبنا المشهور إنهما سنة لكل الصلوات في الحضر والسفر للجماعة والمنفرد ولا يجبان بحال فان تركها صحت صلوة المنفرد والجماعة ۔(المجموع ٩٠/٣)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم