004 – سورة النساء – آیت نمبر – 007
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة المائدة – آيت نمبر 027-028-029-030-031 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0142
اگر میت کو غسل دیتے وقت میت کے بدن سے بال یا کوئی اور عضو الگ ہوجائے تو اس کے بارے میں کیاحکم ہے؟
جواب:۔ اگر میت کو غسل دیتے وقت میت کے بدن سے بال یا کوئی اور عضو الگ ہوجائے تو اس کو پانی بہانے کے بعد کفن میں رکھ کر میت کے ساتھ دفن کیاجائے گا۔
و یستحب تسریح لحیته ورأسه ان کان علیھا شعر بمشط واسع الاسنان . ویکون برفق لئلا ینتتف فان انتتف شئ ردہ بعدغسله الیه و وضعه معہ فی الکفن اکراما لاجزائه (کفایة الاخیار:198)
مولانا عبدالنّور فكردے صاحب ندوی چڈواں سرین نوائطی زبان بتر كیللو بیان
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة المائدة – آيت نمبر 027-028-029-030-031 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: سالِ نو اور ماہِ محرّم كیلئے سنہری تعلیمات
سوال نمبر/ 0285
حج سے واپسی پر لوگ حجاج کی ملاقات کرتے ہیں اور ان سے دعا کی درخواست کرتے ہیں شرعا اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنها فرماتی ہیں کہ ہم مکہ سے حج یا عمرہ کرکے آئےاور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چل رہے تھے. تو انصاری جوانوں نے ہماری ملاقات کی۔ (مستدرک حاکم:1/1796)
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم حاجی سے ملاقات کرو تو اسے سلام کرو اور اس سے مصافحہ کرو اور اسے مغفرت کی دعا کرنے کہو ۔ (مسنداحمد:5371)
مذکورہ دلائل کی بنیاد پر فقہاء نے حجاج کا استقبال کرنا اور ان سے دعا کی درخواست کرنا مستحب لکھا ہے۔
وان یتلقوہ کغیرھم وان یقال له ان کان حاجا. او معتمرا تقبل الله حجك او عمرتك و غفرذنبك واخلف علیك نفقتك . ویندب للحاج الدعاء لغیرہ بالمغفرۃ وان لم یسئاله ولغیرہ سوال الدعاء منه بھا. حاشیة قلیوبی :2/1422)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة المائدة – آيت نمبر 024-025-026 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0286
قبرستان میں ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھافرماتی ہےکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہی تھی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع پہونچے اور بہت دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے رہے،
پھر اپنے ہاتھ کو تین مرتبہ اٹھایا۔ (رواہ مسلم 974)
اس حدیث کی شرح میں امام نووی رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ دعا میں ہاتھ کا اٹھانا مستحب ہے، لھذا جو شخص قبرستان جائے اس کے لیے قبرستان میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا مستحب ہے۔
قال الامام النووی رحمہ اللہ "فیہ استحباب اطالة الدعاء وتكريره ورفع اليدين فيه” (شرح المسلم 37/3)
فرع في استحباب رفع اليدين خارج الصلاة وبيان الجملة من الأحاديث الواردة فيه…. عن عايشة رضي الله عنها في حديثها الطويل في خروج النبي صلي الله عليه وسلم في الليل الي البقيع للدعاء لأهل البقيع والاستغفار لهم قالت، اتي البقيع فقام فأطال القيام ثم رفع يديه ثلاث مرات ۔(المجموع 469/3)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة المائدة – آيت نمبر 020-021-022-023 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)