بدھ _11 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0615
امام کی سلام کے بعد کسی مسبوق شخص کو ہاتھ کے اشارہ سے امام بنا کر اس کی اقتداء نماز پڑھنے کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ کسی بھی مسبوق شخص کو جب وہ اپنی بقیہ نماز ادا کر رہا ہو تو ایسے شخص کی اقتداء میں نماز ادا کرنا درست ہے۔ لیکن اس طرح کرنا مکروہ ہے۔ البتہ مکروہ ہونے کی وجہ سے جماعت کا پورا ثواب بھی نہیں ملے گا۔ اگر دو یا اس سے زیادہ لوگ ہوں تو مسبوق کی اقتداء کے بجائے الگ سے جماعت بناکر نماز ادا کرنا زیادہ بہتر ہے۔
وخرج بمقتد ما لو انقطعت القدوة كأن سلم الإمام فقام مسبوق فاقتدى به آخر أو مسبوقون فاقتدى بعضهم ببعض فتصح في غير الجمعة على الأصح لكن مع الكراهة. نهاية المحتاج: ١٦٨/٢ (قوله لكن مع الكراهة) ظاهر في الصورتين وعليه فلا ثواب فيها من حيث الجماعة حاشية الشبراملسي ١٦٧/٢
بدھ _11 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
منگل _10 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
منگل _10 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: بُری مجلس میں شرکت
منگل _10 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0614
اگر مرض یا سردی کی وجہ سے کوئی شخص تیمم کرکے امامت کرے تو اس کی اقتداء میں وضو کرکے نمازپڑھنے والوں کی نماز درست ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی امام کسی عذر یا مرض کی بناء پر تیمم کرکے ایسے لوگوں کو نماز پڑھانے جو وضو یا تیمم کرکے نماز ادا کر رہے ہیں تو ایسی صورت میں مقتدیوں کی نماز درست ہوجائے گی۔
ويجوز أن يصلي المتوضئ خلف المتيمم. وقال علي بن أبي طالب رضي الله عنه
(إنه لا يجوز ذلك) دليلنا:حديث عمرو بن العاص الذي ذكرناه في (التيمم) (البيان 2/403) قال المصنف رحمة الله عليه: ويجوز للمتوضئ ان يصلى خلف المتيمم لانه اتى عن طهارته ببدل فهو كمن غسل الرجل (المجموع : 263/4)
منگل _10 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة النحل– آيت نمبر 043-044 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
پیر _9 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
پیر _9 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0613
بسا اوقات عین نماز کے وقت اس قدر شدید بارش شروع ہوجاتی ہے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا دشوار ہوجاتا ہے تو کیا ایسی صورت میں جماعت چھوڑنے کی اجازت ہے ؟
جواب:۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے سخت ٹھنڈی اور ہوا کے وقت نماز کے لئے آذان دئی اور کہا کہ اپنے گھروں میں نماز اداء کرو ۔ پھر فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب سخت ٹھنڈی یا ہوا چلے تو کہا کرو کہ آپنے گھروں میں نماز پڑھو۔
(بخاری:666) اس حدیث کی روشنی میں فقہاء فرماتے ہیں کہ دن یا رات میں ایسی سخت بارش ہو یا رات کی تاریکی میں تیز ہوا چل رہی ہو یا شدید کیچڑ ہو کہ جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنا دشوار ہو تو ان اعذار کی بناء پر جماعت کے چھوڑنے کی اجازت ہے۔ البتہ اگر سواری کا معقول نظم ہو جس سے بآسانی جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لئے پہنچنا ممکن ہو تو جماعت ترک نہیں کرنی چاہیے۔
(في حديث عمرو بن العاص) عبارة لما روي عنه أنه قال: احتلمت في ليلة باردة في غزوة ذات السلاسل فأشفقت أي خفت أن أغتسل فأهلك فتيممت وصليت بأصحابي الصبح فذكروا ذلك للنبي – صلى الله عليه وسلم – فقال: «يا عمرو صليت بأصحابك وأنت جنب فأخبرته الذي منعني من الاغتسال وقلت: إني سمعت الله يقول: {ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما} [ النساء: 29] فضحك -صلى الله عليه وسلم- ولم يقل شيئا» . اهـ قال حج، قوله – صلى الله عليه وسلم – لعمرو: صليت صريح في تقريره على إمامته ﻳﺠﻮﺯ ﺗﺮﻙ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻟﻠﻌﺬﺭ، ﺳﻮاء ﻗﻠﻨﺎ: ﺇﻥ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻓﺮﺽ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻔﺎﻳﺔ، ﺃﻭ ﺳﻨﺔ. ﻭاﻟﻌﺬﺭ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ ﺿﺮﺑﺎﻥ: ﻋﺎﻡ، ﻭﺧﺎﺹ. ﻓﺄﻣﺎ اﻟﻌﺎﻡ: ﻓﻤﺜﻞ: اﻟﻤﻄﺮ، ﻭاﻟﺮﻳﺢ ﻓﻲ اﻟﻠﻴﻠﺔ اﻟﻤﻈﻠﻤﺔ (البيان 2/368) ﺃﻥ اﻟﻤﻄﺮ ﻭﺣﺪﻩ ﻋﺬﺭ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﻟﻴﻼ ﺃﻭ ﻧﻬﺎﺭا ﻭﻓﻲ الوﺣﻞ ﻭﺟﻬﺎﻥ (اﻟﺼﺤﻴﺢ) اﻟﺬﻱ ﻗﻄﻊ ﺑﻪ اﻟﻤﺼﻨﻒ ﻭاﻟﺠﻤﻬﻮﺭ ﺃﻧﻪ ﻋﺬﺭ ﻭﺣﺪﻩ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﺑﺎﻟﻠﻴﻞ ﺃﻭ اﻟﻨﻬﺎﺭ (المجموع4/204) ﻗﺎﻝ اﻟﻤﺼﻨﻒ رحمة الله عليه ﻭﺗﺴﻘﻂ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﺑﺎﻟﻌﺬﺭ ﻭﻫﻮ ﺃﺷﻴﺎء ﻣﻨﻬﺎ اﻟﻤﻄﺮ ﻭالوﺣﻞ ﻭاﻟﺮﻳﺢ اﻟﺸﺪﻳﺪﺓ ﻓﻲ اﻟﻠﻴﻠﺔ اﻟﻤﻈﻠﻤﺔ ﻭاﻟﺪﻟﻴﻞ ﻋﻠﻴﻪ ﻣﺎ ﺭﻭﻯ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ ﻗﺎﻝ ” ﻛﻨﺎ ﺇﺫا ﻛﻨﺎ ﻣﻊ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻲ ﺳﻔﺮ ﻭﻛﺎﻧﺖ ﻟﻴﻠﺔ ﻣﻈﻠﻤﺔ ﺃﻭ ﻣﻄﻴﺮﺓ ﻧﺎﺩﻯ ﻣﻨﺎﺩﻳﻪ اﻥ ﺻﻠﻮا ﻓﻲ ﺭﺣﺎﻟﻜﻢ۔ (المجموع 4/203)
اتوار _8 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _8 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0612
*کسی حائضہ اور جنبی شخص کے لئے قرآن مجید پڑھے بغیر صرف اسے دیکھنے اور اس میں غور و فکرکرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟*
*کسی حائضہ اور جنبی شخص کے لئے قرآن مجید کی تلاوت کے بغیر صرف قرآن کو دیکھنا اور اس کے معنی میں تدبر کرنا شرعا درست ہے۔ اسی طرح حائضہ اور جنوبی شخص کے سامنے کسی دوسرے کا قرآن مجید کی تلاوت کرنا بھی درست ہے۔*
*ﻭﻫﻜﺬا ﻟﻮ ﻧﻈﺮا ﻓﻲ اﻟﻤﺼﺤﻒ ﺃﻭ ﻗﺮﺉ ﻋﻠﻴﻬﻤﺎ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻛﺎﻥ ﺟﺎﺋﺰا ﻟﻬﻤﺎ "* (الماوردي في الحاوي الكبير : 149/1) *ﻭﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﻨﻈﺮ ﻓﻲ اﻟﻤﺼﺤﻒ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺗﻼﻭﺓ، ﻭﺃﻥ ﻳﻘﺮﺃ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻫﻮ ﺳﺎﻛﺖ؛ ﻷﻧﻪ ﻓﻲ ﻫﺬﻩ اﻟﺤﺎﻟﺔ ﻻ ﻳﻨﺴﺐ ﺇﻟﻰ اﻟﻘﺮاءﺓ.* (الفقه الاسلامي وادلته للزحيلي 1/539)