بدعت كیا ہے؟
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
فضيلة الشيخ عبدالمحسن القاسم
فضیلة الشیخ بندر بن عبدالعزیز بلیلة
سورة النساء – آيت نمبر -066-067-068-069-070 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
فضيلة الشيخ عبدالله عواد الجهني
سورة النساء – آيت نمبر -065-066 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: رمضان كیسے گذاریں؟
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبدالرحمن بن عبدالعزيز السديس
سوال نمبر/ 0240
اگر کسی کی نصاب کے بقدر یا اس سے کم رقم کسی شخص کے ذمہ قرض ہو تو کیا اس رقم کی بھی زکات نکالنا ضروری ہے؟
جواب:۔اگر کسی کی رقم دوسرے کے ذمہ بطور قرض واجب الادا ہے تو مالک رقم پر اس کی زکات واجب ہوتی ہے. البتہ جس قرض کی واپسی کا وقت ہوا ہو اور واپسی ممکن بھی ہو تو فی الحال تواس کی زکاۃ نکالنا واجب ہے. چاہے وہ واپس نہ لے. کیونکہ وہ واپس لینے پر قادر ہے تو گویا کہ اسی کے ہاتھ میں ہے.اگر قرض کی ادائیگی کا وقت نہ ہوا ہو یا ہوگیا ہو لیکن فی الحال وصول کرنا ممکن نہ ہو یا قرض لینے والا انکار کررہا ہو تو آئندہ جب بھی قرض وصول ہو یعنی قبضہ اور حصول کے بعد گذشتہ سالوں کے ساتھ آئندہ سال گذرنے پر اس سالوں کی زکات واجب ہوگی ۔(روضۃ الطالبین 2/194)