فقہ شافعی سوال نمبر/ 0606 اگر روزہ افطار کرنے کا وقت ہوجائے لیکن روزہ دار کے پاس افطاری کے لیے کوئی چیز نہ ہو تو ایسے شخص کے روزے کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسے شخص کے لیے روزہ افطاری کی نیت کرنا کافی ہے ؟
جواب:۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات یہاں سے آئے اور دن یہاں سے جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار نے افطار کر لیا. (1) مذکورہ حدیث کی بناء پر فقہاء کرام نے استدلال کیا کہ فجر ثانی کے ذریعے آدمی روزے میں داخل ہوتا ہے اور غروب آفتاب کے ذریعے روزے سے نکلتا ہے لہذا اگر روزہ دار کے پاس افطار کے لیے کوئی بھی چیز نہ ہو تو ٹھیک غروب سے اس کا روزہ افطار ہوجائے گا نیت کرنا ضروری نہیں ہے.
أما) أحكام الفصل ففيه مسائل (إحداها) ينقضي الصوم ويتم بغروب الشمس بإجماع المسلمين لهذين الحديثين وسبق بيان حقيقة غروبها في باب مواقيت الصلاة قال أصحابنا ويجب إمساك جزء من الليل بعد الغروب ليتحقق به استكمال النهار وقد ذكر المصنف هذا في كتاب الطهارة في مسألة القلتين . (2) ﻭﻳﺪﺧﻞ ﻓﻲ اﻟﺼﻮﻡ ﺑﻄﻠﻮﻉ اﻟﻔﺠﺮ اﻟﺜﺎﻧﻲ، ﻭﻳﺨﺮﺝ ﻣﻨﻪ ﺑﻐﺮﻭﺏ اﻟﺸﻤﺲ. (3) (1)السنن الصغير للبيهقي :1321 (2)المجموع 304/6
Fiqhe Shafi Question No/0606 If the time for breaking the fast approaches but the fasting person does not have anything with which he can break his fast, then what is the ruling with regard to the fast of this person? is it enough for such a person to only make the intention of breaking the fast?
Ans: Hazrat Umar Razi Allahu anhu narrates that the prophet Sallallahu Alaihi Wasallam said that when the night comes from this side and the day goes from that side and when the sun sets then a fasting person breaks his fast. Based on this hadith the Scholars of fiqh have reasoned that through the morning daybreak a person enters his fast and through the setting of the sun a person comes out of his past. Therefore, if a person does not have anything with which he can break his fast then exactly after the sun sets his fast will break and making the intention is not necessary.
اگر کسی شخص کا صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو اس ارادے کی وجہ سے ایسے شخص کو اس دن کا روزہ نہ رکھنا جائز ہے ؟
جواب :اللہ رب العزت کاارشادہے: فمن شھدمنکم الشھر فلیصمه (البقرہ:158)
اس آیت کے ضمن میں امام رازی فرماتےہیں. روزہ اس شخص پر فرض ہے جو روزہ کے وقت مقیم ہو مسافرنہ ہو . (احکام القرآن 1/256)
لہذا جو روزہ کی ابتداء کے وقت مقیم ہوگا اس پر روزہ رکھنا فرض ہوگا. اگر صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو اس ارادہ سفر کی بناء پر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ، اس لیے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنے کے جواز کے لیے یہ شرط ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے ہی اپنے گاوں کی ابادی چھوڑدے، اس لیے اگر کسی کا صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو روزہ رکھے پھر دوران سفر روزہ مشکل معلوم ہوتو روزہ توڑ دے اور بعد میں قضاء کرلے ۔
قال الإمام إبن حجر الهيتمي رحمه الله:
أنَّ شَرْطَ الفِطْرِ فِي أوَّلِ أيّامِ سَفَرِهِ أنْ يُفارِقَ ما تُشْتَرَطُ مُجاوَزَتُهُ لِلْقَصْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الفَجْرِ وإلّا لَمْ يُفْطِرْ ذَلِكَ اليَوْمَ…وإنْ أصْبَحَ صائِمًا ثُمَّ (سافَرَ فَلا) يُفْطِرُ بِعُذْرِ السَّفَرِ بِخِلافِ ما إذا غَلَبَهُ الجُوعُ أوْ العَطَشُ كَما هُوَ ظاهِرٌ.تَغْلِيبًا لِلْحَضَرِ؛(١)
_____________
(١)تحفة المحتاج (٥٢٢,٥٢٣/١)
(٢) كتاب الأم (٢٥٦/٣)
Fiqhe Shafi Question No/0170 If a person has the intention of travelling after sunrise then is it allowed for this person to leave his fast?
Ans: with reference to Surah Baqarah verse number 158, in connection with this verse Imam Razi says that fasting is compulsory on that person who is stationed and not a traveller. Therefore that person who is stationed at the time of fast on him fasting is compulsory. If a person has the intention of travelling after sunrise then based on his intention of travelling he can leave that fast but the condition for this is that before sunrise the person must leave his place and go. That is why if a person has the intention of travelling after sunrise then he must keep the fast after which if he finds the fast becoming difficult during travelling then he can break his fast and he must keep the qaza fast later on.
اگر کوئی شخص دائم المرض (یعنی ہمیشہ کا بیمار) ہونے کی وجہ سے پورا مہینہ روزہ نہ رکھ سکا تو مکمل مہینہ کا ایک ساتھ اپنے روزہ کا فدیہ اداکرے گا یا روزانہ ہر روزہ کا ادا کرنا چاہیے ؟
جواب : دائم المرض یعنی ہمیشہ کا بیمار شخص پورے مہینہ کا فدیہ چاہے تو مہینہ مکمل ہونے کے بعد ایک ساتھ یا روزانہ کا فدیہ روزانہ بھی ادا کرسکتا ہے ایسے شخص کو دونوں باتوں کا اختیار ہے یاد رہے ہر روزہ کے بدلہ ایک مد چاول تقریباً چھ سو گرام فدیہ (اس شہر کا اناج )چاول یا گہیوں کا حساب لگائے گا (حوالہ الفتاوی الکبری لابن حجر 74/1)