006 – سورة الانعام – آیت نمبر – 103
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الحجر– آيت نمبر 01-02-03-04-05 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال:نمبر/ 0172
روزے کی حالت میں انجکشن، گل کوز اور خون چڑھانا کیسا ہے؟
جواب :۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضي الله عنهما فرماتے ہیں”الصوم (الفطر) مما دخل وليس مما خرج”
روزہ کسی بھی چیز کے داخل ہونے سے ٹوٹ جاتا ہے نہ کہ کسی چیز کے نکلنے سے (بخاري 312)
فقہاء نے یہ اصول بنایا ہے کہ جسم کے کسی سوراخ سے کسی چیز کے اندر چلےجا نے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے. لہذا جب کوئی چیز پیٹ میں چلی جائے لیکن وہ جسم کے سوراخوں کے علاوہ کسی اور طریقہ سے داخل ہوگئی ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ اسی طرح اگر کوئی چیز جسم کے سوراخ سے داخل ہو لیکن وہ پیٹ کے اندر نہ چلی جائے تو اس سے بھی روزہ باطل نہیں ہوگا.
اس سے پتا چلا کہ رگوں سے کسی چیز کا اندر جانا نقصان دہ نہیں ہے اس لیے روزہ کی حالت میں انجکشن گل کوز اور خون چڑھانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ ان چیزوں کو جسم میں داخل کرنے کے لیے جسم کی کسی رگ کو ہی استعمال کیا جاتا ہے البتہ ان چیزوں کا استعمال سخت ضرورت کے موقع پر ہی کرنا چاہیے خصوصا ایسے انجکشن اور گل کوز جو غذائیت کا کام دیتے ہوں اور جن سے روزے دار کو طاقت اور راحت حاصل ہوتی ہو ان سے اجتناب کرنا بہتر ہے کیونکہ بعض حضرات اس طرح کے انجکشن و گل کوز کے استعمال سے روزہ ٹوٹنے کا حکم لگایا ہے
قال الإمام ابن حجر الهيتمي:
وشَرْطُ الواصِلِ كَوْنُهُ فِي مَنفَذٍمَفْتُوحٍ فَلا يَضُرُّ وُصُولُ الدُّهْنِ بِتَشَرُّبِ المَسامِّ…… وإنْ وُجِدَ أثَرُهُ بِباطِنِهِ كَما لَوْ وُجِدَ أثَرُ ما اغْتَسَلَ بِهِ .
[تحفة المحتاج (٥١٢/١)]
Fiqhe Shafi Question No/0172
How about taking injections, dripping glucose or blood in state of fasting?
Ans; Hazrat Abdullah bin Abbas R.A said The Fast invalidates by getting something into the body and not by emitting anything out of the body..(Sahih bukhari 312) The jurists (fuqaha)bases their opinion by this hadeeth that anything that enters to the body through any of the holes will invalidate the fast.. Therefore if anything get into the stomach through other means instead of entering any of the holes then the fast doesnot invalidates..
Similarly if anything enters through any holes of the body but doesnot reach the stomach then fast will not invalidate (Tohfatul Mohtaj 512/1) By this we came to know that anything that enters the body through veins is not harmful so the fast doesnot invalidates taking injections or dripping glucose or blood doesnot invalidate the fast because veins are the means for introducing these things to the body.. Therefore one may carryout this process only in case of extreme need..Mainly these injections and glucose serves as nutrition and strengthens the body in state of fasting so it is better to refrain from it because according to some people taking injection and dripping glucose invalidates the fast…
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
استقبال رمضان کی مناسبت سے شعبہ تبلیغ جماعت المسلمین بھٹکل کے منعقدہ جلسے میں کیا ہوا بیان
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0447
آج کل چاندی کی قیمت سونے کے مقابلہ میں بالکل کم ہے اور بہت سے لوگوں کے پاس چاندی کے نصاب کے بقدر مال موجود رہتا ہے لیکن یہ لوگ سونے کے نصاب کے انتظار میں زکات نہیں نکالتے۔ کیا شرعا ان کا اس طرح کرنا درست ہے؟
جواب:۔ زکات میں سونے کا نصاب 87 گرام اور 480 ملی گرام ہے یعنی ساڑے سات تولہ اور چاندی کا نصاب 612 گرام اور 360 ملی گرام ہوتا ہے۔ اگر دور نبوی و دور صحابہ کا جائزہ لیا جائے تو ان کی قیمت میں کوئی فرق نہیں تھا لیکن دور حاضر میں بہت زیادہ قرق پایا جاتا ہے اکثر فقہاء نے فقراء کے فائدہ کے اعتبار سے چاندی کے نصاب کو ترجیح دی ہے جبکہ بعض نے سونے کے نصاب کو راجح قرار دیا ہے۔ چونکہ سونے چاندی کا نصاب مقرر ہے اسلئے بہتر یہ ہے کہ جس کہ پاس چاندی کے نصاب کے بقدر مال ہو اسے زكات نکالنی چاہیے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائے سونے کے نصاب کا انتظار نہ کرے۔
قال أصحاب فقه المنهجى: ﻭﻳﺒﺪﻭ ﻣﻦ اﻟﺘﺤﻘﻴﻖ اﻟﺘﺎﺭﻳﺨﻲ ﺃﻥ ﻗﻴﻤﺔ ﻣﺎﺋﺘﻲ ﺩﺭﻫﻢ ﻣﻦ اﻟﻔﻀﺔ ﻛﺎﻧﺖ ﺗﺴﺎﻭﻱ ﻓﻲ ﺻﺪﺭ اﻹﺳﻼﻡ ﻋﺸﺮﻳﻦ ﻣﺜﻘﺎﻻ ﻣﻦ اﻟﺬﻫﺐ، ﻭﻋﻠﻰ ﻫﺬا اﻷﺳﺎﺱ ﻛﺎﻥ ﻛﻞ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﻧﺼﺎﺑﺎ ﻟﻮﺟﻮﺏ اﻟﺰﻛﺎﺓ. ﺛﻢ ﺇﻥ اﻟﺘﻔﺎﻭﺕ ﻃﺮﺃ ﻋﻠﻰ ﻗﻴﻤﺘﻬﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺑﻌﺪ، ﺑﺴﺒﺐ اﺧﺘﻼﻑ ﻗﻴﻤﺔ اﻟﺬﻫﺐ،… .ﻭاﻻﺣﺘﻴﺎﻁ ﻓﻲ اﻟﺪﻳﻦ ﺃﻥ ﻳﺄﺧﺬ ﺑﻤﺎ ﻫﻮ ﺃﺻﻠﺢ ﻟﻠﻔﻘﻴﺮ، ﻭﻳﻘﺪﺭﻫﺎ ﺑﺎﻷﻗﻞ ﻗﻴﻤﺔ، ﺣﺘﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻋﻠﻰ ﻳﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺑﺮاءﺓ ﺫﻣﺘﻪ ﻋﻨﺪ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ، ﻓﺈﺫا ﻛﺎﻥ ﺗﻘﺪﻳﺮﻫﺎ ﺑﺎﻟﻔﻀﺔ ﻳﺠﻌﻞ اﻟﻨﺼﺎﺏ ﺃﻗﻞ ﻣﻦ ﺗﻘﺪﻳﺮﻫﺎ ﺑﺎﻟﺬﻫﺐ ﻗﺪﺭﻫﺎ ﺑﻬﺎ، ﺣﺘﻰ ﺗﺠﺐ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻭﻳﺆﺩﻳﻬﺎ. فقه المنهجى:1/291 موسوعة الفقه الاسلامى:2/681
Fiqhe Shafi Question No/0447
These days the price of silver is comparatively very less than the price of gold and most people posses wealth as much as threshold but they do not give zakah until the price reaches to the price of gold.. Is it acceptable in shariah to do so?
Ans; The minimum amount required to pay zakah on gold is 87. grams and 480 mili grams 7.5 Tola and silver is 612 grams and 360 mili grams … On looking upon era of The Prophet and the era of his companions, there wasn’t any difference between their prices but it makes alot of difference in present days.. Most of the jurists(fuqaha) gave preference to the nisab of silver so as to benefit the poor while some gave preference to the nisab of gold..While on the contrary, the threshold of gold and silver is fixed so it is better that whoever has wealth as much as the threshold of silver then he must give zakah so as to get free from his responsibility… One must not wait until the price reaches the nisab of gold..
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة ابراهيم – آيت نمبر 48-49-50-51-52 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)