درس حدیث نمبر 0237
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة ابراهيم – آيت نمبر 48-49-50-51-52 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0444
اگر کوئی شخص اپنے پورے مال کو صدقہ کرے اور اس سے زکات کی نیت نہ کرے تو اس سے زکات ساقط ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص اپنے پورے مال کو صدقہ کرے اور اس سے زکات کی نیت نہ کرے تو اس سے زکات ساقط نہیں ہوگی بلکہ زکات کی نیت کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔
علامہ عمراني رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ﻭﺇﻥ ﺗﺼﺪﻕ ﺑﺠﻤﻴﻊ ﻣﺎﻟﻪ، ﻭﻟﻢ ﻳﻨﻮ ﺑﺸﻲء ﻣﻨﻪ اﻟﺰﻛﺎﺓ.. ﻟﻢ ﻳﺠﺰﺋﻪ ﻋﻦ اﻟﺰﻛﺎﺓ۔ (البيان:3/415) *المجموع:6/185 *روضة الطالبين:2/76
Fiqhe Shafi Question No/0444
If anyone gives all his wealth as sadqa and doesn’t make the niyyah of zakah then does the zakah get dropped for him?
Ans; If anyone gives all his wealth as sadqa and doesn’t make the niyyah of zakah from it then the zakah doesnot get dropped for him rather it is necessary to give with the niyyah of zakah..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0604
اگر ہم زکات کی نیت سے کسی کو پیسے دے اور ضرورت مند کو اس بات کا علم نہ ہو کہ یہ زکات کے پیسے ہے اس سے زکات ادا ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔عام حالت میں پوشیدہ طور پر صدقہ دینا افضل ہے، اسلئے کہ اس میں ریاء نہیں ہوتا البتہ اگر علانیہ صدقہ دینے میں کوئی دینی مصلحت ہو مثلا لوگ بھی اس کی اقتدا کرینگے تو پھر علانیہ صدقہ دینا افضل ہوگا، البتہ زکات کی رقم دیتے وقت زکات لینے والے کو بتانا ضروری نہیں ہے۔
إذا دفع المالك أو غيره الزكاة إلى المستحق ولم يقل هي زكاة ولا تكلم بشئ أصلا أجزأه ووقع زكاة هذا هو المذهب الصحيح المشهور الذي قطع به الجمهور۔ (المجموع :٦ ٢٢٣) (التهذيب : ٣/٦٣) (روضة الطالبين٢/ ٢٠٧)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0442
اگرکوئی تاجر مال تجارت کی زکاۃ رقم کے بجاے اشیاء تجارت سے نکالتاہے تواس کی گنجائش ہے یانہیں؟
جواب:۔ امام شافعی رحمة الله عليه قول جدید کے مطابق (راجح مسلک) مال تجارت کی زکاة رقم (قيمت) سے ادا کی جائی گی، نہ کہ اشیاء تجارت سے، اس لئے کہ اشیاء تجارت سے ادا کرنا جائز نہیں ہے.
امام شافعي رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
وإذا اشترى العرض بنقد تجب فيه الزكاة، أو عرض تجب في قيمته الزكاة، حسب ما أقام المال في يده. (الأم:١٢٣\٣)
امام رافعي رحمك الله عليه فرماتے ہیں:
قال الغزالي:(وأما المخرج) فهو ربع عشر القيمة من النقد……………قال الرافعي:…….قطع في الجديد:بأنها تخرج من القيمة، ولا يجوز أن تخرج من عين ما في يده. (فتح العزيز:١١٥\٣-دار الكتب العلمية)
امام شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں: (وواجبها)أي التجارة(ربع عشر القيمة)… وأما كونه من القيمة فعو الجديد لأن القيمة متعلق هذه الزكاة، فلا يجوز الإخراج من عين العرض.(مغني المحتاج:٥٣٧\١-دار الكتب العلمية)
Fiqhe Shafi Question No/0442
Is it permissible to give business goods as zakah of merchandise instead of giving money?
Ans; According to the new description of Imaam Shafi rehmatullah alaihi(Rajeh mislik)one must give zakah in amount and not by business goods because it is not permissible..
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0603
اگر صاحب نصاب کا کسی دوسرے کے ذمہ قرض ہوتو زکات ادا کرتے وقت اس قرض کی بھی زکات ادا کرنا ضروری ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی صاحب نصاب کا کسی دوسرے کے ذمہ قرض ہو تو زکات ادا کرتے وقت اس شخص کو اپنے قرض شدہ مال کی بھی زکات نکالنا واجب ہے۔ یعنی جو رقم بطور قرض کسی کو دیا ہو تو سال پورا ہونے پر اس قرض دیے ہوئے رقم کی زکات نکالی جائے گی۔
(فرع تجب الزكاة في كل دين لازم) ولو مؤجلا (لا ماشية) لامتناع سوم ما في الذمة۔ (أسنى المطالب:١٢١/٢) تجب الزكاة في كل دين اللازم من فقد وعرض تجارة يعتاض عنه۔ (العباب : ٣٧٦/٢) * الحاوي الكبير:١٧٦/٣
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة ابراهيم – آيت نمبر 44-45-46-47 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)