بدھ _4 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0590
عورت رکعت میں ہاتھ کہاں باندھے گی سینے پر یا ناف کے اوپر؟
جواب:۔ عورت مرد کی طرح ہی نماز میں کھڑے ہوتے وقت داہنے ہاتھ کو بائیں پر اس طرح کہ سینے سے نیچے اور ناف کے اوپر باندھے گی اور فقہائے کرام نے نماز میں ہاتھ باندھنے کے سلسلے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں لکھا ہے، لھذا مذکورہ طریقہ کے مطابق عورت رکعت باندھے گی واضح رہے کہ عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا جو مشہور ہے وہ احناف کے مسلک مطابق ہے۔
واستحب وضع اليمنى علي اليسرى بعد تكبيرة الإحرام ويجعلهما تحت صدره فوق سرته هذا مذهبنا المشهور. (شرح صحيح مسلم ٢/٨٧) فاذا فرغ من التكبير … ويضعهما تحت صدره ، وفوق سرته . (البيان: ٢/١٧٣)
بدھ _4 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
بدھ _4 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة ابراهيم – آيت نمبر 01-02-03-04 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
منگل _3 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0187
اگر کسی ننگے شخص کو نماز کے دوران کپڑا مل جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص کپڑا نہ ہونے کی بنا پر ننگے ہونے کی حالت میں نماز شروع کی پھر اسے ستر چھپانے کے بقدر کپڑا مل جائے تو اس کی نماز فاسد ہوگی اب کپڑا پہن کر دوبارہ نماز پڑھے (درمختار 2/362)
منگل _3 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
منگل _3 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
منگل _3 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0589
اگر کوئی شخص غلطی سے یا نہ جانتے ہوئے سجدہ سہو دو سجدے کے بجائے تین مرتبہ سجدہ کرے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ سجدہ سہو کے دو سجدے کرنا سنت ہے چاہے کتنے مرتبہ بھی سہو ہوجائے۔ لہذا اگر کوئی سہوا یا جہلا سجدہ سہو دو کے بجائے تین سجدے کرے تو اس کے لئے دوبارہ سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں لہٰذا اس صورت میں اس کی نماز بغیر سجدہ سہو کے ہو جائے گی۔
سُجُودُ السَّهْوِ سُنَّةٌ عِنْدَ تَرْكِ مَامُورٍ بِهِ، أَوْ فِعْلِ مَنْهِيٍّ عَنْهُ…..وَسُجُودُ السَّهْوِ وَإِنْ كَثُرَ سَجْدَتَانِ كَسُجُودِ الصَّلاَةِ. (إعانة الطالبين ٣١٢/١) وصورة جبره لما يحصل فيه من السهو أن يسجد له ثم يتكلم فيه بكلام قليل ناسيا فلا يسجد ثانيا لأنه لا يأمن من وقوع مثل ذلك في السجود الثاني، وهكذا فيتسلسل. وكذلك لو سجد ثلاث سجدات ناسيا فلا يسجد ثانيا للتعليل المذكور. (النجم الوهاج ٢٤٨/٢-٢٦٤)
منگل _3 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0189
آج کل بعض جگہوں پر بکرے کے کپورے،اور اس کی شرمگاہ کے کھانے کا رواج ہوگیا ہے، لوگ اسے خریدتے ہیں اور کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے تو کیا ان چیزوں کا کھانا جائز ہے؟
جواب:۔ فقہائے احناف نے قرآن و حدیث پر غور کرکے اور شریعت کے مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے جانور کے سات اعضاء کو کھانا حرام لکھا ہے، بہنے والا خون، جانور کی شرمگاہ چاہے جانور مذکر ہو یا مونث، اور ان کے خصئے (کپورے)، غدود، پِتہ۔ مثانہ۔
اس لئے جانور کی شرمگاہ یا اس کے عضو خاص یا کپوروں کا کھانا جائز نہیں ہے، اس سے بچنا واجب و لازم ہے، ہاں اگر کوئی شخص ایسا بیمار ہو یا ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس میں اس سے ہی فائدہ ہوسکتا ہے تو ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے بقدرِ ضرورت استعمال جائز ہوگا۔
وأما مایحرم أكله من أجزاء الحيوان سبعة، الدم المسفوح، والذكر، والانثيان، والقبل، والغدة، والمرارة، (فتاوى عالگیری 110/4) الاضطرار يبيح المحظورات (الاشباه و النظائر لإبن نجيم المصري) إذا ضاق الأمر اتسع (الاشباه و النظائر لإبن نجيم المصري)
منگل _3 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
منگل _3 _اپریل _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة رعد – آيت نمبر 40-41-42-43 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)