012 – سورة يوسف
011 – سورة هود
010 – سورة يونس
009 – سورة التوبة
008 – سورة الأنفال
007 – سورة الأعراف
006 – سورة الأنعام
005 – سورة المائدة
004 – سورة النساء
003 – سورة آل عمران
002 – سورة البقرة
001 – سورة الفاتحة
فقہ شافعی سوال نمبر – 0340
سوال نمبر/ 0340
اگر کوئی شخص مرتے وقت یہ وصیت کرے کہ اپنے اعضاء مثلاً دل یا آنکھ کو دوسروں کو دے جس سے دوسرے کو فائدہ ہو کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے ؟
جواب: اگر کسی شخص نے یہ ہدایت کی کہ اس کے اعضاء پیوند کاری کے لیے استعمال کئے جائیں جسے عرف عام میں وصیت کہا جاتا ہے،مگر شریعت میں اسے اصلاحی طور پر وصیت نہیں کہا جاسکتا اور ایسی وصیت اور خواہش شرعا قابل اعتبار نہیں۔
البتہ اگر کوئی مریض ایسی حالت کو پہنچ جائے کہ اس کا کوئی عضو اس طرح بیکار ہوکر رہ گیا ہو کہ اگر اس عضو کی جگہ دوسرا متبادل اس کمی کو پورا نہیں کرسکتا اور عضو انسانی کی پیوندکاری کی صورت میں ماہر اطباء کو غالب گمان ہو کہ اس کی جان بچ جائے گی اور متبادل عضو انسانی اس مریض کے لیے فراہم ہو تو ایسی مجبوری اور بے کسی کے عالم میں عضو انسانی کی پیوندکاری کراکر اپنی جان بچانے کی تدبیر کرنا مریض کے لیے مباح ہوگا
فقہ شافعی سوال نمبر – 0339
سوال نمبر/ 0339
امام صاحب کو احتلام ہوا تھا لیکن انہیں خبر نہیں ہوئ اور اسی حالت میں صبح کی نماز پڑھائ پھر دن نکلنے کے بعد انہیں اس کا علم ہوا تو ایسی صورت میں جو لوگ نمازمیں شریک تھے انکی نماز ہوئ یا نہیِں؟
جواب: حضرت براء بن عازب رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امام جنبی تھا لیکن وہ بھول گیا اور نماز پڑھائ تو مقتدیوں کی نماز ہو جائیگی,پھر امام غسل کر کے اپنی نماز کو لو ٹاۓ (سنن الدارالقطنی ١٣٥٢)
مذکورہ حدیث شریف کی روشنی میں فقہاء کرام نے یہ بات تحریر فرمائ کہ اگر کوئ شخص کسی امام کے پیچھے نماز پڑھے بعد میں معلوم ہوا کہ امام صاحب جنبی تھے یا بے وضو تھے تو ایسی صورت میں جو لوگ نماز میں شریک تھے ان کی نماز ہو جائیگی البتہ امام صاحب کی نماز نہیں ہوگی اگر نماز میں داخل ہونے سے پہلے مقتدی کو اسکا علم ہو کہ امام صاحب جنبی تھے یا بے وضو تھے تو ایسی صورت میں مقتدی اور امام دونوں کی نماز نہیں ہوگی دوبارہ پڑھنا ضروری ہوگا, جیسا کہ فقہاء کی عبارت سے معلوم ہوتا ہیں,
قال الإمام الشافعي رحمه الله:
فَمَن صَلّى خَلْفَ رَجُلٍ، ثُمَّ عَلِمَ أنَّ إمامَهُ كانَ جُنُبًا، أوْ عَلى غَيْرِ وُضُوءٍ وإنْ كانَتْ امْرَأةٌ أمَّتْ نِساءً، ثُمَّ عَلِمْنَ أنَّها كانَتْ حائِضًا أجْزَأتْ المَأْمُومِينَ مِن الرِّجالِ والنِّساءِ صَلاتُهُمْ وأعادَ الإمامُ صَلاتَهُ.
ولَوْ عَلِمَ المَأْمُومُونَ مِن قَبْلِ أنْ يَدْخُلُوا فِي صَلاتِهِ أنَّهُ عَلى غَيْرِ وُضُوءٍ، ثُمَّ صَلَّوْا مَعَهُ لَمْ تَجْزِهِمْ صَلاتُهُمْ؛[الأم (٣٢٩/٢)]