اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0338
اگر کسی کو خواب میں احتلام ہونے لگے اور اچانک آنکھ کهل جائے اور وہ کسی طرح اسے روکنے میں کامیاب ہو جائے. (جیسے اپنے ہاتھ وغیرہ سےعضو کے کس کر پکڑے)
مطلب اسے منی نکلنے کی لزت تو محسوس ہو. لیکن اس کے روکنے کی وجہ سے ذرا بهی منی نہ نکلے یابغیرتلذذ کے کچھ قطرات نکل جائیں تو کیا اس پر غسل واجب ہوگا؟
جواب: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہےکہ ایک شخص کے بارے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ خواب میں احتلام ہونے کو دیکھا لیکن صبح میں تری نہیں پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر غسل واجب نہیں ہوگا . ١
📕فقہائے کرام نے مذکورہ حدیث کی روشنی سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا اگر کسی شخص نے خواب میں دیکھا کہ اس کو احتلام ہو رہا ہے لیکن جب نیند سے بیدار ہوا تو کپڑے پر منی کا کچھ اثر نظر نہیں آیا تو اس صورت میں غسل واجب نہیں ہوگا،لیکن کسی کومنی کے نکلنے کااحساس ہوااوراس نے منی کے نکلنے کوکسی طرح روک لیالیکن کچھ وقفہ بعد بغیر کسی لذت کے کچھ قطرات یاچکنامادہ نکل جائے جومنی کی صفات کے مطابق ہوتوغسل واجب ہوگا .
📌📖وإن احتلم، ولم يجد البلل، أو شك: هل خرج منه المني؟ لم يجب عليه الاغتسال؛ لما ذكرناه من الخبر.
وإن رأى المني على فراش، أو ثوب يبتذله هو، وغيره، لم يجب عليه الغسل؛ لجواز أن يكون من غيره، والمستحب له: أن يغتسل؛ لجواز أن يكون منه.
وإن تحقق أن المني خرج منه في النوم، ولم يعلم متى خرج منه وجب عليه أن يغتسل، ووجب عليه أن يعيد كل صلاة صلاها بعد أقرب نومة نامها. ويستحب له أن يعيد ما صلى من الوقت الذي تيقن أنه حدث بعده.
قال في «المذهب»: وإن تقدمت منه رؤيا فنسيها، ثم ذكرها عند وجود المني فعليه إعادة ما صلى بعد ذلك؛ لأن معه علامة ودليلا.(٢)
📚📚المراجع📚📚
١.(سنن ترمذی :٣١)
٢.البيان ١/٣٤٧,٣٤٦
★ الحاوي الكبير ١/٢١٣
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0337
کسی کافرکی موت پراناللہ کہنے کا کیاحکم ہے؟
جواب: اللہ تعالی کاارشاد ہےالذین اذااصابتھم مصیبۃ قالوا اناللہ واناالیہ راجعون (البقرہ:156)
کہ مسلمانو ں کوتکلیف لاحق ہوتی ہے تووہ اناللہ پڑھتے ہیں.نیزحضرت ام سلمہ رض فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کوجب کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے تووہی کہتا ہے جس کاحکم اللہ نے دیا ہے یعنی اناللہ کہتا ہے (مسلم:2126)
مذکورہ دلائل سے یہ بات واضح ہے کہ اناللہ کسی مسلمان کوتکلیف پہنچنے پرپڑھنا مشروع ہے،چوں کہ کافرکی موت کسی مسلمان کے لئے تکلیف کاسبب نہیں ہے،اس لئے جمہور علماء نے کافرکی موت پراناللہ پڑھنا کاتذکرہ نہیں کیا ہے. البتہ کافرکی موت پرہمدردی اوربھائی چارگی کااظہار کرنانیزاس سے عبرت حاصل کرناجائز ہے،اس لئے کہ حدیث پاک میں موت کوڈرانے والی چیز قرار دیا ہے (مسلم:960)
اور حضرت جابررض فرماتے ہیں کہ ایک یہودی کے جنازہ کے گذرتے وقت کھڑے ہوگیے توآپ سے کہا گیا کہ یہ یہودی کاجنازہ ہے توآپ نے فرمایا کہ کیا یہ انسان نہیں ہے.(بخاری:1312)
ان دلائل کی روشنی میں کافرکی موت کو باعث عبرت سمجھنااوربھائی چارگی کاثبوت پیش کرنا درست ہے..
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال:نمبر/ 0336
فرض غسل کے بعد ناخن میں کچرا نظرآے توغسل کا اعادہ ضروری ہے؟
جواب: فرض غسل کے بعدناخن میں میل کچیل نظرآے اگروہ اس قدرکم ہے کہ پانی پہنچنے کے لئے مانع نہیں ہے توغسل کا اعادہ ضروری نہیں ہے اوراگروہ پانی پہنچنے کے لیے مانع بن رہا ہے توبعض فقہاء نے ضرورتا اس غسل کودرست قرار دیا ہے.لیکن بہتریہ ہے کہ ناخن کی گندگی صاف کرکے دوبارہ ہاتھ دھولئے جاے. (المجموع:1/353)
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال:نمبر/ 0335
رکوع وسجدہ میں تسبیحات اورمنقول ادعیہ کے علاوہ مزید دعائیں کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت ابوہریرہ رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتاہے،لہذاتم سجدہ میں کثرت سے دعا کرو
اس حدیث کی بناء پرفقہاء نے استدلال کیا ہے کہ سجدہ میں کثرت سے دعاکرناثابت ہے.سجدہ کے ساتھ رکوع میں تسبیحات کے علاوہ بہت سی دعاییں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں،
البتہ رکوع وسجود میں خصوصیت کے ساتھ منقول دعاووں کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگرموقعوں پرمنقول یامطلقا دنیاوآخرت کی بھلائی کے متعلق دعاووں کاعربی میں رکوع وسجود یاتشہد کے بعد مانگنا بھی درست ہے.البتہ واضح رہے کہ ان طویل دعاووں کا مانگنا امام کے حق میں مکروہ ہے جب کہ مقتدی حضرات اس کی طوالت سے راضی نہ ہوں اورمأموم پران دعاووں کے مقابلہ میں امام کی متابعت واجب ہے.لہذا وہ امام کی متابعت چھوڑ کران دعاووں میں مشغول نہ رہے .البتہ منفرد جتنی چاہے دعائیں کرسکتا ہے. نیز دعا مانگنے کے لیے نماز کے علاوہ خالص سجدہ ثابت نہیں ہے-
📌ويسن للمنفرد ولامام قوم المحصورين راضين بالتطويل الدعاء فيه (2)
📕 المراجع
1) (مسلم:482)
2) (مغنی المحتاج:293/1)
3) (تحفۃ المحتاج:1/210)
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال:نمبر/ 0334
مرد کے لے کس دھات کی انگوٹھی پہننا درست ہے؟اوراس کے پہننے کی کیفیت کیا ہے؟
جواب: حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اوراس کانگینہ بھی چاندی کا تھا (بخاری:5870)
حضرت سہل بن سعدرض فرماتے ہیں کہ ایک شخص سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح کرواگرچہ بطورمہرلوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو (بخاری :515)
ان احادیث کی روشنی میں مرد کے لئے چاندی لوہا,پیتل,اورسیسہ, کی ایک انگوٹھی یاایک سے زائدپہننا جائز ہے. جب کہ ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننے کارواج اورلوگوں کی عادت ہو،اورانگوٹھی دائیں ہاتھ کی چھوٹھی انگلی میں پہننا افضل ہے.چھوٹھی انگلی سے متصل انگلی اورانگوٹھے میں پہننا جائز ہے.شہادت کی انگلی اوراس سے متصل درمیانی انگلی میں مکروہ تنزیہی ہے.. (اعانة الطالبين.. 243/2)
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0333
اگرکویی شخص فرض غسل اوروضو سے پہلے اپنا ہاتھ پانی میں بغیر چلو کی نیت سے داخل کرتا ہے تواس پانی سے طہارت کرنے کا کیاحکم ہے؟
جواب: حضرت ابوہریرہ رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص رکے ہوے پانی میں ہاتھ داخل نہ کرے توپوچھا گیا کہ اے ابوہریرہ !پھرپانی کیسے نکالاجاے؟
توحضرت ابوہریرہ رض نے فرمایا کہ چلوسے پانی نکال کرباہرہاتھ دھویا جاے(مسلم:658)
مذكوره حديث سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئ جنبی رفع جنابت كي نيت سےابتداء میں یاوضوکرنے والا چہرہ دھونے کے بعدرفع حدث کی نیت سےقلتین سے کم پانی میں ہاتھ داخل کرے یا مطلقا ہاتھ داخل کرے تو پانی مستعمل ہوگااوراس پانی سے غسل اوروضودرست نہیں ہوگا، البتہ اپناہاتھ چلو(پانی نکالنے) کی نیت سے داخل کرے تو مستعمل نہیں ہوگا ،البتہ اگر پانی قلتین یا اس سے زیادہ ہے تو کسی بھی حالت میں پانی مستعمل نہیں ہوگا چاہے چلوکی نیت کرے یا نہ کرے
إذا غَمَسَ المُتَوَضِّئُ يَدَهُ فِي إناءٍ فِيهِ دُونَ القُلَّتَيْنِ فَإنْ كانَ قَبْلَ غَسْلِ الوَجْهِ لَمْ يَصِرْ الماءُ مُسْتَعْمَلًا سَواءٌ نَوى رَفْعَ الحَدَثِ أمْ لا: وإنْ كانَ بَعْدَ غَسْلِ الوَجْهِ فَهَذا وقْتُ غَسْلِ اليَدِ فَفِيهِ تَفْصِيلٌ ذَكَرَهُ إمامُ الحَرَمَيْنِ وجَماعاتُ مِن الخُراسانِيِّينَ قالُوا إنْ قَصَدَ غَسْلَ اليَدِ صارَ مُسْتَعْمَلًا(١)
ولَمْ يَنْوِ الِاغْتِرافَ بِأنْ نَوى اسْتِعْمالًا أوْ أطْلَقَ صارَ مُسْتَعْمَلًا، فَلَوْ غَسَلَ بِما فِي كَفِّهِ باقِيَ يَدِهِ لا غَيْرَها أجْزَأهُ، أمّا إذا نَوى الِاغْتِرافَ بِأنْ قَصَدَ نَقْلَ الماءِ مِن الإناءِ والغَسْلَ بِهِ خارِجَهُ لَمْ يَصِرْ مُسْتَعْمَلًا ولا يُشْتَرَطُ لِنِيَّةِ الِاغْتِرافِ نَفْيُ رَفْعِ الحَدَثِ (٢)
🔰🔰 المراجع 🔰🔰
١ – (المجموع:220/1)
٢ – (مغني المحتاج :39/1)
(شرح مسلم :524/1)
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال:نمبر/ 0332
اگركسى عورت كاحمل1/ مہينه يا 40/دن كے اندر ساقط هوجاےاوراس كا خون 40/دن يا60/دن تک جارى رهے تواس خون كاكياحكم ہے؟
جواب: اللہ تعالی کاارشاد..ھم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیداکیاپھر ھم نے اسے نطفہ بنایا جوکہ ایک مدت معینہ تک رحم میں رھا پھر ھم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنادیا پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی بنایا (المومنون:14)..
حضرت عبداللہ ا بن مسعود رض سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بلا شبہ تم کو اپنی ماں کی پیٹ میں چالیس دن تک(نطفہ کی شکل میں) جمع کیا جاتا ھے پھروہ نطفہ چالیس دن تک خون کا لوتھڑا بن کر رہتا ھے پھر گوشت کی بوٹی بنکر چالیس دن تک رھتا ھے (بخاری:3332)
فقہاء کرام نے مذکورہ دلائل سے استدلال کیا ہے کہ عورت کے حمل میں نطفہ چالیس دن تک رہتاہے.پھر خون کا لوتھڑا بن کر رہتا ھے پھر چالیس دن تک گوشت کی بوٹی بنکر رھتا ھے لھذا اگر کسی عورت کا حمل ایک مہینہ یا چالیس دن کے اندر ساقط ہوجاے اس کے بعد خون جاری ھوتو یہ خون نفاس کا شمار نہیں ہوگا کیوں کہ چالیس دن کے اندر عورت کے حمل سے جو چیز ساقط ھوجاتی ھے وہ منی ہی ہے.لہذایہ خون اس کی عادت کے مطابق نکلے توحیض ہوگا یاعادت سے زیادہ نکلے توپندرہ دن تک توحیض ہی شمارہوگا اس کے بعد استحاضہ کاشمار ہوگااس لیے کہ نفاس کا اطلاق اس خون پرہوتا ہے جوبچہ کی ولادت یاعلقہ ومضغہ کے خروج کے بعدنکلتا ہے .اورجب حمل علقہ یا مضغہ کی شکل میں ساقط ہوجاے تواس وقت غسل ولادت بھی واجب ہوتاہے اورجس علقہ اورمضغہ میں انسانی خلقت کی ابتداء ہوگی ہوایسے علقہ ومضغہ کے سقوط کے بعدجاری دم نفاس کے بند ہونے پرنفاس کا غسل واجب ہوتا ہے..
وهُوَ أنَّ المَنِيَّ يَمْكُثُ فِي الرَّحِمِ أرْبَعِينَ يَوْمًا لا يَتَغَيَّرُ، ثُمَّ يَمْكُثُ مِثْلَها عَلَقَةً، ثُمَّ يَمْكُثُ مِثْلَها مُضْغَةً، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، والوَلَدُ يَتَغَذّى بِدَمِ الحَيْضِ، وحِينَئِذٍ فَلا يَجْتَمِعُ الدَّمُ مِن حِينِ النَّفْخِ لِأنَّهُ غِذاءٌ لِلْوَلَدِ، وإنَّما يَجْتَمِعُ قَبْلَ ذَلِكَ، (*)
(شرح مسلم::6/146)
(تحفۃ الاحوزی:6/287)
(روضة الطالبين وعمدة المفتين 174/1 )
* (حاشیۃ عمیرہ:1/308)
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال:نمبر/ 0331
اگر منفرد یا امام کو شک ہو کہ تین رکعت پڑھی یا چار تو منفرد یا امام کم پریقین کرتے ہوے ایک رکعت مزید پڑھنے کے لیے کھڑا ہوگیا لیکن کچھ دیر بعد یعنی (رکوع میں یا سورہ فاتحہ کے دوران) اسے یقین ہو گیا کہ یہ اس کی زاید رکعت ہے تو امام کیا کرے فورا تشہد میں بیٹھے یا رکعت پوری کرے؟
جواب: اگر امام یا منفردکو تيسري يا چوتھی ركعت میں رکعت کی تعداد میں شک ہوجاے، جس کے سبب وہ اقل پر بناء کرتے ہوے ایک رکعت مزید پڑھنے کھڑا ہو جائے اور کچھ دیربعد رکوع یا سورہ فاتحہ کے دوران اسے یقین ہوگیا کہ یہ اسکی زائد رکعت ہے یہاں تک کہ رکوع کے بعد اعتدال وسجدہ میں یادآجاے تو فورا اسکو تشہد میں بیٹھنا ضروري ہے اور سجدہ سہو کرناسنت ہے.
إذا قامَ إلى خامِسَةٍ فِي رُباعِيَّةٍ ناسِيًا، ثُمَّ تَذَكَّرَ قَبْلَ السَّلامِ، فَعَلَيْهِ أنْ يَعُودَ إلى الجُلُوسِ، ويَسْجُدَ لِلسَّهْوِ، ويُسَلِّمَ، سَواءً تَذَكَّرَ فِي قِيامِ الخامِسَةِ، أوْ
رُكُوعِها، أوْ سُجُودِها. وإنْ تَذَكَّرَ بَعْدَ الجُلُوسِ فِيها، سَجَدَ لِلسَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ (١)
🔰🔰المراجع🔰🔰
١ – روضة الطالبين وعمدة المفتين ١/٤١٢٫٤١٣
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0330
اگرامام پانچویں رکعت کے لئے سہوا کھڑاہوجاے اورمقتدی حضرات بھی اس کی اقتداء میں کھڑےہوجائیں تواس نمازکا کیاحکم ہے؟
جواب: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہرکی پانچ رکعت پڑھائی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاگیا کہ کیارکعات کی تعداد میں اضافہ ہوا؟توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا؟ توصحابہ نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعت ادافرمائی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہوفرمایا (بخاری :1226)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے استدلال کیا کہ اگرامام سہواپانچ رکعت پڑھ لے پھراسے یادآجاے توسلام سے پہلے سجدہ سہوکرلے اوراگرسلام پھیرنے کے بعد فورا معلوم ہوجاے تب بھی سجدہ سہوکرناسنت ہے.اس صورت میں نماز کے اعادہ کی ضرورت نہیں ،البتہ اگرمقتدیوں کوامام کی پانچویں رکعت کا یقین ہوتوانھیں پانچویں رکعت میں امام کی اقتداء نہیں کرنی چاہیے بلکہ بیٹھ کرامام کے تشہد میں آنے کا انتظار یامفارقت کی نیت سے الگ ہونا چاہیے.اس لیے کہ اگرمقتدی کویقین ہے کہ امام سھوا پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوا ہے اوراسے یہ مسئلہ بھی معلوم ہے کہ امام کی اس زاید رکعت میں متابعت کرنا حرام ہے.پھربھی اقتداء کیا توایسے مقتدی کی نماز باطل ہوگی.اوراگراسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ امام کی پانچویں رکعت میں اقتداء کرنا جایز نہیں ہے یااسے پانچویں رکعت کاعلم نہیں تھا تونماز ہوجاے گی.
فَأمّا إذا دَخَلَ مَعَ الإمامِ وقَدْ سَبَقَهُ بِرَكْعَةٍ فَصَلّى الإمامُ خَمْسًا ساهِيًا فَتَبِعَهُ وهُوَ لا يَعْلَمُ بِسَهْوِهِ أجْزَأتِ المَأْمُومَ صَلاتُهُ، فَإنْ تَبِعَهُ وهُوَ يَعْلَمُ أنَّهُ سَها بَطَلَتْ صَلاتُهُ، (١)
(فَأجابَ) بِأنَّهُ لا يَجُوزُ لِلْمَأْمُومِ مُتابَعَةُ إمامِهِ فِي خامِسَتِهِ إذْ يَجِبُ عَلَيْهِ قَطْعُ القُدْوَةِ وحِينَئِذٍ ولا يَجُوزُ لَهُ انْتِظارُ إمامِهِ بَعْدَ رَكْعَتِهِ (٢)
ولَوْ قامَ إمامُهُ لِخامِسَةٍ ناسِيًا فَفارَقَهُ بَعْدَ بُلُوغِ حَدِّ الرّاكِعِينَ لا قَبْلَهُ سَجَدَ لِلسَّهْوِ كالإمامِ، وقِيلَ: لا يُسَلِّمُ إذا سَلَّمَ الإمامُ بَلْ يَصْبِرُ، فَإذا سَجَدَ سَجَدَ مَعَهُ. هَذا إذا كانَ مُوافِقًا، أمّا المَسْبُوقُ فَيُخْرِجُ نَفْسَهُ ويُتِمُّ لِنَفْسِهِ ويَسْجُدُ آخِرَ صَلاتِهِ (٣)
🔰🔰المراجع🔰🔰
١ – (الحاوی الکبیر:2/230)
٢ – (فتاوی الرملی:1/177)
٣ – (مغنی المحتاج:1/363)
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال:نمبر/ 0328
کتنے سال کی بچی سے پردہ ضروری ہے؟
جواب: جب کسی بچی کی عمر اس حدتک پہنچ جاے کہ اسے دیکھنے والوں کولذت حاصل ہوتی ہواورشہوت ابھرتی ہوتوایسی بچی کی طرف دیکھنا حرام ہوگا اوراگربچی اس حد کونہ پہنچی ہوتواسے دیکھنے میں کویی حرج نہیں ہے.البتہ اس حالت میں اس کی اگلی پچھلی شرمگاہ دیکھناحرام ہوگا.
بعض فقہاء نے محل شہوت کوعمر کے ساتھ بھی مقید کیا ہے کہ اگربچی نوسال کی عمر کوپہنچ جاے تواسےبڑی اوربالغ عورتوں کی طرح دیکھنا حرام ہوگا.اس لیے کہ یہ عمر بلوغت کی عمر ہوتی ہے لیکن اگراس عمر سے پہلے ہی کسی بچی کے اندروہ کیفیت پیدا ہوگی جس سے اسے دیکھنے کودل چاہتا ہوتواسے دیکھنا اوراس سے مصافحہ حرام ہی ہوگا.
ولا بأس بالنظر إلى عورة صبي أو صبية لم تبلغ محل الشهوة وإن كان أجنبيًا، ولا ينظر إلى الفرج فإن بلغ محل الشهوة لم يجز وإذا بلغ الصبي أو الصبية عشر سنين، يجب التفريق [بين أخيه وأخته] وأمه وأبيه في المضجع (١)
قال الصيمري: وأما عورة الصبي، والصبية، قبل سبع سنين.. فالقبل والدبر، ثم تتغلظ بعد السبع… فأما بعد العشر: فكعورة البالغين؛ لأن ذلك زمان يمكن البلوغ فيه. (٢)
🔰🔰 المراجع 🔰🔰
١ – التھذیب:5/241
٢ – البیان:2/120
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال:نمبر/ 0326
سفرشروع کرنے سے پہلے کونسی نماز سنت ہے؟
جواب: حضرت عبداللہ ابن مسعود رض فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اورکہنے اے اللہ کے رسول میں تجارت کی غرض سے بحرین جارہا ہوں تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دورکعت پڑھ لو (مجمع الزوائد:3684)
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب تم اپنے گھرسے نکلوتودورکعت پڑھ لوجس کی برکت سے سفرکے شرسے حفاظت ہوگی (مسند بزار:8567)
ان دلائل کی روشنی میں امام نووی رح ودیگرعلماء نے سفرکی ابتداء کے وقت دورکعت صلاۃ السفر کی نیت سے ادا کرنے کااستحباب نقل کیا ہے.
اس لیے ان دورکعت کاادا کرنا مسنون ہے.اورپہلی رکعت میں سورہ کافرون اوردوسری میں سورہ اخلاص پڑھنا بھی سنت ہے.
يُسْتَحَبُّ إذا أرادَ الخُرُوجَ مِن مَنزِلِهِ أنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ يَقْرَأُ فِي الأُولى بَعْدَ الفاتِحَةِ (قُلْ يا أيها الكافرون) وفِي الثّانِيَةِ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أحَدٌ) (١)
🔰🔰المراجع🔰🔰
١). المجموع ٥/٣٧٤
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال.نمبر/ 0325
غیر مسلموں کے تہوار کے موقعوں پر ان کا ہدیہ قبول کرنا اور کھانا کیسا ہے ؟اور ان کو مبارکباد دینا کیسا ہے؟
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال:نمبر/ 0324
مردارمرغی کوکسی کافرکے ہاتھ فروخت کرنے یاہبہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت جابررض سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے شراب .مردار .خنزیر اوربتوں کی بیع کوحرام قرار دیا ہے (مسلم :1581)
اس حدیث سے پتہ چلا کہ مردار کی بیع درست نہیں ہے.لہذا وہ مرغی جوخودبخودمرجاے یاغیرشرعی طریقہ سے اسے ذبح کیا جاے توایسی مرغی ناپاک ہے اوراسے کھاناحرام ہےاس لئے اس کی خریدوفروخت یااسے کسی کوہبہ کرنا درست نہیں.یہاں تکہ کسی کافرکے ہاتھ اس کو بیچنایا ایسے ہی دینا درست نہیں ہے.کیوں کہ اس صورت میں گناہ پرتعاون اورمدد کرنالازم آتا ہے.اوراللہ تعالی نے گناہ کے کام پرمدد کرنے سے منع فرمایا ہے-
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال .نمبر/ 0323
ضرورت یا حاجت کے وقت پڑهی جانے والی نماز کونسی ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے ؟
اتوار _29 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0322
غسل کب فرض ہوتا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہیں؟
جواب: سات چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کی بھی موجودگی میں مسلمان کیلئے غسل کرنا واجب ہوجاتا ہے۔
۱۔ منی کا نکلنا بغیر جماع کے، نیند میں ہو یا بیداری میں، شہوت سے ہو یا بغیر شہوت کے نکلے۔ایک قطرہ نکلے یا خون کی شکل میں نکلے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے "وان کنتم جنباً فالطّھّروا”
ترجمہ: اگر تم جنبی ہو تو پاکی حاصل کرو۔ تندرستی اور صحت کی حالت میں مرد کی منی گاڑھی اور سفید ہوتی ہے، اور اچھل اچھل کر نکلتی ہے۔ اس کے نکلتے وقت لذت محسوس ہوتی ہے،اور جب منی خارج ہوجاتی ہے تو آدمی کے اندر فتور پیدا ہوتا ہے یعنی اس کا جسم ڈھیلا پڑجاتا ہے۔اور اس کی بو تقریباً کھجور کے شگوفہ یا گوندے ہوئے آٹے کی مانند ہوتی ہے۔بعض اوقات کسی سبب کی بناءپر منی کا رنگ زرد ہوتا ہے اور وہ پتلا ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات منی کا رنگ خون کی طرح ہوتا ہے۔
اور عورت کا مادۂ منویہ عام حالات میں پتلا اور زرد ہوتا ہے، اور بعض اوقات اس کی قوت بڑھ جانے پر وہ سفید بھی ہوجاتا ہے۔ ۲۔ مرد و عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ ہمبستر ہونا۔ چاہے منی نکلے یا نہ نکلے۔ ۳۔ بلوغت کے بعد کافر کا اسلام لانا۔ ۴۔ موت کا لاحق ہونا
اور اسی طرح تین چیزیں عورتوں کے لئے خاص ہے: (1) عورت کا وہ خون جو نو سال کی عمر کو پہنچنے پر نکلتا ہے۔ (2) نفاس: وہ خون جو ولادت کے بعد نکلتا ہے، اور یہ قطعی طور پر غسل کو واجب کرتا ہے۔ (3) ولادت کا غسل
یہ بات واضح رہے کہ غسل کے فرائض دو ہیں: (1) فرض غسل کی نیت کرنا (2) پورے بدن پر پانی پہنچانا
انسان کو ایسے غسل کرنا چاہئے جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔چنانچہ جب کوئی غسل جنابت کرنا چاہے تو سب سے پہلے وہ فرض غسل کی نیت کرے (نویت فرض الغسل) یا (نویت رفع الجنابة) یا (نویت رفع الحدث الأکبر)،
پھر دونوں ہاتھوں کو دھوکر اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور جہاں نجاست لگی ہو اس حصہ کو صاف کرے۔ پھر وضو کی نیت کرتے ہوئے مکمل وضو کرے۔ پھر تین بار اپنے سر پر پانی بہائے، اسی طرح داہنی جانب تین بار اور پھر بائیں جانب بھی تین بار، پھر اپنا ہاتھ پورے بدن پر پھیرے اور بدن کے ہر ہر حصہ تک پانی پہنچائے۔
یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا، ناک میں پانی لینا، کلی کرنا وغیرہ یہ سب شوافع کے یہاں مسنون ہیں۔ اسی طرح سے اگر آپ سے وضو کے ٹوٹنے کا کوئی عمل نہ ہواہو تو آپ اسی وضو پر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ واللہ أعلم بالصواب