رمضان كے بعد كی زندگی 24-07-2015
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
سوال نمبر/ 0177
اگر کوئی لڑکا صبح صادق کے بعد بالغ ہوجائے تو اس صورت میں اس کے لئے روزے کا کیا حکم ہے ؟
جواب: اگر کوئی لڑکا صبح صادق کے بعد بالغ ہوجائے اور وہ روزہ کی حالت میں ہو تو اس بچہ پر اس روزہ کو مکمل کرنا ضروری ہے اور اس پر قضاء ضروری نہیں ہے .یہاں تک کہ اگر وہ روزہ کی حالت میں نہ ہو تو بھی اس پر قضاء ضروری نہیں ہے اور نہ ہی بقیہ دن بھوکا رہنا ضروری ہے۔ (منهاج الطالبين مع المغني 170/2)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0176
*روزہ کی حالت میں ٹھنڈک حاصل کرنے یا بدن کی صفائی کے لیے مطلق غسل کرنے کا کیا حکم ہے؟*
*روزہ کی حالت میں بغیر کسی سبب کے صرف ٹھنڈک حاصل کرنے یا صفائی ستھرائی کے لیے غسل کرنا جائز ہے. لیکن صبح صادق سے پہلے کرلینا بہتر ہے اس لئے کہ اگر غسل کے دوران پانی کان کے اندر چلاجائے توروزہ باطل ہوگا۔اسی طرح غوطہ لگاکر غسل کرنے یا تیرنے کی صورت میں پانی کان کے اندر چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔لہذا تیرنے اور غوطہ لگانے کی صورت میں پانی کان کے اندر چلے جانے سے بچنا مشکل ہوتو غوطہ لگانا اورتیرنا حرام ہے*
*امام رملی رحمة الله عليه فرماتے: ولو سبق ماء المضمضة أو الاستنشاق إلى جوفه المعروف أو دماغه (فالمذهب أنه بالغ) في ذلك (أفطر) لأن الصائم منهي عنها… ﻣﺎء اﻟﻐﺴﻞ ﻣﻦ ﺣﻴﺾ ﺃﻭ ﻧﻔﺎﺱ ﺃﻭ ﺟﻨﺎﺑﺔ ﺃﻭ ﻣﻦ ﻏﺴﻞ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﻓﻼ ﻳﻔﻄﺮ ﺑﻪ ﻛﻤﺎ ﺃﻓﺘﻰ ﺑﻪ اﻟﻮاﻟﺪ ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭﻣﻨﻪ ﻳﺆﺧﺬ ﺃﻧﻪ ﻟﻮ ﻏﺴﻞ ﺃﺫﻧﻴﻪ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺎﺑﺔ ﻭﻧﺤﻮﻫﺎ ﻓﺴﺒﻖ اﻟﻤﺎء اﻟﺠﻮﻑ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﻻ ﻳﻔﻄﺮ، ﻭﻻ ﻧﻈﺮ ﺇﻟﻰ ﺇﻣﻜﺎﻥ ﺇﻣﺎﻟﺔ اﻟﺮﺃﺱ ﺑﺤﻴﺚ ﻻ ﻳﺪﺧﻞ ﺷﻲء ﻟﻌﺴﺮﻩ، ﻭﻳﻨﺒﻐﻲ ﻛﻤﺎ ﻗﺎﻟﻪ اﻷﺫﺭﻋﻲ ﺃﻧﻪ ﻟﻮ ﻋﺮﻑ ﻣﻦ ﻋﺎﺩﺗﻪ ﺃﻧﻪ ﻳﺼﻞ اﻟﻤﺎء ﻣﻨﻪ ﺇﻟﻰ ﺟﻮﻓﻪ ﺃﻭ ﺩﻣﺎﻏﻪ ﺑﺎﻻﻧﻐﻤﺎﺱ ﻭﻻ ﻳﻤﻜﻨﻪ اﻟﺘﺤﺮﺯ ﻋﻨﻪ ﺃﻥ ﻳﺤﺮﻡ اﻻﻧﻐﻤﺎﺱ ﻭﻳﻔﻄﺮ ﻗﻄﻌﺎ. ﻧﻌﻢ ﻣﺤﻠﻪ ﺇﺫا ﺗﻤﻜﻦ ﻣﻦ اﻟﻐﺴﻞ ﻻ ﻋﻠﻰ ﺗﻠﻚ اﻟﺤﺎﻟﺔ ﻭﺇﻻ ﻓﻼ ﻳﻔﻄﺮ ﻓﻴﻤﺎ ﻳﻈﻬﺮ… وقيل يفطر مطلقا لأن وصول الماء إلى الجوف بفعله وقيل يفطر مطلقا لأن وصوله بغير اختياره۔* (نهاية المحتاج:١٧١\٣) *امام ابن حجر ہیتمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭﺇﻥ ﺑﺎﻟﻎ ﻻﺳﺘﻴﻔﺎء اﻟﻐﺴﻞ ﻛﻤﺎ ﻟﻮ ﺳﺒﻖ اﻟﻤﺎء ﻣﻊ اﻟﻤﺒﺎﻟﻐﺔ ﻟﻐﺴﻞ ﻧﺠﺎﺳﺔ اﻟﻔﻢ ﻭﺇﻧﻤﺎ ﺃﻓﻄﺮ ﺑﺎﻟﻤﺒﺎﻟﻐﺔ ﻓﻲ اﻟﻤﻀﻤﻀﺔ ﻟﺤﺼﻮﻝ اﻟﺴﻨﺔ ﺑﻤﺠﺮﺩ ﻭﺿﻊ اﻟﻤﺎء ﻓﻲ اﻟﻔﻢ ﻓﺎﻟﻤﺒﺎﻟﻐﺔ ﺗﻘﺼﻴﺮ ﻭﻫﻨﺎ ﻻ ﻳﺤﺼﻞ ﻣﻄﻠﻮﺑﻪ ﻣﻦ ﻏﺴﻞ اﻟﺼﻤﺎﺥ ﺇﻻ ﺑﺎﻟﻤﺒﺎﻟﻐﺔ ﻏﺎﻟﺒﺎ ﻓﻼ ﺗﻘﺼﻴﺮ ۔* (الفتاوى الكبرى الفقهية:٧٤\٢)
Fiqhe Shafi Question No/0176
What is the ruling on taking bath(ghusl)while fasting?
Ans; Taking bath(ghusl)while fasting is permissible..but in the case of taking bath by diving or swimming and if the water enters the ears then the fast invalidates.. However, taking bath(ghusl) before the sunrise is the best..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0175
پندرہ شعبان کے روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔شعبان المعظم میں روزے رکھنا سنت ہے، مسند احمد اور سنن نسائی کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شعبان کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ( ذاك شهر يغفل الناس عنه، بين رجب و رمضان، وهو شهر ترفع فيه الاعمال إلى رب العالمين عز وجل، فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم) صحیحین میں بھی منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں تسلسل سے روزے رکھا کرتے تھے، مجمع الزوائد وغیرہ میں ان روزوں کی ایک دوسری وجہ بھی بیان کی گئی ہے، البتہ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نصف شعبان کے بعد روزہ نہ رکھنا سنت ہے، لہذا روزوں کی یہ فضیلت نصف شعبان تک رہتی ہے، جس کا آخری دن پندرہ شعبان ہوتا ہے۔ نصف شعبان کا روزہ منجملہ ایام بیض میں ہونے کی وجہ سے بھی مسنون ہے، اور بذات خود پندرہ شعبان کے روزے سے متعلق سنن ابن ماجہ کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (نصف شعبان کی رات میں عبادت بھی کرو، دن کو روزہ بھی رکھو) لیکن یہ ضروری ہے کہ اس روزے کو لازمی نہ سمجھا جائے، نہ رکھنے والے پر عیب نہ لگایا جائے، منجملہ اچھے اعمال کی طرح ہی اس کو کیا جائے۔
قال الرملي رحمه الله يُسَنُّ صَوْمُ نِصْفِ شَعْبَانَ بَلْ يُسَنُّ صَوْمُ ثَالِثَ عَشَرِهِ وَرَابِعَ عَشَرِهِ وَخَامِسَ عَشَرِهِ وَالْحَدِيثُ الْمَذْكُورُ يُحْتَجُّ بِهِ. .(2) قال ابن حجر المكي رحمه الله وَأَمَّا صَوْمُ يَوْمِهَا فَهُوَ سنةٌ مِنْ حَيْثُ كَوْنُهُ مِنْ جُمْلَةِ الْأَيَّامِ الْبِيضِ لَا مِنْ حَيْثُ خُصُوصُهُ (3)(1)سنن ابن ماجه 1388 (2)فتاوي رملي 2/ 79 (3)الفتاوي الكبري الفقهية 2/ 80
Fiqhe Shafi Question No/0175
What is the ruling of fasting on 15th of shaban?
Ans; The jurists(fuqaha) elaborated this as how the fasting on 13th,14th and15th of every month(Ayyam baiz) is sunnah,in the same way fasting on 13th,14th and 15th of shaban is sunnah..
سوال:نمبر/ 0174
اگر کسی شخص کی رات میں یہ نیت تھی کہ صبح اٹھ کر روزہ رکھوں گا لیکن اس کی آنکھ صبح صادق کے بعد کھلی تو ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے ؟
جواب: اگر کسی شخص کی رات میں یہ نیت تھی کہ صبح اٹھ کر روزہ رکھوں گا لیکن وہ صبح صادق (ختم سحری) کے بعد بیدار ہوا تو وہ بغیر کچھ کھائے پیئے سورج غروب (مغرب کی آذان ) تک روزہ کی حالت میں رہے تو اس کا روزہ صحیح ہوگا ،
قال الإمام النووی رحمه الله:
لو نوي ونام ثم انتبه قبل الفجر لم تبطل نيته ولا يلزم تجديدها ولو استمر نومه الي الفجر لم يضره وصح صومه ” (١)
(المجموع 295/6)
بہتر یہ ہے کہ رمضان میں رات میں سوتے وقت روزانہ نیت کرکے سو جائے تاکہ کبھی ایسا موقع آجائے تو روزہ فوت نہ ہوسکے ۔
سوال نمبر/ 0173
روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے اور سرمہ لگانے سے روزہ توٹے گا یا نہیں ؟
جواب : روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے اور سرمہ لگانے سے روزہ نہیں توٹے گا کیونکہ آنکھ منفذ مفتوح (یعنی کھلی ہوئی چیزوں) میں داخل نہیں ہے اگرچہ دوائی کا اثر حلق میں پایا جائے ، البتہ روزہ کی حالت میں سرمہ لگانا خلاف اولی ہے ۔
قال الإمام الرافعي رحمه الله:
لا بأس للصائم بالاكتحال إذ ليست العين من الاجواف…ولا فرق بين أن يجد في الحلق منه طعما أو لا يجد.(١)
ولا) يُفْطِرُ (بِالكُحْلِ) أيْ بِوُصُولِهِ العَيْنَ وإنْ وجَدَ بِحَلْقِهِ مِنهُ طَعْمًا لِأنَّ العَيْنَ لَيْسَتْ جَوْفًا ولا مَنفَذَ مِنها لِلْحَلْقِ…وفِي حِلْيَةِ الرُّويانِيِّ أنَّهُ خِلافُ الأوْلى(٢)
_____________
(١)الشرح الكبير (١٩٤/٣)
(٢)اسنى المطالب (٢٣٣/٢)
*اعانۃ الطالبین(٢٤٩/٢)
*تحفۃ المحتاج (٤٠٣/٢)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0167
پندرہ شعبان کے بعد قضاء روزہ رکهنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شعبان کا نصف اول ختم ہو اور نصف ثانی شروع ہو تو تم روزہ نہ رکهو.(سنن ابوداود:,2337)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ میرے اوپر رمضان کے روزے ہوا کرتے،اور میں انکی قضاء کی استطاعت نہ رکھتی سوائے شعبان کے. (بخاری:1950)
فقہاء کرام نے سنن ابو داؤد کی پہلی روایت سے پندرہ شعبان کے بعد بغیر سبب کے مطلق نفل روزے رکھنا جائز نہیں لکھا ہے. البتہ صحیح بخاری کی روایت سے فقہاء نے پندرہ شعبان کے بعد فرض روزہ کی قضاء کرنا بغیر کسی کراہت کے درست لکھا ہے.
و من ثم حرم الصوم بعد نصف شعبان بلا سبب…….(وله صومه عن القضاء) (نهاية المحتاج 178/177/3)
Fiqhe Shafi Question No/0167
What is ruling on making up the missed fasts after 15th of shaban?
Ans; Hazrat Abu Huraira R.A narrated that the messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him)said; When the first half of shaban ends and the second of shaban comes, do not fast..
(Sunan abu dawood: 2337)
Hazrat Aisha R.A said;” Sometimes I missed some days of Ramadhan and couldnot fast instead of them except in the month of Shaban..(Sahih bukhari 1950)
The jurists based their opinion by the first hadeeth of sunan abu dawood that keeping unconditioned nifl fasts after 15th of shaban without any reason is not permissible ..However, on account of the narration of Sahih Bukhari the jurists says that making up the fardh missed fasts is valid without being disliked…
سوال:نمبر/ 0166
عام طور پر رمضان کے مہینے میں اذان کے بعد افطار کے لئے کچھ وقت دیا جاتا ہے. اس کا کیا حکم ہے؟ اور اس کی کیا دلیل ہے ؟
جواب: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کهانا قریب کیا جائے اور نماز کا وقت حاضر ہوجائے تو تم مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کهانا کهاو (مسلم 557)
اس حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر رمضان میں مغرب کی آذان کے بعد افطار کیلئے کچھ وقت جو دیا جاتا ہے وہ درست ہے. لیکن اتنی تاخیر درست نہیں کہ کهاتے کهاتے وقت ہی نکل جائے. یا مغرب کی نماز کا افضل وقت (اول وقت) نکل جاے- (شرح مسلم 64/5)
إذا وُضِعَ عشاء أحدكم وأقيمت الصلاة فابدؤا بِالعَشاءِ ولا يَعْجَلَنَّ حَتّى يَفْرُغَ مِنهُ………وحَكى أبُو سَعْدٍ المُتَوَلِّي مِن أصْحابِنا وجْهًا لِبَعْضِ أصْحابِنا أنَّهُ لا يُصَلِّي بِحالِهِ بَلْ يَأْكُلُ ويَتَوَضَّأُ وإنْ خَرَجَ الوَقْتُ لِأنَّ مَقْصُودَ الصَّلاةِ الخُشُوعُ فَلا يَفُوتُهُ وإذا صَلّى عَلى حالِهِ وفِي الوَقْتِ سَعَةٌ فَقَدِ ارْتَكَبَ المَكْرُوهَ وصَلاتُهُ صَحِيحَةٌ عِنْدَنا وعِنْدَ الجُمْهُورِ لَكِنْ يُسْتَحَبُّ إعادَتُها ولا يَجِبُ ونَقَلَ القاضِي عِياضٌ عَنْ أهْلِ الظّاهِرِ أنَّها باطِلَةٌ وفِي الرِّوايَةِ الثّانِيَةِ دَلِيلٌ عَلى امْتِدادِ وقْتِ المَغْرِبِ وفِيهِ خِلافٌ بَيْنَ العُلَماءِ .شرح مسلم (٥/٤٦)
سوال:نمبر/ 0165
سوال:اگرکسی کے ذمہ رمضان کےفرض روزے باقی ہوں توایسے مرد اور عورت کے لیے سنت روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کسی کا رمضان کا روزہ کسی عذرکی وجہ سے چھوٹ گیا ہوتواس کی قضاء سے پہلے سنت روزہ رکھنا مکروہ ہے. اور اگر بغیر عذر کے چھوٹ گیا ہے تواس کی قضاء سے پہلے سنت روزہ رکھنا جائز نہیں ہے. لہذا رمضان کے باقی روزہ کی قضاء جس قدر جلدی ہوسکے کرلینی چاہیے. اور دوسرا رمضان آنے سے پہلے ہی اس ذمہ داری سے فارغ ہونے کا اہتمام کرنا چاہیے.
(يُكْرَهُ لِمَنْ عَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ أَنْ يَتَطَوَّعَ بِالصَّوْمِ كَرَاهَةُ صَوْمِهَا لِمَنْ أَفْطَرَهُ بِعُذْرٍ). نهاية المحتاج (٣/٢٠٨)
سوال نمبر/ 0164
اگرکسی شخص کی نماز جمعہ عذر یا بغیر عذر فوت ہوجاے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب: اگر کسی عذر یا بغیر عذر کے جمعہ فوت ہوجاے اور کسی جگہ جمعہ ملنے کا امکان نہ ہو. یا جمعہ کا وقت ہی فوت ہوجائے تو نماز ظہر ادا کرنا لازم ہے _
قالَ أصْحابُنا مَن لَزِمَتْهُ الجُمُعَةُ لا يَجُوزُ أنْ يُصَلِّيَ الظُّهْرَ قَبْلَ فَواتِ الجُمُعَةِ بِلا خِلافٍ لِأنَّهُ مُخاطَبٌ بِالجُمُعَةِ فَإنْ صَلّى الظُّهْرَ قَبْلَ فَواتِ الجُمُعَةِ فَقَوْلانِ مَشْهُورانِ (الجَدِيدُ) بُطْلانُها. المجموع (٤/٤٩٦)
سوال:نمبر/0163
روزہ کی حالت میں اگر آگ کا دهواں منہ و ناک سے پیٹ میں چلا جائے تو روزه کا کیا حکم ہے ؟
جواب: روزہ کی حالت میں اگر آگ کا دهواں منہ و ناک سے پیٹ میں چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا. لہذا اگر کوئی جان بوجھ کر منہ کھلا رکھے تاکہ وہ دهواں اس کے پیٹ میں چلا جائے تب بهی روزہ باطل نہیں ہوگا اس لیے کہ دهواں عین کوئی چیز نہیں ہے.
ويُؤْخَذُ مِنهُ أنَّ وُصُولَ الدُّخانِ الَّذِي فِيهِ رائِحَةُ البَخُورِ أوْ غَيْرِهِ إلى الجَوْفِ لا يُفْطِرُ بِهِ وإنْ تَعَمَّدَ فَتْحَ فِيهِ لِأجْلِ ذَلِكَ وهُوَ ظاهِرٌ، وبِهِ أفْتى الشَّمْسُ البِرْماوِيُّ لِما تَقَرَّرَ أنَّها لَيْسَتْ عَيْنًا: أيْ عُرْفًا. نهاية المحتاج (٣/١٦٩).
سوال نمبر/ 0162
دوران سفر قصر کی شروعات کہاں سے ہوگی؟
جواب: دوران سفر قصر کی ابتداء اپنے آبادی کو چھوڑنے کے بعد ہوتی ہے .
(ومَن سافَرَ مِن بَلْدَةٍ فَأوَّلُ سَفَرِهِ مُجاوَزَةُ سُوَرِها) المُخْتَصِّ بِها، وإنْ تَعَدَّدَ إنْ كانَ لَها سُورٌ كَذَلِكَ ولَوْ فِي جِهَةِ مَقْصِدِهِ فَقَطْ لَكِنْ إنْ بَقِيَتْ تَسْمِيَتُهُ سُورًا لِأنَّ ما فِي داخِلِهِ ولَوْ خَرابًا ومَزارِعَ مَحْسُوبٌ مِن مَوْضِعِ الإقامَةِ، والخَنْدَقُ كالسُّورِ وبَعْضُهُ كَبَعْضِهِ، وإنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ ماءٌ عَلى الأوْجَهِ ويَظْهَرُ أنَّهُ لا عِبْرَةَ بِهِ مَعَ وُجُودِ السُّورِ وألْحَقَ الأذْرَعِيُّ بِهِ قَرْيَةً أُنْشِئَتْ بِجانِبِ جَبَلٍ يُشْتَرَطُ فِيمَن سافَرَ فِي صَوْبِهِ قَطْعُ ارْتِفاعِهِ إنْ اعْتَدَلَ وإلّا فَما نُسِبَ إلَيْها مِنهُ عُرْفًا ويَلْحَقُ بِالسُّورِ أيْضًا تَحْوِيطُ أهْلِ القُرى عَلَيْها بِالتُّرابِ أوْ نَحْوِهِ . تحفة المحتاج(٢/٣٧٠)
سوال نمبر/ 0160
غير مسلم كے سلام کاجواب دینے اوراسے سلام كرنا كيسا ہے- اور اگر سلام نہیں كر سكتے تو نمستے يا نمسكار وغيره كرنے کا کیا حكم ہے؟
جواب : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اہل کتاب تم کو سلام کرے تو تم وعلیکم کہوں (بخاری 6258)
مذکورہ حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کافر سلام کرے تو اس کے جواب میں وعیلکم کہے اور لفظ سلام کااضافہ نہ کرے اس لئے کہ کافر سلامتی کی دعا کا مستحق نہیں ہے اور مطلقا جواب نہ دینابھی جائز ہےاس لیے کہ ایک فاسق شخص کے سلام کا جواب نہ دیناجائز ہے. توکافرکا بدرجہ اولی جائز ہونا چاہیے۔اور اسی طرح کسی کافرکوسلام کرنابھی جائزنہیں ہے.اور لفظ نمسکارکہنا بھی درست نہیں ہے.اس لیے کہ یہ مشرکانہ شعار میں سے ہے اس لئے نمسكار کہنا درست نہیں ہے۔
لا يَجُوزُ السَّلامُ عَلى الكُفّارِ هَذا هُوَ المَذْهَبُ الصَّحِيحُ وبِهِ قَطَعَ الجُمْهُورُ … وإذا سَلَّمَ الذِّمِّيُّ عَلى مُسْلِمٍ قالَ فِي الرَّدِّ وعَلَيْكُمْ ولا يزيد عَلى هَذا هَذا هُوَ الصَّحِيحُ وبِهِ قَطَعَ الجمهور . (١)
قَوْلُهُ: وسَلامُ ذِمِّيٍّ) عُطِفَ عَلى سَلامِ امْرَأةٍ. اهـ. سم (قَوْلُهُ: فَيَجِبُ إلَخْ) وِفاقًا لِلنِّهايَةِ والمُغْنِي (قَوْلُهُ: بِعَلَيْك) عِبارَةُ النِّهايَةِ والمُغْنِي بِوَعَلَيْك بِزِيادَةِ الواوِ ثُمَّ نَبَّهَ المُغْنِي عَلى جَوازِ إسْقاطِها أيْضًا. (٢)
واخْتَلَفَ العُلَماءُ فِي رَدِّ السَّلامِ عَلى الكُفّارِ وابْتِدائِهِمْ بِهِ فَمَذْهَبُنا تَحْرِيمُ ابْتِدائِهِمْ بِهِ ووُجُوبُ رَدِّهِ عَلَيْهِمْ بِأنْ يَقُولَ وعَلَيْكُمْ أوْ عَلَيْكُمْ فَقَطْ ودَلِيلُنا فِي الِابْتِداءِ قوله ﷺ لاتبدأوا اليهود ولاالنصارى بِالسَّلامِ وفِي الرَّدِّ قَوْلُهُ ﷺ فَقُولُوا وعَلَيْكُمْ وبِهَذا الَّذِي ذَكَرْناهُ عَنْ مَذْهَبِنا. شرح مسلم النووي (١٤/١٤٥)
_____________(١) المجموع (٢٠٤/٤)
(٢) تحفة المحتاج مع حاشية الشروانى (٢٢٤/٩)
(٣)شرح مسلم(١٤٥/١٤)
*كتاب الفتاوى(٢٣٤/١)
سوال نمبر/ 0159
پاک جوتے (چپل،شُو) پہن کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب :اگر جوتے پاک ہو تو اسکو پہن کر نماز پڑہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اک دفعہ نماز پڑھائی اور آپ نے چپل جوتے اتارا تو صحابہ نے بھی اپنے جوتوں کو اتارا تو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے نماز کے بعد فرمایا تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے تو صحابه نے فرمایا:اے اللہ کے رسول اپ نے اپنے جوتےاتارے تو ہم نے بھی اتارا، تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھکو جبرئیل نے خبر دی ان چپلوں میں نجاست ہے۔ (مسند احمد 11153) (المجموع 156/3)