درس حدیث نمبر 0204
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0574
آج كل سانپ كى چمڑی سے پرس اور عورتوں کے بيگ بنتے ہيں ايسے پرس اور بيگ کی خريد و فروخت جائز ہے يا نہيں؟
جواب:۔ مسلم شريف /٣٦٣ کی روایت سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ ہر جاندار کی چمڑی پاک ہے سوائے کتے اور حنزیر کے ان کے علاوہ تمام جانور سانپ وغیرہ کی چمڑی دباغت دينے سے پاک ہوجاتا ہے اور اس سے فائده اٹھانا بھی جائز ہے سوائے کتے اور خنزير اور ان دونوں يا ان ميں سےکسی ايک كی ملاپ سے پيدا ہونے والے جانور کے چمرے, دباغت دينے کے بعد بھی پاک نہيں ہوگا , بہرحال سانپ کے چمرے کو دباغت دينے کے بعد پرس اور عورتوں كے بيگ بنائے ہوں تو ايسےبيگ اور پرس اور د يگر اشياء كی خريد وفروخت جائز ہے، ليكن سانپ یا دوسرے مردار جانور کے چمڑے کو دباغت نہ دیا گیا ہو تو ايسے بيگ اور پر س کی خريد وفروخت كرنا جائز نہیں اس لئے کے دباغت كے بغير وه چمرا نجس ہی رہتا ہے، اس لیے نجس اشياء کی خريد و فروخت جائز نہیں ہے۔
قال امام الحرمين رحمہ اللہ فكل حيوانكان طاهراً في حياته، فإذا مات طهر جلدُه بالدِّباغ، سواء كان مأكولَ اللحم، أو لم يكن، وكل حيوانٍ كان نجسَ العينفي حياته، فلا يَطهُر جلدُه بالدِّباغ. ثم الحيوانات كلها طاهرةُ العيون إلا الكلبَ، والخنزيرَ، والمتولد منهما، أو من أحدهما، وحيوانٍ طاهرٍ.٠٠٠ يحرُم بيعُ جلدِ الميتة قبلَ الدباغ، (نهاية المطلب :٣١٦/١) قال النووي رحمہ اللہ واذا طهر بالدباغ جاز الانتفاع به بلا خلاف وهل يجوز بيعه فيه قولان للشافعي اصحهما يجوز (الحاوي الكبير :٥٦/١) ( شرح مسلم :٤٣/٢)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يوسف – آيت نمبر 076-077-078-079 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة يوسف – آيت نمبر 070-071-072-073-074-075 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0573
اگر موبائیل كے ذريعے کسی بچے کی پيدائش كے بعد اسکے کان ميں اذان اور اقامت كى آواز پہچانے سے کیا اس طرح سنانے سے سنت ادا ہوگی يا نہیں ؟
جوب:۔ اگر كسی بچے کی پيدائش پر موبائیل كے ذريعے بچے کے کان ميں اذان اور اقامت كی آواز پہچائے تو اذان كی اصل سنت ادا نہیں ہوگی اسلئے اذان كے کچھ شرائط ہيں ان ميں سے ايک شرط ہے اذان ديتے اذان کا قصد ہو اور اذان دینے والا مسلمان ہو، مميز ہوں، مرد ہو، اور يہ تمام شرائط موبائل ميں نہيں پائے جاتے ہيں، اسی وجہ سے موبائل کے ذريعہ کان ميں اذان پہچانے سے اذان كی سنت ادا نہيں ہوگی۔
علامہ دميرى رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَشَرْطُ الْمُؤَذِّنِ: الإِسْلاَمُ، وَالتَّمْيِيزُ، وَالذُّكُورَةُ. وَيُكْرَهُ لَلْمُحْدِثِ، وفي (البحر) وجهان في اشتراط النية في الأذان،. (النجم الوهاج : ٥٣/١) قال علامہ وھبۃ الزحيلى :وتشرط النية عند الفقهاء الاخرين فان أتي بالالفاظ المخصوصة بدون قصد الاذان لم يصح. (الفقه الاسلامي :٧٠٠/١) *(المجموع :١٠٦/٣) *(الفقه المنهجي:١١٥/٣)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)