فقہ شافعی سوال نمبر – 1333
فقہ شافعی سوال نمبر / 1333
امام نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد کسی سورت کے درمیان سے تلاوت شروع کرنا چاہے تو آیت شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر امام سورہ فاتحہ کے بعد شروع سورہ سے تلاوت کرے تو اس کے لیے بلند آواز بسم اللہ پڑھنا سنت ہے۔ امام سورہ فاتحہ کے بعد کچھ وقت خاموش رہے پھر درمیان سورہ سے تلاوت شروع کرے تو آہستہ آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا سنت ہے۔ البتہ کوئی درمیان سورہ سے تلاوت کے وقت بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بلند آواز سے پڑھے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوگی
قضيته أنه يسن للإمام الاتيان بالبسملة فيما لو سكت بعد الفاتحة السكوت المسنون، ثم ابتدأ من أثناء السورة
(حاشية الشرواني: 2/33)
قال الإمام سعيد باعشن؛ أنه لا يتعوذ ولا يبسمل أثناء السورة في الصلاة وقرره بعضهم على ما مر عن التحفة، فالبسملة في أثناء السورة ليست قرآنا إذ لا بسملة هناك، فيسر بها مطلقا في الصلاة كالتعوذ
(بشرى الكريم:1/220)
حاشية الجمل: 1/123
الغرر البهية: 1/104
حاشية الشبراملسي: 1/476