جواب : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ہمیں لوگوں پر تین چیزوں کے ذریعے سے فضیلت دی گئی ہے، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ،اور ہمارے لئے مکمل زمین کو سجدہ کی جگہ بنائی گئی ،اور اس کی مٹی ہمارے لئے پاک بنائی گئی ہے (مسلم 522)
اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ پوری جگہ پاک ہے سوائے اس جگہ کےجس میں نجاست لگی ہوئی ہے لہذا اگر غیر مسلم کی جگہ میں کوئی نجاست نہ ہو یعنی جگہ پاک ہو تواجازت کے ساتھ نماز پڑهنا درست ہے – (البيان 2 / 104)
Fiqhe Shafi Question No/0075 What is the ruling on praying at non Muslims place ?
Ans. Hazrath Huzaifa (RA) reports that Prophet Muhammad (SAW) said: We have given three things to the people as superiority – Our rows has been made as like of the angels rows , the whole of the earth is been made for us to make prostration, the mud of the land has been made pure for us . (Muslim522) By the light of this Hadith , we come to know that the whole of the earth is pure except for the place Which has impurity . However, if a non Muslims place does not consist any of the impurities and the place is pure , it is permissible to offer salath in that place With his permission.
اگر کوئ شخص سلام لکھ کر یا واٹس اپ پر کرے تو اس کا جواب دینے کا کیا حکم ہے؟
جواب : اگر کوئ شخص لکھ کر سلام کرے تو اس کا فوراً جواب دینا واجب ہے اور واٹشپ پر سلام بهی لکھ کر سلام کرنے کی طرح ہے اس لئے واٹشپ پر کئ گئ سلام کا جواب فوراً دینا واجب ہوگا جیسا کہ امام نووی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی کسی شخص کو دیوار کے پیچھے سے پکارے یا اس جیسے طریقے سے اور پہر سلام کرے یا سلام لکھ کر بهیجے یا قاصد کو بهیجے اور اسے پهچادے تو اس پر سلام کا جواب فوراً دینا واجب ہے
وإذا ناداه من وراء حائط أو نحوه فقال السلام عليك يا فلان أو كتب كتابا وسلم فيه عليه أو أرسل رسولا وقال سلم على فلان فبلغه الكتاب والرسول وجب عليه رد الجواب على الفور (4 / 594)
جواب : بغیر کسی عذر کے اذان کے بعد اور نماز پڑهنے سے پہلے مسجد سے نکلنا مکروہ ہے البتہ کوئی عذر ہوتو مکروہ نہیں ہے بلکہ جائزہے-
دلیل یہ ہیکہ
حضرت ابوالشعثاء فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹهے ہوئے تهے پس مؤذن نے اذان دی تو ایک شخص مسجد سے نکل گئے.حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کودیکھ رہے تھے. یہاں تک کہ وہ مسجد سے باہر نکل گئے اس وقت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شخص نے أبو القاسم صلى الله عليه وسلم کی نافرمانی کی (مسلم 655)
شافعی مسلک میں مکروہ وقت میں سجدہ تلاوت یا تحیۃ الوضو یا تحیۃ المسجد پڑهنے کاکیاحکم ہے؟
جواب: حضرت ام سلمہ رضی الله عنه فرماتی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہے کہ میں باندھی سے کہا کہ اللہ کے رسول کے پاس جاؤ اور کہو کیا تم ہمیں اس وقت میں نماز پڑھنے نہیں روکتے تھے…. تو اللہ کے رسول نے فرمایا یہ وہ دورکعت ہے جنکو میں ظہر کے بعد پڑھتا تھا لیکن ایک وفد نے مجھکو اس کے پڑھنے سے روکے رکھا ( بخاري 1234)
اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نماز چھوڑ کر سوجائے یا اسکو بھول جائے تو جب بھی یاد آجائے اسکو پڑھ لے ( سنن ابي داؤد 435)
مذکورہ روایتوں سے فقہاء نے استدلال کیا کہ اوقات مکروہہ میں فوت شدہ فرض نماز اورسنن رواتب کااداکرنادرست ہے،نیز سبب متقدم والی نماز بھی پڑھنا جائز ہے جیسا کہ تحیۃ الوضو، تحیۃ المسجد،سجدہ شکر، سجدہ تلاوت وغیرہ لیکن سبب متاخر والی سنت نمازیں مثلاً احرام کی دو رکعت اور صلاة القتل یعنی پھانسی یا قتل سے پہلے پڑھی جانے والی نماز, اسى طرح مطلق سنت نمازیں پڑھنا مکروہ ہے. اورجمعہ کے دن استواء (وقت مکروہ) میں مطلقاکسی بھی نمازکاپڑھنادرست ہے.
وتكره الصلاة عند الاستواء إلا يوم الجمعة وبعد الصبح حتى ترتفع الشمس كرمح والعصر حتى تغرب إلا لسبب كفائته وكسوف وتحية وسجدة شكر وإلا في حرم مكة على الصحيح.(١)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المراجع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
١۔ منها ج الطالبين. ١٤٥,٤٦/١
اگر امام کسی عذر کی بنا پر بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کیسے نماز پڑھے بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر ؟
جواب : حضرت عبیداللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رض کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچها : کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائے گی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جی ہاں! ایک مرتبہ آپﷺ کی بیماری سخت ہوگئ تو آپ نے فرمایا :کیا لوگوں نے نماز اداء کی ؟ہم نے کہا : نہیں، وہ تو آپ کے منتظر ہیں. …آپﷺ نے حضرت ابو بکر کو حکم بهیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑهائیں….تو حضرت ابو بکر نے ان ایام میں نماز پڑهائ پہر جب آپ نے اپنے آپ کو ہلکا پایا تو دو آدمیوں کے سہارے مسجد چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بیٹھ کر نماز پڑهائیں (مسلم 936)
فقہاء کرام نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جب امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑهائے تو جائز ہے اور اس وقت مقتدی اگر کهڑے ہوکر نماز پڑهنے پر قادر ہوتو ان کے لئے کہڑے ہوکر نماز پڑهنا ضروری ہوگا اور بیٹھ کر نماز پڑهنا درست نہیں ہوگا
فإن صلى قاعدا كان على المأمومين أن يصلوا قياما ،اذا كانوا قادرين على القيام فإن صلوا قعودا مع القدرة على القيام لم تصح صلاتهم. البيان (٢/٣٩٥)
اگر کوئ جانور قلتین سے کم پانی میں گر جاۓ پھراسے زندہ نکال دیا جاۓتو پانی نجس ہوگا یا نہیں؟
جواب: اگر کتے اور خنزیر کے علاوہ کوئ جانور قلتین سے کم پانی میں گر جاۓاور اسے زندہ نکال دیا جاۓ تو پانی نجس نہیں ہوگا جبکہ اس کے جسم پر کوئ نجاست لگی ہوئ نہ ہو. البتہ کتے اور خنزیر یا ان دونوں میں سے کسی ایک سے پیدا ہونے والے کے گرنے سے پانی ناپاک ہو جاۓگا. اس لۓکہ یہ نجس العین ہے (التهذيب: ١٦٣/١)
و لو وقع حيوان سوى الكلب و الخنزير أو المتولد من أحدهما في ماء قليل أو مائع آخر ،فخرج حيا لا ينجسه.
التهذيب (١/١٦٣)
جو مسلمان تین جمعہ چهوڑ دے شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کو بلا ضرورت چهوڑ دے تو نامہ اعمال میں منافق لکها جاتا ہے.پھراس کا نفاق نہ مٹایا جاتا ہے اور نہ بدلا جاتا ہے (مسند الشافعي 1/70)
حضرت ابو الجعد الضمری رضي الله عنه سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو شخص تین جمعہ کو ہلکا سمجھ کر چهوڑ دے تو الله تعالى اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں (أبو داؤد 1052)
ان احادیث سے فقہاء کرام نے استدلال کیا ہے کہ جو شخص ایک جمعہ یا تین جمعہ کو سستی سے چهوڑ دے تو وہ منافق ہوگا.البتہ جو پے در پے تین جمعہ یااس کے علاوہ کوئی فرض نمازاس کی فرضیت کا انکار کرتے ہوےچهوڑ دے تو وہ کافر ہوجاتا ہے.
مستحاضہ کسے کہتے ہیں اورنماز پڑھنے کے لیے اسے کس طرح طہارت حاصل کرنی چاہیے؟
جواب: حضرت عدی ابن ثابت اپنے دادا سے روایت کرتے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مستحاضہ اپنی حیض کی مدت میں نماز نہ پڑھے.اور حیض کے ایام ختم ہونے پرغسل کرکے نماز پڑھناشروع کردے
(گرچہ استحاضہ کاخون جاری رہے) اوراس کے بعد ہر نماز کے لئے وضو کرے (سنن ابی داؤد:297)
فقہاء کرام نے ان احادیث سے استدلال کیا ہے کہ استحاضہ حیض اورنفاس کی مدت کے علاوہ وقت میں نکلنے والاخون ہے، اور اسے خراب خون یا بیماری کاخون کہا جاتاہے،
لہذامستحا ضہ عورت اپنی ہر نماز کے لئے اس کا وقت داخل ہونے کے بعد وضو سےپہلے خون کو دھوکر اس جگہ کو کسی کپڑے سے باندھ دے گی یاپیڈ کے ذریعہ بندکردے گی.تاکہ خون نکلنے میں کمی واقع ہو،اس کے بعد فورا وضوکرکے نماز ادا کرے گی تاکہ کم سے کم نجاست میں نماز ادا ہوسکے. (1/137 روضة الطالبين)
الِاسْتِحاضَةُ: قَدْ تُطْلَقُ عَلى كُلِّ دَمٍ تَراهُ المَرْأةُ غَيْرَ دَمِ الحَيْضِ والنِّفاسِ. سَواءً اتَّصَلَ بِالحَيْضِ المُجاوِزِ أكْثَرَهُ أمْ لَمْ يَتَّصِلْ، كالَّذِي تَراهُ لِسَبْعِ سِنِينَ مَثَلًا. وقَدْ تُطْلَقُ عَلى المُتَّصِلِ بِهِ خاصَّةً، ويُسَمّى غَيْرُهُ: دَمُ فَسادٍ، ولا تَخْتَلِفُ الأحْكامُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ، والخارِجُ حَدَثٌ دائِمٌ، كَسَلَسِ البَوْلِ، فَتَغْسِلُ المُسْتَحاضَةُ فَرْجَها قَبْلَ الوُضُوءِ أوِ التَّيَمُّمِ، وتَحْشُوهُ بِقُطْنَةٍ أوْ خِرْقَةٍ دَفْعًا لِلنَّجاسَةِ وتَقْلِيلًا…. ثم تتوضأ المستحاضة ….ويجب أن تكون طهارته بعد الوقت على الصحيح…وينبغى لها أن تبادر بالصلاة عقب طهارتها فإن تطهرت في أول الوقت وصلت في آخِرهُ أوْ بَعْدَهُ. فَإنْ كانَ تَأْخِيرُها لِسَبَبِ الصَّلاةِ، كالأذانِ، والِاجْتِهادِ فِي القِبْلَةِ، وسَتْرِ العَوْرَةِ، وانْتِظارِ الجُمُعَةِ والجَماعَةِ ونَحْوِها، لَمْ يَضُرَّ، وإلّا فَثَلاثَةُ أوْجُهٍ. الصَّحِيحُ: المَنعُ .[روضة الطلبين (١/٢٥٠)]
دو حیض کے درمیان پاکی کی مدت کتنے دن ہوتی ہے اور اگر اس پاکی کی مدت کے اندر خون آجائے تو وہ خون کونسا شمار ہوگا ؟
جواب: فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ دو حیض کے درمیان پاکی کی مدت کم از کم پندرہ دن ہے اور اگر پندرہ دن سے پہلے خون نکل آئے تو وہ خون استحاضہ یعنی بیماری کا خون شمار ہوگا،لہذااس دوران اس پرحیض کے احکام جاری نہیں ہوگے.بلکہ خون کی صفائی وطہارت کے بعد نماز اورروزہ وغیرہ کی ادائیگی ضروری ہوگی-
أقل الطهر بين حيضتين: خمسة عشر يوما و غالبه تمام الشهر بعد الحيض ، ولا حد لاكثره ولو وجدنا امرأة تحيض على الاطراد اقل من يوم وليلة او اكثر من خمسة عشر ، او بطهر اقل من خمسة عشر ، فثلاثة اوجه . الأصح : لا عبرة به . روضة الطالبين (١/٢٤٨)
اگر رکے ہوئے پانی میں نجاست گر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’جب پانی دو قلے پہنچ جائے تو اسے کوئی چیز نجس نہیں کرسکتی‘‘ (رواہ ابوداؤد 15/1)
حضرت ابو امامہ باهلی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’پانی پاک ہوتاہے، کوئی چیز اسے نجس نہیں کرسکتی مگریہ کہ اس کا مزہ یا بو بدل جائے‘‘ (سنن ابن ماجہ 512)
فقہاء کرام نے ان حدیثوں سے استدلال کیا ہے کہ اگر رکے ہوئ پانی میں نجاست گر جائے تو پہلے اس پانی کی مقدار کو دیکھا جائے گا، اگر دو قلے سے کم ہو تو پانی نجس ہوجائے گا،چاہے اس میں کسی قسم کاتغیرپیدا نہ ہوا ہو، البتہ اگر دوقلے یا اس سے زیادہ ہو تو اس پانی کے رنگ، بو، مزہ میں سے کسی ایک میں بھی تبدیلی آجائے تو وہ پانی نجس ہوجائے گا۔ اور دو قلے سے مراد فقہاء نے 192/ لیٹر یااس سے زیادہ مقدارمتعین کی ہے۔
اذان کے وقت مغربمیں جانا اور استنجاء کے وقت اذان کا جواب دینا درست ہے یا نھیں؟
جواب: حضرت مہاجر بن قنفذ فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے درحال کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو حضرت مہاجر نے ان کو سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا یہا ں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور پھر عذر بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں ناپاک جگہوں پر اللہ کا ذکر کرنے کو ناپسند کرتا ہوں(سنن ابی داود 17)
مذکورہ حدیث سے فقہاء کرام نے مسئلہ اخذ کیا ہے کہ استنجاء کے وقت اذان کا جواب دینا مکروہ ہے
البتہ فقھاء نے اس بات کی صراحت کی ھے کہ جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہو جاے تب اذان کا جواب دے. اب رھی بات بیت الخلاء میں جانے کی تو اگر استنجاء کا شدید تقاضہ نہ ہو تو بہتر ھے کہ رک جاے اور اذان کا جواب دے کر استنجاء کرے اس لئے کہ علماء نے اذان کے وقت قرآت قرآن و ذکر و درس وتدریس اور دنیوی امور کو ترک کر کے اذان کا جواب دینے کاحکم نقل کیا ھے.
کسی نیک شخص کے ہاتھ اور پاؤں کے بوسہ لینے کا کیا حکم ہے؟
جواب: أم ابان اپنے دادا سے روایت کرتی ہے کہ انهوں نے فرمایا : جب ہم مدینہ آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ لیتے (أبو داؤد 5225)
فقہاء کرام اور شارحین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ صالحین،صاحب علم اور نیک لوگوں نیز والدین کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ لینا جائز اورمشروع ہے.
جب کہ یہ عمل صرف دینی اعتبار سےان کےاحترام اورعقیدت کی وجہ سے ہو،اگراس سے بڑھ کران کومشکل کشا یاکسی اورغلط عقیدہ سے بوسہ لیا جاے تویہ عمل حرام ہے،
واضح رہے کہ کسی دنیاداراورمالدار کوان کی شان وشوکت کی وجہ سے چومناشرعانا پسند اورحرام ہے.
امام صاحب کو سجدہ سہو لاحق ہوا اور امام نے سجدہ نہیں کیا تو کیا نماز صحیح ہوگی؟
جواب: حضرت ابو سعید خذری رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو شک کو چھوڑ دو اور یقین پر عمل کرلو،(شک کی صورت میں )کم شمار کرے تو ایک رکعت نماز پڑهے اور دو سجدے کرلے پس اگر اس کی نماز مکمل تهی تو یہ رکعت نفل ہوگی اور دو سجدیں نفل ہوگے (أبو داؤد 1024)
فقہاء کرام نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اگر نماز میں کوئ سہو لاحق ہوجائے تو سجدہ سہو کرنا سنت ہے اور اگر سجدے سہو نہ کرے تب بهی نماز صحیح ہے-
(وسُجُودُ السَّهْوِ سُنَّةٌ لِقَوْلِهِ ﷺ فِي حَدِيثِ أبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ «كانَتْ الرَّكْعَةُ نافِلَةً لَهُ والسَّجْدَتانِ» ولِأنَّهُ فِعْلٌ لِما لا يجب فلا يجب)……وسُجُودُ السَّهْوِ سُنَّةٌ عِنْدَنا لَيْسَ بِواجِبٍ.مهذب مع المجموع (٤/١٤٤)
اگر کسی وجہ سے مغرب کی نماز قضاء ہوگئ اور عشاء کی جماعت کهڑی ہوچکی ہو تو سب سے پہلے کونسی نماز پڑهی جائے گی؟
جواب: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئ شخص نماز بهول جائے یا نماز کو چهوڑ کر سوجائے تو اس کو جب بهی یاد آجائے تو پڑھ لے (مسلم 684)
علماء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ قضاء نماز کا یادآتے ہی اس کوبغیر تاخیرکے پڑھ لیناچاہئے،لہذا اگر کسی کی مغرب کی نماز قضاء ہوجائے اور عشاء کا وقت آجائے تو اگر وقت کشادہ ہو تو پہلے مغرب پڑهنا بہتر ہے اگرچہ عشاء کی جماعت کهڑی ہو البتہ اگر پہلے عشاء پڑهے تب بھی جائز ہے
ولو تذكر فائتة و هناك جماعة يصلون في الحاضرة والوقت متسع ،فالاولى أن يصلي الفائتة اولا منفردا .
روضة الطالبين (١/٣٧٦)