جمعہ _1 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1229
اگر کوئی تنگدست آدمی عمرہ کے لیے زکات کی رقم طلب کرے تو ایسے شخص کو زکات کی رقم دینے کا کیا حکم ہے؟
غریب و تنگدست آدمی پر حج اور عمرہ فرض نہیں اور زکات کا مال صرف حج و عمرہ کے لیے دینا جائز نہیں ہے ہاں اگر کوئی غریب یا تنگدست آدمی کو غربت کی وجہ سے زکاۃ دی جائے اور وہ ان پیسوں سے حج یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں ہے صرف حج یا عمرہ کی نیت سے مانگ کر لوگوں سے زکات کی رقم وصول کرنا اور حج یا عمرہ کرنا جائز نہیں
وليس الحج والعمرة من هذه المصارف عند الجمهور، فقد اختلف العلماء في جواز دفع الزكاة لمن لا يستطيع الحج أو العمرة لكي يحج ويعتمر، والمعتمد في مذهب الحنابلة الجواز، وذهب الجمهور إلى المنع، ومذهب الجمهور هو الصحيح، ورجح المنع جمع من محققي الحنابلة، منهم الموفق ابن قدامة. (فتاوي دار المصرية)
ومال إلى المنع أيضا العلامة العثيمين رحمه الله، حيث سئل رحمه الله السؤال التالي: هل يجوز للإنسان أن يعطي شيئا من زكاته لمن أراد أن يحج؟ فأجاب رحمه الله بقوله: أما إذا كان الحج نفلا فلا يجوز أن يعطى من الزكاة، وأما إذا كان فريضة فذهب بعض أهل العلم إلى جواز ذلك، وأن تعطيه ليحج الفريضة، وفي نفسي من هذا شيء؛ لأنه لا فريضة عليه ما دام معسرا، وإذا كان لا فريضة عليه فلا يجوز أن يعطى من الزكاة۔. (الفتوى/١٢١٩٠٩)
إن الأصناف الثمانية هم المستحقون للزكاة حصراً، فلا تصرف لغيرهم، لأن نص الآية أفاد الحصر، فقال تعالى: ﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ.. التوبة : ٦٠] والمقصود من (الصدقات) الزكاة المفروضة لقوله تعالى في آخر لآية ﴿ فَرِيضَةً مِّنَ اللهِ، فلا يجوز دفعها لبناء المسجد أو غير ذلك، أما غير الزكاة من الصدقات المتطوع بها فيجوز صرفها لهم ولغيرهم۔. (المعتمد:٢-١١٨)
كتاب الفقه على مذهب الأربعة:٢-١٥١
بدھ _29 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1228
مطلق سنت نماز ایک رکعت پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
مطلق سنت نمازیں دو دو رکعت یعنی ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ پڑھنا سنت ہے۔ لیکن اگر کوئی ایک رکعت ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ پڑھنا چاہے تب بھی درست ہے۔
إنْ تَطَوَّعَ بركعة فلابد مِنْ التَّشَهُّدِ عَقِبَهَا وَيَجْلِسُ مُتَوَرِّكًا كَمَا سَبَقَ بَيَانُهُ فِي بَابِهِ وَإِنْ زَادَ عَلَى رَكْعَةٍ فَلَهُ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى تَشَهُّدٍ وَاحِدٍ فِي آخر صلاته۔. (المجموع: ٤/٥٠)
ولا حصر للنفل المطلق، وله أن يقتصر على ركعة بتشهد مع سلام بلا كراهة، فإن نوى فوق ركعة فله التشهد في كل ركعتين. فتح المعين:١/١٦٩
ثُمَّ إِنْ تَطَوَّعَ بِرَكْعَةٍ، فَلَا بُدَّ مِنَ التَّشَهُّدِ. وَإِنْ زَادَ عَلَى رَكْعَةٍ، فَلَهُ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى تَشَهُّدٍ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ. إعانة الطالبين. ١/٣١٠
روضة الطالبين: ١/٣٣٦
فتح العزيز. ٤/٢٧٣
اتوار _26 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
اتوار _26 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
اتوار _26 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
جمعہ _24 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _24 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
جمعہ _24 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _24 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _24 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _24 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _24 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _24 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
منگل _21 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر. / 1227
والدین اگر کمانے پر قادر ہو لیکن نہیں کما رہے ہوں یا کمانے پر قادر نہ ہو تو اولاد کا والدین کو کمانے پر مجبور کرنے کا کیا حکم ہے؟
اسلام میں والدین کے ساتھ ہر حال میں حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ اولاد اگر مالدار ہو اور والدین کمانے سے عاجز ہوں تو اولاد پر والدین کا نفقہ واجب ہوگا اگر اولاد مالدار نہ ہو اور والدین کمانے سے عاجز یا بیمار بھی نہ ہو تب بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو کمانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور بہرحال والدین کا نفقہ اولاد ہی پر واجب ہوگا ۔
علامہ غمراوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وتجب لفقير غير مكتسب ان كان زمنا وكذا العاجز بمرض او اعمى او صغيرا او مجنونا والا بان قدر على الكسب ولم يكتسب فاقوال: احسنها تجب مطلقا للاصل والفرع او لا تجب مطلقا والثالث تجب للاصل لا فرع قلت الثالث أظهر. (السراج الوهاج ٤٧٣)
دكتور محمد مطرحي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وان كان من الاصول وجبت على الاظهر نفقته، لان الله تعالى امر بمصاحبتهم في الدنيا بالمعروف وليس من المعروف ان يكلفوا الاكتساب مع كبر السن لحرمة الوالدين. (المجموع ١٩/٤٠٣)
علامه زحيلي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ان يكون الاصل فقيرا او عاجزا عن الكسب فان كان قادرا على الكسب فتجب ايضا نفقته عند….. الشافعيه في الأظهر ، لان الله تعالى امر بالاحسان الى الوالدين وفي الزام الاباء بالاكتساب مع غنى الابناء ترك للاحسان اليهم وايذائهم هولايجوز ويقبح بالانسان ان يكلف قريبه الكسب مع اتساعه ماله. (الموسوعة الفقه الاسلامي ٨/٧٨٢)
روضة الطالبين ٩/٨٤
(البيان ١١/٢١٩)
منگل _21 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)