جمعہ _11 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1190
امام سلام پھیرنے کے بعد مقتدی دیر تک دعا میں مشغول رہے بعد میں سلام پھیرے تو مقتدی کی نماز کا کیا مسئلہ ہے؟
امام سلام پھیرنے کے بعدمسبوق کے علاؤہ دیگر مقتدیوں میں سے کوئی دعا و ذکر میں مشغول رہے اور کچھ دیر کے بعد سلام پھیرے تو اس سے مقتدی کی نماز پر کچھ اثر نہیں ہوگا اور نماز بھی ہو جائے گی۔
ولغير المسبوق بعد سلام الامام اطاله الجلوس للدعاء جاز۔ فيض الاله الملك:١٩٥
وجاز للماموم ان يشتغل اذا سلم الامام بالدعاء. حاشية الجمل:٤٠٣/٢
بدھ _9 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1189
گونگا شخص سلام کا جواب کس طرح سے دے گا؟
گونگے شخص کے لیے سلام کا جواب ہاتھ کے اشارے سے دینا مستحب ہے
والسلام بالِإشارة من غير نطق مكروه في حق الناطق، مستحب في حق الأخرس، فإن كان الذي يسلم عليه بعيدًا جمع بين اللفظ والِإشارة.. (فتاوى النووي:١٣٢)
منگل _8 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
منگل _8 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبدالعزيز السديس
منگل _8 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1188
کتنی دور سے غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کی گنجائش ہے میت کا شہر یا گاؤں سے قصر کی مسافت کے بقدر دور ہونا ضروری ہے؟
جی ہاں عام حالات میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ میت اس کے شہر سے باہر ہو چاہیے قریب والے گاوں یا بستی میں ہی کیوں نہ ہو اس میں مسافت قصر کی قید نہیں ہے البتہ نماز میت کی موجودگی میں پڑھنا افضل ہے
وَيُصَلَّى عَلَى الْغَائِبِ عَنْ الْبَلَدِ) وَلَوْ فِي مَسَافَةٍ قَرِيبَةٍ دُونَ مَسَافَةِ الْقَصْرِ۔ نهاية المحتاج: ٤٨٥/٢
(وَيُصَلَّى عَلَى الْغَائِبِ عَنْ الْبَلَدِ) وَإِنْ قَرُبَتْ الْمَسَافَةُ*۔ مغني المحتاج: ٢٧/٢
(وَيُصَلَّى عَلَى الْغَائِبِ عَنْ الْبَلَدِ) بِأَنْ يَكُونَ بِمَحَلٍّ بَعِيدٍ عَنْ الْبَلَدِ بِحَيْثُ لَا يُنْسَبُ إلَيْهَا عُرْفًا*۔ تحفة المحتاج: ١٤٩/٣
(وَ) تَصِحُّ (عَلَى غَائِبٍ عَنْ الْبَلَدِ) وَلَوْ دُونَ مَسَافَةِ الْقَصْر*۔ (حاشية البجيرمي: ٤٧٩/١)
پیر _7 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
پیر _7 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
پیر _7 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1187
کیا تنہا شخص غائبانہ نماز جنازہ پڑھ سکتا ہے یا جماعت کے ساتھ ہی پڑھنا ضروری ہے؟
اگر کوئی شخص تنہا غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔ غائبانہ نماز جنازہ درست ہونے کے لیے جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری نہیں
*امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: إذَا حَضَرَ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ بَعْدَ دَفْنِهِ وَأَرَادَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ فِي الْقَبْرِ أَوْ أَرَادَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ فِي بَلَدٍ آخَرَ جَازَ بِلَا خِلَافٍ*. (المجموع:٢٠٣/٥)
*امام نووى رحمة الله عليه فرماتے ہیں: تَجُوزُ الصَّلَاةُ عَلَى الْغَائِبِ بِالنِّيَّةِ وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِ جِهَةِ الْقِبْلَةِ وَالْمُصَلِّي يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، وَسَوَاءٌ كَانَ بَيْنَهُمَا مَسَافَةُ الْقَصْرٍ، أَمْ لَا؟ بِشَرْطِ أَنْ يَكُونَ خَارِجَ الْبَلَدِ.*. روضة الطالبين /٢٣٤
البيان: ٧٣/٣
جمعرات _3 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1186
اگر کوئی شخص نذر مانے کہ میں کالج میں پاس ہوگیا تو اتنے دن روزے رکھونگا یا اتنی رکعتیں نماز پڑھونگا کیا اس طرح نذر ماننا درست ہے اور اس نذر کا پورا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
اس طرح سے نذر ماننا درست ہے۔ اور اس نذر کا پورا کرنا ضروری ہے۔
علامہ خطیب شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: نَذْرُ الْمُجَازَاةِ وَهُوَ الْمُعَلَّقُ بِشَيْءٍ (بِأَنْ يَلْتَزِمَ) النَّاذِرُ… ذَهَبَ عَنِّي كَذَا (فَلِلَّهِ عَلَيَّ أَوْ فَعَلَيَّ كَذَا) مِنْ عِتْقٍ أَوْ صَوْمٍ أَوْ نَحْوِهِ (فَيَلْزَمُهُ ذَلِكَ إذَا حَصَلَ الْمُعَلَّقُ عَلَيْهِ). مغني المحتاج: ٣١٩/٧
امام نووى رحمة الله عليه فرماتے ہیں: نَذْرُ الْمُجَازَاةِ، وَهُوَ أَنْ يَلْتَزِمَ قُرْبَةً فِي مُقَابَلَةِ حُدُوثِ نِعْمَةٍ، أَوِ انْدِفَاعِ بَلِيَّةٍ، كَقَوْلِهِ: إِنْ شَفَى اللَّهُ مَرِيضِي، أَوْ رَزَقَنِي وَلَدًا، فَلِلَّهِ عَلَيَّ إِعْتَاقٌ، أَوْ صَوْمٌ، أَوْ صَلَاةٌ. فَإِذَا حَصَلَ الْمُعَلَّقُ عَلَيْهِ، لَزِمَهُ الْوَفَاءُ بِمَا الْتَزَمَ (روضة الطالبين: ٤٨٠)
كنز الراغبين:٦٩٠/٢